music

موسیقی کا ایک نادر نام

EjazNews

محسن رضا کا شمار پاکستان کے نامور اورعالمی شہرت یافتہ کمپوزرز میں ہوتا ہے۔ اپنے 46سالہ میوزک کیرئیر میں انہوںنے 4 ہزار سے زائد دھنیں بنائیں اورریڈیو ٹی وی کے لیے 5سو 14پروگرام کیے۔ 2010ءمیں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ملا۔ 23مارچ کو انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا کیا۔ کمپوزنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محسن رضا نے زندگی میں بڑے دکھ اور حوادث دیکھے۔ پہلا حادثہ انہیں اس وقت پیش آیا جب موسیقی سے محبت میں انہیں گھر سے دربدر کر دیا۔ ممتا کی محبت تو بیٹے کی ہر حرکت برداشت کر لیتی ہے۔ مگر راہ راست پررکھنے کی کوشش میں ان کے باپ نے انہیں گھر سے نکال دیا وہ تین سال اپنے ماں باپ سے دور کبھی ایک کزن تو کبھی دوسرے کزن کے گھر رہے۔ یہ وقت بڑا تلخ تھا پیسے تھے نہ کھانے پینے کا سامان۔ عزیز رشتہ دار بھی کوئی زیادہ امیر نہ تھے لیکن انہوں نے موسیقی میں نام کمانے کی جستجو ترق نہ کی مگر دنیا انہیں موسیقی کے ایک کمپوزر کی شکل میں دیکھتی رہی۔
انسان مرتے دم تک مطمئن نہیں ہوتا ، فن موسیقی میں بھی بے پناہ راستے ہیں۔ میلوڈی ، پیروڈی اورغزلوں کا الگ راستہ ہے شاعری کی ہرصنف کے لیے الگ ہی طرز کی دھن بنتی ہے۔ اس میں مہارت حاصل کرنے کی دھن محسن رضا پر سوار تھی اس لیے وہ کبھی مطمئن نہیںہوا آج بھی وہ نئی سے نئی دھن کی تلاش میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ایک اچھے گانے کی تشکیل ان کی اولین کوشش ہوتی ہے چاہئے وہ کمرشل ہو یا وہ کوئی قومی نمغہ ہو ، کوئی صوفی دھن ہو یا کوئی جوش و جذبے کا موقع وہ ہر طرح کی دھن بنانے کے لیے مکمل انتظام کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیںسارنگی اور تبلے کا اپنا مختلف انداز ہے۔ میلوڈی گانے پر ستار نہیں بجایا جاسکتا۔ اسی طرح بیولا فیلوڈ اورہر طرز کی اپنی ہی دھن بنتی ہے۔ وہ اس طرف بہت دھیان دیتے ہیں۔
وہ سب سے پہلے میلوڈی بناتے ہیں ، اس سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ لکھے گئے نغمے غزل میں عنصر خوشی کا ہے یا غمی کا اسی کے پیش نظروہ دھن تشکیل کرتے ہیں ۔
محسن رضا کا پہلا نغمہ 1971ءکی جنگ میں پیش کیا۔پرویز مہدی کا مشہور زمانہ نغمہ کی بھی میوزک بھی انہوں نے دی۔ نغمے کے بول تھے” وطن کے محافظ جری پاسبا ں ہمیشہ رہے تیری ہمت جواں “ اس نغمے کے منظر عام پر آتے ہی ان کی میوزک لائف کا آغاز ہوا ۔ نغمے کی سٹوڈیو میں اس کے بعد ان سے ایک گرامو فون کمپنی نے رابطہ کیا۔ اس وقت گرامو فون کمپنی ہی میوزک کے پھیلاﺅ کا بڑا ذریعہ تھی۔ کیسٹ بعد میں آئیں۔ گراموفون کمپنی نے انہیں نور جہاں کی ایل پی کے لیے بلایا۔ یہ ایل پی ان کی اہم ریکارڈنگ تھی۔اس سے پہلے وہ نور جہاںکی آواز میں سفر منزل شب یاد نہیں جیسے نغمے بھی ریکارڈ کرا چکے تھے۔پھر فریدہ خانم کے گانوں کی موسیقی انہوں نے کمپوز کی۔
محسن رضا نظم کی موسیقی بنانے میں کچھ دقت محسوس کرتے ہیں ۔ بلکہ کبھی کبھی وہ اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ نظم کی موسیقی بنانا دقت طلب کام ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ سر پیر سے مراد ان کی یہ ہے کہ اس کا کوئی فارمولا یا غزل کی طرح مکمل بحر نہیں ہوتی۔ کوئی جملہ چھ لفظ کا ہے تو کوئی دو لفظ کا ۔کہیں چھ لائنیں آگئیں تو کہیں پانچ لائنیں آگئیں ۔ اس طرح مصرعوں کی تعداد میں بھی فرق ہوتی ہے۔ اس لیے نظم کو کمپوز کرنے ان کے لیے تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ محسن رضا میوزک ترتیب دیتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ سامنے گلو کار کون ہیں ۔ مہدی حسن ہوں گے ، نور جہاں کی میوزک کا انداز مختلف ہے۔ مہناز یا پرویز صاحب کا انداز اپنا اپنا تھا۔ وہ پہلے گلو کار کی گائیکی کے اندازکو سمجھتے ہیں اور پھرہی موسیقی ترتیب دیتے ہیں۔ زنانہ آواز ذرا باریک ہوتی ہے۔ موسیقی ترتیب دیتے وقت اس باریکی کا خیال کرنا پڑتا ہے۔ پھر مردکے گلے کی ربط اور سٹائل اور ہوتا ہے۔ پھر کچھ گلوکاروں کی آواز کی رینج زیادہ اور کچھ کی کم اگر کسی نے آواز کواٹھانا ہے تو موسیقی مختلف ہوگی۔ پھروہ آواز کی خوبیوں اور خامیوں کو بھی مانیٹر کرتے ہیں جس سے آواز کی خامیاں دب جائیں اور خوبیاں ابھریں۔ ریہرسل میں بھی انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ یہ گلوکار شاعری کا بوجھ کہاں تک اٹھا سکتا ہے۔ اسی لیے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موسیقاراگرچاہئے توکسی بھی گلوکار کی خامیوں کوچھپا کر اپناکردار ادا کر سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو نام کمپوزر کا آتا ہے اس نے کیا کیا۔
جو لوگ یہ کام کررہے ہیں محسن رضا ان سے سخت نالاں ہیں۔ ادب اور کمپوزنگ کے گرتے ہوئے معیار سے سخت نالاں ہیں۔ اس وقت ان کے نزدیک ہو رہی ہے نجی محفلوں میں وہ نئے شاعروں اور کمپوزروں کی اکثریت پربرہم دکھائی دیتے ہیں۔وہ میلوڈی نہیں ہے جو آپ کو نثار بزمی یاد دوسروں کے کاموں میں نظر آرہی ہے۔ جو آپ کو استاد نظرحسین، سہیل رانا کے کام میں نظر آرہی ہے۔ ان کے نزدیک آج کے کمپوزروں نے پرانے کمپوزروں کے کام میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ بلکہ معیارگرا دیا ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں اب میوزک نہیں شورہے ردھم بکھر رہا ہے۔ وہ نجی محفلوں میں سہیل رانا، بزمی، ماسٹر عبداللہ، نوشاد اور ایسے دوسرے موسیقاروں کو یاد کرتے ہیں ۔ خواجہ خورشید کے ادبی حوالے کو مانتے ہیں ۔ خواجہ خورشید بقول محسن رضا کے جو پاکستان میں کسی نے نہیں کیے۔
محسن رضا کے محسن سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید قریشی ہیں۔ انہوں نے محسن رضاکو ہارس اینڈ کیٹل شو میں بلایا۔ غیر ملکی فنکاروں کے شو میں آنے کی دعوت دی۔ اردن ، ترکی اور نائیجریا کے موقع پر بھی اپنی دھنیں پیش کیں۔ اگر جاوید قریشی نہ ہوتے تو شاید وہ فن کی دنیا میں پیچھے رہ جاتے۔
جاوید قریشی کو بہت زیادہ موسیقی کاشوق تھا۔ انہوں نے آرٹسٹوں کے لیے بہت کچھ کیا۔ خاص طور پر انہو ں نے محسن رضا کو ان ان راستوں سے نکالا جوکوئی کسی کے لیے کم ہی کرتا ہے۔ انہوں نے اتار چڑھاﺅ بھی سکھائے۔ جبکہ کلاسیکی تعلیم ماسٹر نذرحسین سے وہ پہلے ہی لے چکے تھے وہ خواجہ خورشید انور کو بھی اپنا استاد مانتے ہیں۔ جاویداحمد قریشی کا گہرا ادبی حوالہ بھی تھا وہ اپنی فوتگی سے پہلے بھی محسن رضا کو اپنی غزل سنائی۔ چپ اگر تھے بھرم توقائم تھا
بات بھی کھوئی التجا بھی کرتے
ان کی ایک اورغزل تھی
آشیانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو
محسن رضا لاہور میں پیدا ہوئے یہی پلے بڑھے۔ یہ پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ایک بھائی کا انتقال ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس فیلڈ میں قدم رکھا تھا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ پانچ چھ سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے ابوکی ورکشاپ تھی ۔ سکول آتے جاتے وہ ریڈیو سیلون پر موسیقی سنا کرتے تھے۔ انہیں اس موسیقی میں خاص کشش دکھائی دیتی تھی۔ لو سجنا بہا ر آئی جیسے گانے ان کے بڑھتے قدموں کوروک لیتے تھے۔ انہیں محسوس ہوتا تھا شاید سکول ان کی منزل نہیں ان کی منزل یہ گانے ہیں۔ اسی زمانے میں مہدی حسن کی غزل نہ گواﺅ ؟؟؟یہ غزل بھی وہ ریڈیو کے سامنے بار بار سنا کرتے تھے۔ اب کے ہم بچھڑے تو شاید خوابوں میں ملیں “یہ غزل بھی اتنی بار سنی کہ انہیں از بر ہو گئی۔ انہیں لگتا تھا کہ سکول سے واپسی پر گھر جاتے ہوئے انہیں کوئی چیز روک رہی ہے۔ انہیں ان آوازوں میں کوئی مقناطیسی کشش محسوس ہوتی تھی۔
اسی کشش کو انہوں نے سمجھ لیا۔ انہیں پتہ چلا کہ انہیں آواز ہی روکتی ہے اور کشش بھی ہے ۔ وہ گورنمنٹ کالج میں تھے۔ انہوں نے ایف اے میں تعلیم چھوڑ دی۔ میوزک اورتعلیم کو ساتھ ساتھ چلانا ممکن نہ تھا۔ ایک طر ف والد کا ڈنڈا تھا جو ہمیشہ کالج جانے کو کہتے تھے اور دوسری طرف موسیقی تھی جو راستے میں ہی روک لیتی تھی۔
پی ٹی وی اس زمانے ایک گانے کی کمپوزن کے ایک سو پچپن روپے دیتا تھا۔ یہ 1972-73ءکی بات ہے ایک سو پچپن روپے میں کہاں گزارہ ہوتا ہے۔ انہوں نے موسیقی میں نئے نئے تجربے بھی کیے ۔ بلکہ الیکشن ریفارمز کا بانی محسن رضا کو مانا جاتا ہے۔ آج لوگ ڈی جے بٹ کو مانتے ہیں تحریک انصاف اپنے جلسوں میں موسیقی لانے کا کریڈٹ لیتی ہے ۔ یہ کام محسن رضا بھٹو دور میں کر چکے ہیں۔ بلکہ یہ انہی کی ایجاد ہے۔ اور ان کا مشہور گانا تھا ”بھٹوکے نارے بجیں گے “ لمبی لمبی خشک تقریریں لوگوں کو پریشان کر دیتی تھیں اس لیے انہوں نے موسیقی شامل کرکے اسے خوشگوار بنانے کی کوشش کی ۔ اس زمانے میں پیپلز پارٹی میں ان کے بھائی ہوا کرتے تھے۔ چھوٹا بھائی بھی انہی کا ورکر تھا۔ خود اس نے محسن سے کہا کہ کچھ کرو توانہوں نے دھن بندی کی اوریہ گانا انہوں نے خود لکھا۔
