sindh_hindu

سندھ میں ہندو مذہب کے مقدس مقامات

EjazNews

کالکاں یاکالن:
کالی دیوی کا مندر جونا معلوم وقتوں سے ہندو مذہب کے ماننے والوں کی زیارت گاہ ہے۔ یہ مندر اروڑ کے قلعے کے پاس ایک ٹیکری کے اندر واقع ہے۔ اروڑ راجہ داہرکا دارالحکومت تھا اور موجودہ تعلقہ روہڑی میں شامل ہے۔
سادھ بیلہ:
سکھر اور روہڑی کے درمیان دریائے سندھ میں سادھ بیلہ نامی جزیرہ اور قدیم ہندوزیارت گاہ ہے۔ یہاں زمانہ قدیم میں ہندو مذہب کے بزرگ سادھوی رشی اور منی رہتے تھے۔ ان کی قیام گاہ آج بھی موجود ہے جس کی دیواروں پر مذہبی قسم کی تصویریں بنائی گئی ہیں۔
سادھ بیلہ میں ایک خوبصورت مندر بھی ہے جو سفید سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ سادھ بیلہ کی زیارت کے لئے ہر سال ملک اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں ہندوز ائرین آتے ہیں اور اس مقدس جزیرے میں مقیم ہو کر عبادت وریاضت کے ذریعے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔
گوری کا مندر:
تھرپارکر میں دیر اواہ ۔ یاویراواہ سے چودہ میل شمال میں گوری کا قدیم جین مندر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مندر میں ایک بت تھا جو آپ سے آپ غائب ہوگیا۔ اس بت کی بھنوو¿ں کے درمیان ایک بیش بہا ہیرالگا ہوا تھا۔ جب کہ اس کے سینے پربھی دو قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے۔ یہ بات مندر کا پروہت اپنے ساتھ ویراواہ لے گیا جہاں وہ اس کو پوشیدہ رکھتا تھا اور صرف خاص خاص موقعوں پر اس کا دیدار کرا کے زائرین سے بھاری نذرانہ وصول کرتا تھا۔عینی شاہدوں کے مطابق اس مشہور بت کی آخری زیارت 1823میں کرائی گی تھی۔1824ءمیں پروہت کا اچانک انتقال ہو گیا اور اس نے بت کو کہاں چھپایا تھا۔ یہ ر از اب تک نہ کھل سکا ہے۔
اگر چہ گوری کا مندر کافی خستہ حالت میں ہے لیکن اپنی نوعیت کے مخصوی فن تعمیر کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ حکومت پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے اس مندر کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے اور اس کو سال بھر جین مت کے ماننے والوں کے لیے عبادت اور زیارت کے لئے کھلا رکھا جاتا ہے۔
بوڈیسر کا مندر:
تھرپارکر میں جین مت کے ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کا ایک اور مشہور قدیم اور تاریخی مندرنگر پارکر کے پاس بوڈیسر کے گاو¿ں میں واقع ہے۔ بوڈیسر ایک تالاب کا نام ہے جس کو روایت کے مطابق بھودا پرا مارنے تعمیر کرایا تھا۔
بوڈیسر کے مندر کے پاس چند اور قدیم مذہبی عمارتیں موجود ہیں جن میں جین مت کے بزرگوں کے رہنے کی ایک عمارت اور ایک مسجد بھی شامل ہے، جو سلطان محمو دبیگڑہ کی تعمیر کرائی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انسانی ہاتھوں سے بنایا جانے والا دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی جنگل چھانگا مانگا