shabaz-sharif

آج کی صورتحال میں سیاست کو لانا بڑا گنا ہ ہوگا :میاں شہباز شریف

EjazNews

ان کا کہنا تھا کہ جیل میں بھی ایک کرونا کا مریض پایا گیا ہے ۔ مجھے امید ہے حکومت وقت جیلوں کے اندر ٹیسٹ کروانے جیسے اقدامات اٹھائے گی۔ ہمیں آج قطعاً ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس سے معاشرتی تقسیم میں اور اضافہ ہو۔ میں لندن میں اپنے بڑے بھائی صاحب کے علاج کیلئے رکا ہوا تھا۔ جب کرونا وائرس میں تیزی آئی تو انہوں نے مجھے پاکستان جانے کا کہا اور کہا کہ میں پاکستانی عوام کیلئے دعا گو ہوں۔ اور عزم و ہمت سے ہم جلد اس مصیبت سے نکل جائیں گے۔ آج کی صورتحال میں سیاست کو لانا بڑا گناہ ہوگا اور ہمیں اپنے ملی تقاضے پورے کرنے میں اپنا پورا کردارادا کرنا ہوگا۔میں نہیں بلکہ تمام سیاسی اکابرین نے لاک ڈاﺅن کا مطالبہ کیا ۔ ایسا نہ ہوا ۔دیر آئے درست آئے ، پنجاب حکومت نے لاک ڈاﺅن اور فوج کو طلب کر کے اس معاملے کو طے کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت کمزور ہے اور معاشرے میں بدقسمتی سے تقسیم ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستانیت اور وقت کا مطالبہ ہے کہ ہم اس چیلنج کو اپرچونلٹی میں تبدیل کر جائیں اور ایک قوم بن جائیں ۔ جینوئن طریقے سے ہم اس چیلنج کو قبول کریں اورذاتی انا کو سائیڈ پر رکھ کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس چیلنج کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور ہم اس سے باہر نکل کر آئیں گے۔ سیاست کو لائے بغیر ، سیاسی آمیزش کے بغیر ہمیں حکومت کی اچھی باتوں کی تعریف اور جہاں پر کمزوریاں ہے وہاں پر اصلاح کرنی ہوگی۔
ان کا کہناتھا کہ تفتان کے حوالے سے حکومت کی شدید کوتاہی نظر آئی ہے۔ مثال کے طور پر جو ایکسرے ہیں ٹیسٹ ہیں، قرنطینہ کیا ہوتا اور آئسو لیشن کیا جاتا جبکہ بدقسمتی سے وہاں پر زائرین کو بھیڑ بکریوں کی طرح نہ رکھا جاتا تو آج پاکستان میں وائرس کا جو حملہ ہوا ہے اس کی شدت آج اتنی زیادہ نہ ہوتی۔ لیکن اب ہمیں آگے بڑھنا ہے اور اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ اس بیماری کی ابھی کوئی دوائی اور ویکسین سامنے نہیں آئی۔ اس کا ایک ہی حل ہے احتیاط احتیاط اور احتیاط اور ہمیں ممکنہ طور پر تمام ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ میں اپنی پارٹی اورکارکنوں کو کہو ں گا کہ جو ہدایات ملیں اس پرعمل کیا جائے اور لوگوں سے بھی عمل کرنے کا کہنا جائے۔
میں وزیراعظم پاکستان کو کہنا چاہتا ہوں کہ وہ مشترکہ مفاداتی کونسل کا اجلاس طلب کریں اور چاروں وزراءاعلیٰ کے ساتھ بھرپور اشتراک کریں اور خاص طور پر ان صوبوں میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے۔ اورنیشنل ٹاسک فورس میں تمام جماعتوں کو اس میں نمائندگی دی جائے۔ ویسے ہی جیسے 2016ءمیں انہماک واقعہ ہوا تھا سب جماعتوں کو میاں نواز شریف نے ایک چھت تلے اکٹھا کیا تھا۔ میری گزارش ہے کہ وہ آلات اور انسٹومنٹ جن کی کمی ہے ان کو منگوایا۔ اضافی ویلٹری نیٹر وقت کی پکار ہے۔ ہمارے جہازوں کو ان ممالک میں بھیجا جائے جہاں سے یہ آلات مل سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ڈینگی کیلئے ہم نے جنگی بنیادوں پر کام کیا اسی طرح کام کرنا چاہیے۔ صحت کے عملے کو حفاظتی کٹس مہیا کرنی چاہیے جہاں سے بھی ممکن ہو دئیے جائیں۔ ہم 10ہزار کٹس ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے حوالے جلد کریں گے۔ہسپتالوں میں جو سینٹر بنائے گئے ہیں ان کو الگ کہیں بنایا جائے۔ کہیں اور سانحہ نہ ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز کا بلا چل گیا