بھٹو کے نارے بجے گے کے بعد انہوں نے نینا رے نینا مشہورگانا بھی لکھا۔ کیونکہ شاعروں کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے وہ شاعربھی بن گئے تھے۔ اس زمانے میں ایسے لوگوں کو ڈمی شاعر بھی کہا جاتا تھا۔بلکہ ان کے کئی بول ایسے تھے جن کے ایک د و بول انہوں نے لکھے اور مکمل کسی اور نے کیا۔ میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے پورا کرتا کوئی اور ہے۔
محسن رضا نے موسیقی کے چاروں شعبوں میںکام کیا۔ موسیقی بھی ترتیب دی۔گانے بھی لکھے، دھنیں بھی بنائیں ۔ریڈیو پر بھی کام کیا۔ جو سب سے پہلے تلفظ سکھاتا ہے۔ حبیب جالب اور فیض جیسے کلاسیکی شعراءکو بھی پڑھا ۔ بچوںکے گانے لکھنا اور موسیقی بنانا دیگر موسیقی سے بہت مختلف ہے۔ محسن رضا کو اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ سہیل رانا اس فن کے بادشاہ مانے جاتے تھے۔ لیکن جاوید قریشی نے رہنمائی کی اور یہ کام ان سے زبردست کروایا۔ انہوں نے چاروں صوبوں کے میوزک کو بھی ایک میوزک بنایا۔مجھے یاد ہے کہ محسن رضا چیف سیکرٹری سے ناراض ہو کر گھر آگئے تھے لیکن جاوید قریشی نے بھی ہمت نہ ہاری اور انہیں سوچنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا۔ اس ایک ہفتے میں تمام پہلوﺅں پر غور کرنے کے بعد محسن رضا راضی ہو گئے۔ یہ ان کا نیا عروج تھا۔ وہ کہتے تھے میں نورجہاں کی بات کرتا ہوں اور آپ بیچ میں بچے لے آتے ہیں۔ انہیں فکر یہ تھی کہ ان کے پاس بچے نہ تھے وہ بچے کہاں سے لاتے لیکن پھر جاوید صاحب نے انہیں نیا راستہ قرار دیا۔ محسن رضا بار بار سوچتے رہے کہ یہ واقعی نیا راستہ ہے پھر وہ اس چائلڈ موسیقی کی طرف بھی آئے۔ وہ ایک گھنٹہ کی بجائے پانچ پانچ گھنٹہ ریہرسل کرواتے تھے لیکن ان کےیہ بچے فن موسیقی سے نکل گئے ہیں۔
وہ 19 سال کی عمر میں موسیقی کی طرف آئے۔ وہ کہتے ہیں آپ کوہزاروں ، ڈاکٹر انجینئر اور لاکھوں پولیس اہلکار مل جائیں گے لیکن موسیقار ختم ہوچکے ہیں استاد فتح علی خان، وجاہت علی ، طافو ، کریم حیدر، ذوالفقار ، کراچی میں نیاز احمد اور ان ناموں کے بعد مزید نام ختم ہوجاتے ہیں۔ سی ایس پی آفیسروں کے لیے حکومت کے پاس سب کچھ ہے لیکن موسیقی کو حکومت اچھوت اور بیماری سمجھتی ہے۔ وہ واحد کمپوزر ہیں جن ایک پروگرام میں صدر نے پچاس لاکھ اور دوسرے پروگرام میں ایک کروڑ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان صدر مشرف صاحب نے کیا وہ آرٹسٹوں کے لیے کام لیکن ٹی وی کی انتظامیہ نے کیلے لگانے والے کو بھی دے دیا۔ حالانکہ سابق صدر مشرف نے دو دفعہ کہا کہ ایک کروڑ روپیہ میں صرف فنکاروں کے لیے دے رہا ہوں۔ پانچ چھ کمپوزروں کے لیے بھی حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ حکومت نے لیجینڈ کو جو پندرہ ہزار دے رہے ہیں اس میں بھی ٹیکس کاٹ رہے ہیں۔
حکومت نے انہیں تین صدارتی ایوارڈ سے نوازا اور باقی ان کے پاس ساٹھ ہیں اور ٹرافیوں کا توان کے پاس کوئی شمار نہیں۔اس میں مہدی حسن اور مہناز کی فیس بھی تھی جو انہیں پوری نہ ملی۔
ایک مرتبہ ٹی وی کے ایک سابق پروڈیوسر کو محسن رضا نے کوئی جواب دے دیا ان پر پی ٹی وی کے دروازے بند کر دئیے گئے۔ وہ آٹھ سال تک اس ادارے میں داخل نہیں ہوسکے۔ پھر ان کے ایوارڈ کے نام کاٹ دے دیتے تھے۔ فیس اگر بیس ہزار بن رہی ہے تو تین ہزار دے دیتے تھے۔ سترہ ہزار یہ کہہ کر کاٹ لیا کہ یہ بڑھ نہیں سکتی۔ جس آدمی نے ان کے ساتھ چالیس سال کام کیا ان کو تین ہزار اور نو آموز کو چالیس اور پچاس ہزار دئیے جاتے ۔ یہ غم آج بھی ان کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ جس پروگراموں کو پروڈیوسروں کو کیش کرواتے ہیں وہ پروگرام بھی محسن رضا نے شروع کیے۔ ان کا آج نام بھی نہیں لیتے۔ محسن رضا ایک پروگرام میں نور جہاں کو لے کر گئے فی پروگرام دس ہزار طے ہوا لیکن آخر میں تین ہزار تھما دئیے گئے۔ نور جہاں نے جب معاہدہ پڑھا تو اس میں تین ہزار لکھے تھے۔ نور جہاں نے تین ہزار کا لفظ پڑھتے ہی دستخط کرنے سے انکار کر دیا وہ بہت خوش لباس اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ اس روز بھی انہوں نے پنک رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی بہت خوبصورتی ساڑھی تھی انہیں دو چار ہزار کی فقر نہ تھی لیکن وہ اپنا معیار قائم رکھنا چاہتی تھی۔ معاہدہ دیکھتے ہی انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا محسن میاں آپ نے دیکھا ہے یہ کیا لکھا ہے۔ میں نے کہا میں دیکھ نہیں سکا آپ بتائیے کیا لکھا ہے۔ محسن رضا خود بھی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ محسن کی اپنی حوائیاں اڑ گئیں کہ اتنی بڑی شخصیت کو وہ صرف تین ہزار دے رہے ہیں۔ لیکن پھر انہوں نے ایک دم اس بات کو سنبھالا انہوں نے کہا کہ میڈم آپ نے ستر ہزار کی ساڑھی پہن رکھی ہے پچاس ہزار کا پرفیوم لگا رکھا ہے۔ ساٹھ ہزار کا آپ کیا کریں گی یہ پروگرام ملک کی تاریخ بنے گا میڈم میری بات مان گئیں اور اس طرح ان کی ٹی وی پر انٹری ہوئی۔
پروگرام کرتے ہوئے میڈم محسن رضا سے ساڑھی ڈسکس کیا کرتی تھی آج کون سی ساڑھی پہنوں ، پرفیوم کون سا لگاﺅ ، جھمکے کون سے پہنوں ، لیکن آج ایسے پروگرام کا ذکر کرتے وقت محسن رضا کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔آج نور جہاں اسٹائل ٹی وی پروگرام میں محفوظ ہے۔
نور جہاں ، مہدی حسن اور فریدہ خانم جیسے فنکاروں کو ٹیونر کی ضرورت نہیں تھی ۔ آج تو ٹیونرکے ذریعے آواز کو بیلنس کرتے ہیں۔ اچھی موسیقی بنانے پر نور جہاں نے کئی مرتبہ محسن رضا کو پانچ پانچ ہزار روپے کا انعام بھی دیا۔ میڈم نور جہاں اس کا تعارف وہ ہندوستان میں بھی گاتی رہی ہیں۔
ایک دن محسن رضا نے ایک بڑے گلوکار سے کہاکہ میڈم نور جہاں سے تعارف کروا دو انہوں نے کہا کہ وہ بہت ٹیڑھی خاتون ہیں پتہ نہیں راضی ہوں نہ ہوں خان صاحب بھی ان سے بہت پیار کرتے تھے۔ محسن رضا نے سمجھا شاید خان صاحب سچ کہہ رہے ہیں انہیں ایک دن فون آیا کہ محسن رضا سے بات کرنی ہے۔ وہ فریدہ خانم کا ایک پروگرام دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے ایک بندہ محسن رضا کے پاس بھیجا ۔ اس نے سکیورٹی والے کے پاس ایک بندہ بھیجا کہ محسن رضا کو بلاﺅ۔ انہوں نے اپنا بھرم رکھنے کے لیے منع کر دیا ۔ دو ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ تیسرے ہفتے میں وہ باری سٹوڈیو میں موجود تھے۔ نورجہاں پروگرام کرکے سٹوڈیو سے باہر نکل رہی تھیں وہاں امرودوں کا باغ تھا۔ محسن رضا میڈم کو دیکھ کر کھسیانے ہو گئے اور ایک درخت کے پیچھے چھپ گئے کہ میڈم کہیں خفا نہ ہو جائیں۔ میں درخت کے پیچھے چھپا تھا اس کے اسسٹنٹ نے دیکھ لیا اور کہا کہ میڈم وہ محسن رضا کھڑے ہیں ۔
محسن رضا کو دیکھتے ہی انہوں نے کہا کہ میں آپ کو تین ہفتے سے ڈھونڈ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھوڑ گاڑی میں بیٹھو اور وہ نور جہاں کے گھر پہنچ گئے۔ تیرے پیار میں یہ دھن بنانے کو کہا محسن صاحب نے کہا کہ یہ پہلے بھی کئی گلوکار گا چکے ہیں۔ پھر انہوں نے کئی تین چار اورغزلیں سنائیں۔ پھر ان کے ساتھ ایسا سلسلہ ہوا کہ محسن آج بھی نور جہاں کو بھول نہیں پائے۔ وہ اگر نہ گئے تو نور جہاں انہیں خود لینے آجاتی تھیں۔ وہ محسن کی والدہ کو کہتی تھیں کہ جب میں انہیں اپنے بچوں کی طرح سمجھتی ہوں لوگ مجھے ڈھونڈتے ہیں میں ان کو ڈھونڈتی ہوں میری والدہ بھی کہا کرتی تھی ان کا خیال کریں یہ آپ کی محسن ہیں۔ محسن رضا آج بھی نور جہاں کی محربانیوں کو بھول نہیں پائے۔ میڈم نورجہاں گھریلو معاملات پر بھی محسن رضا سے مشورہ کیا کرتی تھیں۔ کپڑوں اور زیورات کا ان کا اپنا ذوق تھا۔ ان چیزوں کا ان پر اثرہو جاتا تھا۔ فریدہ خانم نے محسن رضا کیلئے ایک پروگرام چھوڑ دیا تھا کہ اگر یہ پروگرام نہیں کریں گے تو میں بھی نہیں کروں گا۔ لطیف وڑائچ صاحب نے کہا کہ یہ کل کا لڑکا ہے کہیں کر پائے گا یا نہیں کہیں پروگرام پٹ نہ جائے۔ لیکن فریدہ خانم نے انہی کے نام پر اسرار کیا۔ محسن رضا نے وہ زمانے بھی دیکھا ہے جب بڑے بڑے شاعر موسیقار کے پاس آکر بتاتے تھے کہ یہ لفظ ایسے بولنا ہے جس سے ان کے فن میں نکھار آیا۔ جس وقت فکرے نے ختم ہونا ہے اسی وقت وہ فکرے کو ختم کراتے تھے۔ لیکن اب تو لفظوںکو ایسے توڑتے ہیں کہ موسیقی مر جاتی ہے۔ محسن رضا موسیقی کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی مار کھائی ہے۔ اوراس عمر میں بھی سیکھ رہے ہیں۔ حکومت کو ان سے کچھ سیکھنا چاہئے اور فن موسیقی کی قدر کرنی چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام سیاستدانوں نے پی ٹی وی کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا:حفیظ طاہر