imran_khan-Erdogan

خوش آمدید !ترکی اور پاکستان کے درمیان صرف دوستی نہیں ہے یہ محبت کے رشتے ہیں

EjazNews

ترکی اور پاکستان کی دوستی دھائیوں پر مشتمل ہے۔یہ دوستی پاکستان بننے سے پہلے بھی تھی اور پاکستان بننے کے بعد بھی قائم رہی ۔ دونوں ملکوں کے وزیراعظم آتے جاتے رہے لیکن اس دوستی میں کوئی فرق نہیں پڑا کیونکہ یہ ایک ریاست کے ساتھ دوسری ریاستی تعلقات تھے۔
ان تعلقات کی مضبوطی کا اندازہ مولانا ظفر علی خان کے دورئہ ترکی سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔مولانا ترکی گئے اورانھیں سلطان خامس کے دربار میں حاضر ی کا موقع بھی ملا۔اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں کہ ’’میں نے علامہ اقبا ل کی نظم فاطمہ کو نشان زدہ کر کے اور زمیندار کا ایک خاصر نمبر پیش کیا۔وہ لکھتے ہیں امیر المومنین کی ذرہ نوازی ملاحظہ ہو کہ وہ ہمارے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور کشتی کا ڈھکنا اپنے دست اطہر سے تھامے رہے تاکہ ہم دونوں چیزیں بآسانی نکال سکیں۔

وزیراعظم عمران خان ، صدر طیب اردگان،خاتون اول

امیر المومنین نے جب فرمایا میں کہ اس کتاب کا مطالعہ کروں گا تو مولانا فرماتے ہیں کہ ’’میں نے عرض کی جس زبان میں یہ کتاب لکھی گئی ہے وہ حضور کے ساڑھے سات کروڑ دعا گوئوں کی زبان ہے ۔اس لیے یقینا اس زبان کا حضور پر بہت بڑا حق ہے۔ ‘‘
پاکستان بن گیا اور یہ تعلقات اس سے بھی زیادہ مضبوط ہوئے جیسے پہلے تھے۔ مسلمانان ہند کبھی بھی خلیفہ ترک کے ماتحت نہیں رہے لیکن ان کی قلبی محبتیں ہمیشہ خلیفہ کے ساتھ رہیں ۔ اسی لیے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے پر سب سے زیادہ احتجاج برصغیر میں ہی ہوا تھا اور اس احتجاج کو کرنے والے مسلمان ہی تھے ۔
ترکی اور پاکستان کے درمیان صرف دوستی نہیں ہے یہ محبت کے رشتے ہیں، ملی محبت کے، اسلامی محبت کے امہ کی محبت کے۔ یہ نیشنل ازم سے بہت اوپر کے رشتے ہیں۔ اسی لیے ترک صدر کو پاکستان میں ایک خاص محبت اور ادب کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم نئی جنگ اور جدوجہد شروع کر رہے ہیں:بلاول بھٹو زرداری