teeth_child

دانتوں کی بیماریوں کا غذا سے علاج

EjazNews

دیکھنے میں آرہا ہے کہ لوگوں کے دانت جلدی کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اس کی اہم وجہ یہی سمجھی جارہی ہے کہ پہلے زمانے میں انسان بہت سخت خوردنی اشیاءکا استعمال کرتا تھا، جس سے دانتوں اور مسوڑھوں کی مکمل ورزش ہو جاتی تھی لیکن آج کل زیادہ تر ، پکی ہوئی ملائم غذائیں استعمال کی جارہی ہیں۔ جو آسانی سے بغیر زیادہ محنت کے کھائی جا سکتی ہیں جیسے کہ چینی، بسکٹ، ٹافی، چاکلیٹ، آئس کریم، وغیرہ کا رواج اور استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ یہ اشیاءدانتوں کی دق کے لئے کچھ حد تک ذمہ دار ہیں۔
کچھ بچوں کے دانت بچپن ہی سے بہت کمزور اور زرد ہوتے ہیں۔ اس کی اہم وجہ حمل کے دوران ان کی ماں کا صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال نہ کرنا ہو سکتا ہے۔ حاملہ عورتوں کودودھ اور کیلشیم کا باقاعدہ استعمال کرنا چاہیے۔ اس سے بچے کے دانت اچھے رہیں گے۔
دانتوں کی حفاظت کے لئے کچھ بھی کھانے کے بعددانتوں کی اچھی طرح صفائی کریں، تاکہ دانتوں کے درمیان پھنسے خوردنی اشیاءکے ذرات نکل جائیں۔ کھانا ٹھیک طرح سے خوب آہستہ آہستہ اور چبا چبا کر کھانا چاہیے۔
دانتوں کی تندرستی پر سارے جسم کی تندرستی کا انحصار ہے۔ دانتوں کے خراب ہونے کا تعلق پیٹ سے ہے۔ دانتوں کی بیماری میں مبتلا شخص قبض، بد ہضمی، بھوک کی کمی کا شکار رہتا ہے۔ اس لئے دانتوں کی بیماریوں کا علاج کراتے وقت پیٹ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ چینی اور دوسری میٹھی چیزیں کھانا دانتوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ مٹھاس دانتوں سے چپک کر دانتوں کو گلا دیتی ہے۔ اس لئے جب کبھی بھی کچھ کھائیں خاص طور پر میٹھی چیزیں تو دانتوںکو انگلی سے رگڑ کر صاف کریں اور کلی ضرور کریں ۔ یہ احتیاط زندگی بھر دانتوں کو صحت مند رکھے گی۔
دودھ:
اوپر کا دودھ پینے سے نوزائیدہ بچوں کے دانت جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ ماں کا دودھ پینے والے بچوں کے برعکس اوپر کا دودھ پینے والے بچوں کے دانت عمر بڑھنے کے ساتھ جلدی خراب ہونے لگتے ہیں۔
دودھ پینے والے بچے شکر کا استعمال کرنے سے میٹھے کا عادی ہوجاتے ہیں۔ اس لئے تین چار برس کے ہونے تک وہ میٹھی چیزیں کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جس سے آگے چل کر ان کے دانت جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر اس حالت میں پہلے سے ہی احتیاط کی جائے تو بچوں کے دانت زیادہ مضبوط ہو جائیں گے اور ان کے جلدی خراب ہونے کا خطرہ بھی نہیں رہتا۔ دودھ میں ملائی جانے والی چیزیں ہی بچوں کے دانت خراب کرتی ہیں اس لئے دودھ میں چینی نہ ملائیں۔
لیموں:تازہ پانی میں لیموں نچوڑ کر کلی کرنے سے دانتوں کی بیماریوں سے آرام ملتا ہے۔ لیموں کے چھلکے رگڑنے سے دانت صاف، مضبوط اور چمکدار ہوتے ہیں۔
دانتوں کی صفائی:یہاں گھریلو منجن استعمال کرنے کے طریقے بتا ئے جارہے ہی جو دانتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ دانتوں کو تندرست رکھنے اور انہیں عام بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے۔
تیز پات:خشک تیز پتوں کو باریک پیس کر ہر تیسرے دن ایک بار منجن کرنے سے دانت چمکنے لگتے ہیں ۔
لیموں :لیموں کے چھلکوں کو خشک کر کے پیس لیں اور منجن کی صورت میں استعمال کریں اس سے دانت صاف رہیں گے اور سانس کی بدبو دور ہو گی۔
نمک: سرسوں کا تیل اور لیموں کا رس ملا کر روزانہ منجن کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں اورتقریباً تمام بیماریاں دور ہوجاتی ہیں۔
نچوڑے ہوئے لیموں کے چھوٹے ٹکڑے کر کے دانت صاف کرنے سے دانت چمکنے لگتے ہیں۔
اگر دانت زرد پڑ گئے ہیں اور مسوڑھے کمزور اورسیاہ پڑ گئے ہیں تو صبح دانت صاف کرنے سے پہلے آدھا چمچہ نمک میں پانچ بوند لیموں کا رس ملا کر دانتوں پر لگالیں۔ پانچ منٹ بعد کلی کر لیں اس کے بعد ٹوتھ پیسٹ یا منجن سے دانت صاف کر لیں۔
مسوڑھوں پر کبھی بھی ٹوتھ برش نہ رگڑیں اس سے مسوڑھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں ۔ دانتوں میں چمک لانے کے لئے گلیسرین لگائیں اور نیم گرم پانی سے کلی کریں۔
نیم:نیم کی شاخ پتیوں سمیت چھاﺅں میں خشک کر کے جلا کر راکھ بنا لیںا ور اس کے بعد اسے پیس کر منجن بنا لیں۔ ذائقہ کے لئے لونگ ، پیپر منٹ، نمک ملا لیں اس منجن سے دانت صاف کرنے سے پائیوریا ٹھیک ہوتا ہے اور دانت مضبوط ہوتے ہیں۔نیم کی ٹہنی سے مسواک کرنا بھی مفید ہے۔
ہرڑ:ہڑر کے چورن سے منجن کرنے سے دانت صاف ہوتے ہیں۔
بادام: بادام کا چھلکا جلا کر رکھ لیں۔ دوسرے دن پیس لیں اور اس کا پانچواں حصہ پھٹکری ملا کر دوبارہ پیس لیں۔ اس سے منجن کرنے سے دانت صاف ہوں گے اور تقریباً دانتوں کی تمام بیماریاں دور ہوںگی دانتوں کی مضبوطی کے لئے بادام کے چھلکے جلاکر بجھا کر پیس لیں اور سوندھا نمک ملا کر منجن کریں۔
سوندھا نمک یا پھٹکری دونوں بادام کی پسی ہوئی راکھ میں ملا کر استعمال کر سکتے ہیں۔
دانتوں کی مضبوطی:
دانتوں کی صفائی کے بعد ان کی مضبوطی بہت ضروری ہے تاکہ دانت زندگی بھرمضبوط رہیں، کبھی ہلیں نہیں اور ان میں چھید نہ ہوں ، گلنا شروع نہ ہوں، تیز گرم اورٹھنڈی چیزیں جیسے آئس کریم کھانے، زیادہ چائے کافی پینے سے یا صرف نرم چیزیں کھانے سے دانتوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ اس لئے کھانے پینے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ اگر دانت ہلتے ہوں، درد کرتے ہوں تو اس کا بروقت معیاری علاج کروانا چاہتے اور جب تک ضروری نہ ہو جائے، دانت کو اکھاڑنا نہیں چاہیے۔ اگر دانت میں چھید ہو گیا ہے تو اسے بھروالینا چاہیے چنے چبا چبا کر کھانے سے دانتوں کی ورزش ہوتی ہے جو ان کو مضبوط رکھنے میں معاون ہے ذیل میں دانتوں کو مضبوط رکھنے کے نسخے بنائے جارہے ہیں۔
آم: آم کے تازہ پتے خوب چبائیں اورتھوکتے جائیں۔ تھوڑے دنوں کے باقاعدہ استعمال سے دانت مضبوط ہو جائیں گے۔ مسوڑھوں سے خون آنا بند ہو جائے گا۔
تل:32گرام سیاہ تل، صبح نہار منہ آہستہ آہستہ خوب چبا کر کھائیں۔ بعد میں ایک گلاس ٹھنڈا پانی پئیں۔ چاہیں تو رات کو بھی اس طرح تل کھا سکتے ہیں۔ اس نسخہ سے دانت مضبوط ہوں گے۔
ہلدی:ہلدی نمک اور سرسوں کا تل ملا کر روزانہ منجن کرنے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔
مٹی: دانت ہلتے ہوں ،یوں لگتا ہوکہ ٹوٹنے والے ہیں تو چکنی مٹی بھگو کر روزانہ صبح اور شام کو مسوڑھوں پرلگائیں دانت مضبوط ہو جائیں گے۔
گاجر: گاجر کا رس روزانہ پینے سے مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریاں نہیں ہوتیں اور اس سے دانتوں کی جڑیں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
گاجر: گاجر کا رس روزانہ پینے سے مسوڑھوں اور دانتوں کی بیماریاں نہیں ہوتیںا ور اس سے دانتوں کی جڑیں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔
ٹماٹر: ٹماٹر کھانے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔
نمک: باریک پسا ہوا سوندھا نمک دانتوں پر ملنے سے ان پر چمک آتی ہے۔
دانت نکلنا:
چھاچھ: چھوٹے بچوں کو روزانہ چھاچھ پلانے سے دانت نکلنے میں تکلیف نہیں ہوتی اور دانتوں کی بیماریاں بھی نہیں ہوتیں۔
شہد: دانت نکالنے والی بچوں کے مسوڑھوں پر شہد رگڑنے سے دانت بغیر تکلیف کے نکل آتے ہیں۔
تلسی: تلسی کے پتوں کا رس شہد میں ملا کر مسوڑھوں پر لگانے سے اور تھوڑا سا چٹانے سے دانت بغیر تکلیف کے نکلتے ہیں۔ تلسی کے پتوں کاچورن، انار کے شربت کے ساتھ دینے سے بھی بچوں کے دانت آسانی سے نکل آتے ہیں۔
انگور: دانت نکلنے کے وقت انگور کا رس دو چمچے روزانہ پلاتے رہیں۔ اس سے دانت جلدی نکل آتے ہیں۔ بچہ سڈول رہتا ہے۔ ذائقے کے لئے چاہیں تو شہد ملایا جاسکتا ہے۔
سونف: بچوں کے دانت نکلتے وقت اگر بچہ روتا ہو تو وہ چمچے موٹی سونف ایک کپ پانی میں ابال کر چھان لیں۔ اس کا ایک ایک چمچہ چار بار پلائیں اس سے دانت بھی آسانی سے نکل آئیں گے۔
دانتوں میں پانی لگنا:
ماجھ پھل: ماجھ پھل پنساری کے ہاں سے ملتا ہے۔ اسے باریک پیس لیں۔ روزانہ اس کا منجن کرنے سے پانی لگنا بند ہوجاتا ہے۔ دانت مضبوط ہوتے ہیں، خون نکلنا بند ہو جاتا ہے اورعام دانتوں کی بیماریاں دور ہوتی ہیں۔
دانتوں سے خون رسنا:
ٹماٹر: دانتوں سے خون رستا ہو تو ٹماٹر کا رس دن میں تین بار پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔
دانت کھٹے ہونا:
بادام: دانت کھٹے ہوجائیں تو بادام کھائیں۔ اس سے دانتوں کا کھٹا پن دور ہو جائےگا۔
نمک: کھٹائی کھانے سے دانت کھٹے ہو گئے ہوں تو پسا ہوا نمک دانتوں پر ملیں۔
دانت درد:
پیاز: دانتوں میں درد یا تکلیف ہونے پرپیازکاٹکڑا اس جگہ رکھ دینے سے درد دور ہو جاتا ہے۔
لوکی: لوکی 24گرام، لہسن20گرام۔ دونوں کو پیس کر ایک کلو پانی میں ابالیں۔ آدھا پانی رہ جانے پرچھان کر غرارے کرنے سے دانت کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
سرسوں کا تیل: ایک دو بار سرسوں کا تیل ناک کے ایک نتھنے سے سونگھنے پر دانت کا درد کچھ دیر کے لئے بند ہو جاتا ہے۔
سرسوں کا تیل: لیموں کا رس، سوندھا نمک ملا کر منجن کرنے سے دانت صاف ہو تے ہیں۔ درد اور ان کا ہلنا بند ہو جاتا ہے۔
