bilawal-bhto-zardari

ہمیں سب یاد ہے کہ جب عمران خان کہتے تھے کہ جب وزیراعظم کرپٹ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں تقریر کی جو پورے میڈیا کی زینت بنی۔ یہ تقریر مہنگائی کے گرد گھوم رہی تھی اور اس میں کھل کر وزیراعظم عمران خان پر تنقید کے ساتھ ساتھ اعداد و شمار بھی انہوں نے دئیے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ بےبس پارلیمنٹ میں مہنگائی پربحث ہورہی ہے، حکومت کی خالی نشستوں سے بحث کی اہمیت کا اندازہ ہورہا ہے کہ وہ کتنی اہمیت دے رہے ہیں، انہوں نے تو اپنے سینئر وزرا کو بھی نہیں بھیجا، یہاں وزرائے مملکت، سائنس اور پوسٹ کا وزیر موجود ہے لیکن اصل وزیر نہیں ہیں۔ امید ہے کہ ایک دن یہ پارلیمان اپنے وزیر خزانہ کو بھی دیکھے گا اور اس کو سنے گا اور سوال بھی پوچھے گا، یہ حکومت مانے یا نہ مانے سب کو نظر آرہا ہے کہ اب مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جب یہ حکومت آئی تو مہنگائی اور بے روزگاری تھی لیکن اب بہت بڑھ گئی ہے، یہ حقیقت ہے، حکومتی ادارے ایف بی آر، سٹیٹ بینک، بیورو آف اسٹیٹکس کیا کہہ رہا ہے۔بیورو آف اسٹیٹکس حکومتی ادارہ کہہ رہا ہے کہ پچھلی دہائی میں مہنگائی اتنی تیزی سے نہیں بڑھی جتنی پچھلے ایک سال میں بڑھی، گزشتہ جنوری میں مہنگائی کی شرح اعشاریہ فیصد تھی اور اب 14 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ خوراک کی مہنگائی ایک اعشاریہ 6 فیصد سے بڑھ کر 25 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ جلد خراب ہونے والے غذائی اجناس میں مہنگائی 78 فیصد ہوگئی ہے، دال کی قیمتوں میں 83 فیصد پیاز میں 125 فیصد، ٹماٹر 158 فیصد اور آلو 87 فیصد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اعداد و شمار میرے نہیں بلکہ حکومتی ادارے کے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ عام مہنگائی کا اثر دیہاتوں کے رہائشیوں پر زیادہ پڑا ہے، مہنگائی کا عام تناسب 14 فیصد ہے جبکہ مضافات کے لیے 16 فیصد ہے، اس سب کے باوجود گیس 55 فیصد، ایندھن76 فیصد، بجلی کی قیمتوں میں 14 فیصد کا اضافہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکن قومی ٹیم کے کھلاڑی کار حادثے کے بعد گرفتار

ان کاکہنا تھا کہ ہمیں اپنے حلقوں میں عوام کے پاس جانا ہے اور وہ ہم سے سوال کرتے ہیں، عوامی نمائندے اس معاشی قتل پر خاموش نہیں رہ سکتے، صرف اور صرف وہ لوگ جو عوامی نمائندے نہیں ہیں بلکہ کسی اور طریقے سے آئے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ مہنگائی نہیں ہے اور عوام کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔
بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ‘ہمیں سب یاد ہے کہ جب عمران خان کہتے تھے کہ جب وزیراعظم کرپٹ ہوتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے، جب آپ کی حکومت نااہل، نالائق، سلیکٹڈ ہوتی ہے اور عوام کے نمائندے نہیں ہوتے ہیں تو پھر عوام کا درد بھی محسوس نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کے سامنے جھک جاتے ہیں اور اپنے کے غریب عوام کے معاشی حقوق کی سودے بازی کرتے ہیں پھر مہنگائی بڑھتی ہے جیسے آج بڑھی ہے۔ وزیراعظم کو بتانا چاہیے کہ ان کی کون سی کرپشن کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے یا ہماری بات مان لیں کہ وہ نااہل ہیں، نالائق ہیں اور سلیکٹڈ ہیں، جو بھی ہیں گھر جانا پڑے گا اور عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہمارا وزیراعظم کہتا تھا کہ وہ قرض نہیں لیں گے قرض لینے سے پہلے وہ خود کشی کریں گے اور اب پاکستان کا اپنا اسٹیٹ بینک، عمران خان کا اپنا اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ حکومت نے پچھلے 15 مہینوں میں11 ہزار ارب روپے کا قرض لیا ہے۔ ‘یہ حکومت ہمیشہ ماضی کی بات کرتی ہے، پچھلے 61 سال، 1947 سے 2008 تک 6 ہزار ارب قرض لیا گیا تھا اور پچھلے 15 مہینوں میں 11 ہزار ارب قرض لیا گیا، پی پی پی نے 2008 سے 2013 تک اندازاً ہر دن 5 ارب اور مسلم لیگ (ن) کے 2013 سے 2018 کے دور میں اندازاً ہرروز 8 ارب روپے کا قرض لیا تھا لیکن اب پچھلے مہینوں میں پی ٹی آئی حکومت کے دوران ہر دن 25 ارب روپے کا قرض لے رہے ہیں۔
حکومتی قرض کے اعداد وشمار کا حوالے سے انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ اپوزیشن کے نہیں بلکہ حکومت کے اپنے اداروں کے اعداد وشمار ہیں، عمران خان نے تو کہا تھا کہ وہ خود کشی کریں گے لیکن ہمارا مطالبہ خود کشی نہیں بلکہ مان لو کہ آپ غلط تھے اور عوام کو ریلیف دو ورنہ گھرجانا پڑے گا۔ پاکستان کے عوام ٹیکس اس لیے نہیں دیتے کہ ہمارا وزیراعظم ایمان دار نہیں ہے اور جب ایمان دار عمران خان وزیراعظم بنے گا تو عوام ٹیکس دینا شروع کریں گے اور اب حکومت کا اپنا ادارہ ایف بی آر کہہ رہا ہے کہ حکومت ٹیکس کا اپنا ہدف بھی حاصل نہیں کر پارہی ہے اور گزشتہ 7 مہینوں میں 400 ارب روپے کا ٹیکس کم وصول ہوا ہے۔ وزیراعظم کو کہنا چاہیے کہ ہمارا وزیراعظم ایمان دار نہیں ہے، حکومت کرپٹ ہے اس لیے ٹیکس وصول نہیں ہورہا ہے یا جیسے ہم کہتے ہیں کہ یہ حکومت نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ ہے اس لیے ٹیکس وصول نہیں ہورہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘سندھ کے سیاسی یتیموں کا جو ٹولہ آج کل عمران خان کے ساتھ اتحادی ہے، ان میں سے آج جو وزیر یا حکومتی اتحادی ہیں ان پر تو بینظیر کا اتنا احسان ہے، کسی کی بہن کو سینیٹر بنانے کی کوشش کی، کسی کو صوبائی اسپیکر، دیگر کو صوبائی رکن اسمبلی اور وزیر بنایا لیکن آج وہی لوگ شہید بینظیر کی تصویر اور نام مٹانے میں عمران کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ‘جو لوگ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 9 لاکھ لوگوں کا نام نکالنا چاہتے ہیں ان کو تاریخ یاد رکھے گی، یہ حکومت بینظیر انکم سپورٹ کو سبوتاژ کررہی ہے اور احساس کے نام پر غریبوں کا کریڈٹ بھی لینا چاہتی ہے۔یہ حکومت عوام کا معاشی قتل کررہی ہے، معاشی حقوق پر حملہ، یہ کس قسم کا آئی ایم ایف کا معاہدہ ہے کہ جہاں آئی ایم ایف کے لوگ آتے ہیں اور آئی ایم ایف کے نام سے نمائندوں سے مذاکرات کرتے ہیں اورپاکستان کے عوام کے معاشی فیصلے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  چیئرمین نیب سے متعلق چلنے والی آڈیو ٹیپ کی تردید