chines-presedent

چینی صدر نے کرونا وائرس کو شیطان کا نام دے دیا

EjazNews

چینی صدر نےکرونا وائرس کو شیطان کا نام دیا ہے، انہوں نے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتال کا دورہ کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔اس وائرس کے پھیلنے کے بعد سے چینی صدر عوام کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔
شی جن پنگ نے نیلے رنگ کا ماسک اور سفید سرجیکل گاؤن پہن کر ہسپتال میں ڈاکٹروں سے ملاقات کی، اور انہوں نے وہاں پر مریضوں کے علاج معالجہ کی صورتحال کو بھی دیکھا۔اور ووہان میں ڈاکٹروں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرسکیں۔
اس وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے چینی حکام کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں جن میں چین کے صوبہ ہوبے کے شہروں کو مکمل بند کرنا، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بند کرنا، سیاحتی مقامات کو بند کرنا اور کروڑوں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تجویز دینا شامل ہے۔
ان اقدامات کے بعد چین کے بیشتر شہر ویرانی کا سا سما دکھا رہے تھےتاہم گزشتہ روز معمولات زندگی بحال ہونے کی کچھ علامات سامنے آئیں۔بیجنگ اور شنگھائی میں سڑکوں پر اب پہلے سے زیادہ ٹریفک موجود ہے ۔
چین کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری، مشیر صحت اورسیکرٹری خارجہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ چین میں موجود پاکستانیوں کی صحت کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور چینی جامعات میں پاکستانی طلبا کے تحفظ کے حوالے سے خصوصی بات چیت کی گئی۔
کچھ لوگ کرونا وائرس کو لے کر مضحکہ خیز مذاق بھی اڑارہے تھے۔ ایک نوجوان کوایسا ہی کرنے پر 5سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ چین میں ایک نوجوان نے ماسک پہنا ہوا تھا، نوجوان زیرزمین چلنے والی ٹرین میں سفر کرتے ہوئے اچانک زمین پر گر جاتا ہے۔ نوجوان کے زمین پر گرنے کے بعد تڑپنے لگا جس کے بعد لوگ کرونا وائرس کہہ کر بھاگنے لگے۔ اس سے لوگوں میں ایک خوف و ہراس پیدا ہو گیا تھا جس کے بعد پولیس نے ملزم کو عوام میں سنسنی پھیلانے کے جرم میں گرفتار کرلیا۔
چین میں کرونا وائرس سے اموات کا سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ایک ہی دن میں وائر س سے 103افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔جس کے بعد وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی بڑھ گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 42ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے دو سو سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔جاپان میں 90، سنگا پور میں 40، جنوبی کوریا میں 25، فرانس میں 3 جبکہ برطانیہ میں ان افراد کی تعداد 4ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سری نگر میں 3سال کی بچی سے زیادتی ،احتجاجی مظاہرے ،شٹر ڈاﺅن