سرسوں کے تیل میں نمک بہت باریک پیس کر ملا کر منجن کرنے سے بھی دانت درد، مسوڑھے پھولنا ٹھیک ہو جاتا ہے۔
نمک: دانت درد ہونے پر گرم پانی میں نمک ڈال کر غرارے کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں میں درد ہو تو باریک پسا ہوا سوندھا نمک ملنے سے فائدہ ہوگا۔
دانت ہلتے ہوں تو تل کے تیل میں پسا ہوا سیاہ نمک ملا کر منجن کریں۔
اجوائن: ہر طرح کادانت کا درد اجوائن کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتا ہے آگ پراجوائن ڈال کر درد کرتے ہوئے دانت کو دھونی دیں۔
ابلتے ہوئے پانی میں نمک اور ایک چمچ پسی ہوئی اجوائن ڈال کر ڈھانپ کر رکھ دیں۔ پانی جب نیم گرم ہو جائے تو اس پانی کو منہ میں لے کر کچھ دیر رکھیں پھر کلی کر کے تھوک دیں۔ اس طرح غرارے کریں اجوائن کا دھواں اورغرارے کرنے کے درمیان دو گھنٹے کا فرق رکھیں۔ اس طرح دن میں تین بار کرنے سے دانت درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
پانی:پہلے دو منٹ گرم پانی منہ میں رکھیں۔ پھر بہت ٹھنڈا پانی دو منٹ منہ میں رکھیں۔ اس طرح چار بار کریں۔ گرم پانی سے شروع کریں اور ٹھنڈے پانی پر ختم کریں۔درد ختم ہونے کے بعد بھی تین دن کریں۔ مسوڑھے پھولتے ہوں تو گرم پانی سے غرارے کریں۔ گرم پانی سے غرارے کرنے سے داڑھ دانت کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
لیموں: ایک لیموں کے چار ٹکڑے کر لیں اور اس کے اوپر نمک ڈال کر ایک کے بعد ایک گرم کر کے ایک ٹکڑے کو درد کرتے دانت ، داڑھ پر رکھ کر دبائیں۔ اس سے درد میں فائدہ ہوگا۔
آنولہ: دانت میں کیڑا لگا ہو ، درد ہو تو آنولے کے رس میں ذرا سا کافور ڈال کر دانت پر لگائیں۔ درد دور ہو جائے گا۔
مٹی: صاف مٹی سے روزانہ تین بار منجن کرنے سے دانت درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
لونگ: پانچ لونگ پیس کر ان میں لیموں کا رس نچوڑ کر دانتوں پر ملنے سے درد دور ہو جاتا ہے۔ دانت میں کیڑا لگنے پر لونگ کا رکھنا یا اس کا تیل لگانا مفید ہے۔
نیم: نیم کے پتوں کو پانی میں ابال کر غرارے کرنے سے دانتوں کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
کافور: دانت درد ہو تو درد والے دانت پر کافور دبائیں۔ دانت میں چھید ہو تو کافور بھر دیں۔ درد دور ہو گا کیڑے مرجائیں گے۔
ہلدی: ہلدی کو آگ پر بھون کر پیس لیں۔ اسے درد کرتے دانتوں پر ملنے سے درد دور ہوگا۔ کیڑے بھی مر جائیں گے۔
صرف ہلدی سے منجن کرنے سے دانت درد ٹھیک ہوتا ہے۔ ہلدی کا ٹکڑا درد والے دانت میں دبائے رکھنے سے دانت درد کم ہو تا ہے۔
امرود: امرودکے پتوں کو چبانے سے دانتوں کا درد دور ہوتا ہے۔ امرود کے پتوں کو ابال کر غرارے کرنے سے دانتوں کادرد، مسوڑھوں کا درد، سوجن دور ہو تی ہے۔
پھٹکری: دانت میں چھید ہو ، درد ہو تو پھٹکری روئی میں رکھ کر چھید میں دبالیں اور رال ٹپکائیں ۔ دانت درد ٹھیک ہو جائے گا۔
ادرک: دانت درد سردی سے ہو تو ادرک پر نمک ڈال کر دانتوں کے نیچے رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا آپ جانتے ہیں سونف آپ کی صحت کیلئے کتنی فائدہ مند ہے؟