murad_ali_shah

ہم نے اپنے فرنٹ لائنرز کے نام عید کردی ہے انہیں عید کا تحفہ دینے کیلئے گھروں میں رہیں:وزیراعلیٰ سندھ

EjazNews

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پورے پاکستان میں اب تک ایک ہزار 415 ڈاکٹرز اور طبی عملے کے اراکین متاثر ہوئے ہیں جو مجموعی کیسز کا 3 فیصد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں 364 فرنٹ لائنرز کورونا سے متاثر ہوئے جو کووِڈ 19 کے مریضوں کے ساتھ کام کررہے ہیں جس میں سے 27 صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 7 زندگی کی بازی ہار گئے جن میں ڈاکٹر عبدالقادر سومرو، ڈاکٹر عبدالحق، ڈاکٹر فرقان الحق، ڈاکٹر زبیدہ سراج، ڈاکٹر انصار ابراہیم، ڈاکٹر بشیر قاسم اور ڈاکٹر نواز گاہوتی شامل ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پولیس کے 274 اہلکار کورونا سے متاثر ہوئے جس میں سے 59 صحتیاب ہوگئے جبکہ 210 زیر علاج ہیں تاہم 5 جاں بحق ہوگئے اور رینجرز کے بھی 20 جوان اس وائرس سے متاثر ہوئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے فرنٹ لائنرز کے نام عید کردی ہے انہیں عید کا تحفہ دینے کے لیے گھروں میں رہیں اور خود احتیاط کریں کیوں کہ جان کی قیمت کے آگے عید کی قربانی کوئی قیمت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اور کوئی حل نہیں ہے کہ ہمین اپنے نظام ِ صحت کو ایک قدم آگے رکھنا ہے اس کے لیے ہمیں خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ رکھنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے اوپر الزام ہے کہ میں سیاست کرتا ہوں تو ہاں میں سیاست کرتا ہوں لوگوں کی جان بچانے کی سیاست کرتا ہوں، پہلے دن سے میں حقیقت پیش کررہا ہوں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہم فرائض کی انجام دہی کے دوران وفات پانے والے پولیس اہلکاروں کو ایک پیکج دیتے ہیں وہ پیکج ہم نہ صرف سرکاری بلکہ نجی شعبے کے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی دیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے کوششیں کی ہیں جس میں خاصے مسائل بھی سامنے آئے ہیں کیوں کہ اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی سامنے نہیں آئی لیکن میں یہ کہنا چاہوں گا کہ صوبہ سندھ کے لوگوں سے پاکستان کو راستہ دکھایا ہے۔
انہوں نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد کم ہے لیکن اس میں صوبہ سندھ کے عوام کی قربانی شامل ہے جن پر لاک ڈاؤن لگا کر وائرس کا پھیلاؤ کو روکا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم نے لاک ڈاؤن لگانے میں جلد بازی سے کام لیا لیکن اگلی ہی سانس میں کہا جاتا ہے کہ ہم نے بروقت اقدامات کیے اس لیے پاکستان میں یہ وبا قابو میں رہی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میری پریس کانفرنس کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس عید کو فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں، طبی عملے کے اراکین کے علاوہ، پولیس، رینجرز، ریونیو اور دیگر اہم اداروں کے ورکرز کے نام کردیں۔
انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ یہ عید الفطر سادگی سے منائی جائے اور بتایا کہ میں نے اس عید پر نئے کپڑے نہیں بنائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، سپریم کورٹ کے ریمارکس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے حیرت ہوئی جب کہا گیا کہ آپ نے نئے کپڑے نہیں سلوانے لیکن اوروں کو تو سلوانے ہیں کیوں کہ میرے خیال میں اس ماحول میں نئے کپڑوں کی بات کرنا مناسب نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کے بڑے نقصانات ہوئے ہیں، غربت بڑھ گئی ہے میں اس پر بات کروں گا جب موقع آئے گا کیوں کہ یہ کورونا کی وجہ سے نہیں آپ کی اپنی نا اہلی کی وجہ سے سب کچھ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مان لیا جائے کہ کورونا کی وجہ سے غربت بڑھ گئی ہے تو اسی وجہ سے سادگی سے عید منانے کا کہہ دیا جائے کیوں کہ میں اگر نئے کپڑے سلوا بھی لوں لیکن جو مزدور نہیں سلوا سکتا اسی کے اعلان کردیں کہ پورے پاکستان میں سادگی سے عید منائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ جب بھی اسمبلی سیشن ہوگا اور اسپیکر بلائیں گے تو وہاں میں ہر بات کا جواب دوں گا تا کہ سب کو معلوم ہو کہ اس وبا کے دوران کس نے کیا کیا ہے، کس طرح سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی، کس طرح لوگوں کی زندگی سے کھیلنے کی کوشش کی گئی اس میں بہت لوگ ملوث ہیں لیکن اس وقت میں قومی اتحاد چاہتا ہوں۔
انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ ملک بھر میں عید سادگی سے منانے کا اعلان کریں۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ وبا سے گنجان آبادی والے علاقے متاثر ہوتے ہیں اس لیے کراچی اور لاہور سب سے متاثر ہوئے تو جہاں کیسز زیادہ ہوں گے اقدامات بھی وہیں اٹھائے جائیں لیکن پھر بھی کہا گیا کہ دشمنی کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اعداد و شمار کا دھوکا کیا گیا جس پر میں بعد میں بات کروں گا، چند روز قبل قومی مالیاتی کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن دیکھا وہ غیر آئینی ہے جس پر میں نے وزیراعظم کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس کو واپس لیں۔
انہوں نے کہا کہ میں بتاتا ہوں کہ آئین کو کس طرح پامال کیا جارہا ہے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 90 روز میں ہونا چاہیے لیکن سوا سال بعد دسمبر کو ہونا تھا اور اس کے بعد مارچ میں ہونا تھا لیکن کوئی فکر نہیں ہے کہ آئین پر میں عمل کرتا ہوں۔
اسی طرح قومی اقتصادی کونسل کے سال میں 2 اجلاس ہونے ہیں لیکن جب سے ’موصوف‘ وزیراعظم بنے ہیں ایک اجلاس بھی نہیں کیا آخری اجلاس مئی 2018 میں ہوا تھا۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہ کوئی کیوں نہیں پوچھتا جبکہ اس میں کوئی مبہم چیز بھی نہیں، یہ کیوں چیک نہیں کیا جاتا ہے کہ آئین پر عملدرآمد ہورہا ہے کہ نہیں۔
انہوں نے ایک مرتبہ پھر عوام سے درخواست کی کہ گھروں سے نہ نکلیں خاص کر اپنے گاؤں دیہاتوں میں نہ جائیں کیوں کہ اگر وہاں یہ وبا پھیل گئی تو کیا حال ہوگا جبکہ وہاں سہولیات شہروں کے مقابلے ناکافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ حکومت نے ملازمین کو تنخواہ 18مئی تک ادا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا