hbl_line

بینکوں کے باہر لگی لمبی قطاریں اور بڑھتے کرونا کے مریض

EjazNews

جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جارہی ہے۔لاک ڈائون ہوئے ملک کو کافی ٹائم گزر چکا ہے لیکن کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ اس پر حکومتی حلقوں کو غورو غوض کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ اس کی کیا وجہ ہے۔
کرونا وائرس کے مریض صحت یاب بھی ہو رہے ہیں اور موت کی وادی میں بھی جارہے ہیں لیکن اصل غورو غوض کی بات یہ ہے کہ کیسوں کی تعداد کو نہ بڑھنے دیا جائے۔ مشاہدے میں ایک بات آرہی ہے کہ سڑکوں پر کھڑے ناکے لگائے ہوئے پولیس والے اور ٹریفک پولیس وارڈن ٹریفک کو روک کر رش کا سبب بن رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی چلان مہم بھی چلا رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ان ناکوں پر کھڑے سکیورٹی والوں کو لوگوں کا ٹمپریچر چیک کرنا چاہئے لیکن یہاں الٹی گنا بہہ رہی ہے وہ لوگوں کو روک کر کاغذات چیک کر رہے ہیں۔ اور پیچھے ٹریفک رکی رہتی ہے کیونکہ گزرنے کیلئے تھوڑا سا راستہ رکھا جارہا ہے۔
دوسری جانب عوامی رویہ کی اگر بات کی جائے تو وہاں پر بھی لاپرواہی کی انتہا ہے۔ آپ غور کریں کہ اتنے دن گزرنے کے باوجود جتنے دکاندار دکانیں کھول کربیٹھے ہیں ان میں سے 90فیصد کے ہاتھوں میں گلفس نہیں ہوں گے۔ منہ پر ماسک ضرور ہے ۔یہ وائرس پیسوں کے ذریعے بھی پھیلتا ہے۔ اس صورتحال میں ہمیں صرف لاک ڈان نہیں ، لاک ڈان میں کھلے پھرنے والے افراد کی چیکنگ کرنی بھی انتہائی ضرورت ہے۔
آپ غور کریں کہ جہاں پر لوگ اکٹھے ہوں گے وہاں پر کرونا وائرس پھیلے گا۔ بینک کے اندر تو صرف ایک شخص جاتا ہے لیکن بینک کے باہر لگی لمبی لائن کا کو ن ذمہ دا ر ہے۔ اس وقت بینکنگ کے عملے نے پوری قوم کو سخت مایوس کیا ہے جس بینک کی جتنی زیادہ شاخیں ہیں وہ اتنی ہی لمبی لائنیں لگوا رہا ہے۔یہ لائنیں تمام بینکوں میں نہیں لگیں ہوئی لیکن جن میں لگی ہوئی ہیں وہاں پر کوئی ایسا انتظام نہیں دیکھنے میں آرہا کہ وہاں پر عملے کی تعداد بڑھا کر لوگوں کی لائنیں نہ لگنے دی جائیں اور جلد از جلد کام نبٹا دیا جائے۔ اس سے آپ کو اندازہ لگانا مشکل نہیں ہو گا کہ ہم کس بے حسی کی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔
ملک میں ریکارڈ کیے گئے 3 ہزار 658 کیسز کو دیکھیں تو ان میں سب سے زیادہ کیسز صوبہ پنجاب میں ہیں جہاں تعداد 1816 تک پہنچ گئی ہے۔گزشتہ روز پنجاب میں 247 مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جو ایک ہی روز میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد تھی، تاہم آج آنے والے مریضوں کی تعداد اسے بھی زیادہ ہے۔پنجاب کے بعد متاثرین میں سندھ کا نمبر ہے جہاں 932 افراد متاثر ہوئے ہیں، تیسرے نمبر پر خیبرپختونخوا ہے اور وہاں 405 لوگ اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔
صوبہ بلوچستان میں 198 افراد کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ اسلام آباد میں 82، گلگت بلتستان میں 210 اور آزاد کشمیر میں 15 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔کرونا وائرس کے مریض سب سے زیادہ پنجاب میں ہیںجبکہ اموات کے حساب سے سب سے آگے سندھ ہے۔ اس وائرس سے 257 افراد وائرس سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےلکھا ہے کہ پنجاب میں اب تک کرونا کے کیسز کی تعداد 1493 ہے، 842 مریض قرنطینہ میں ہیں جن میں سے 309 زائرین، 484 تبلیغی جماعت کے مبلغین اور 49 کیسز جیل کے ہیں جبکہ651 کیسز مختلف اضلاع میں ہیں۔
ان کا لکھنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ چھٹیوں کے دوران پنجاب کے تمام نجی سکولوں کی فیس 20 فیصد کم اور صرف ماہانہ بنیاد پر وصول کی جائے۔ اس دوران سکولوں کو تمام اساتذہ اور عملے کی تنخواہوں کی مکمل اور بروقت ادائیگی کا پابند بنایا جائے گا اور کسی سکول کو اساتذہ یا عملے کو نکالنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی دوسری پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس