health-cear

ہیلتھ ٹپس:جان ہے تو جہان ہے

EjazNews

جان ہے تو جہان ہے آپ نے ہمیشہ سے سن رکھا ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے لوگ بہت کم ہے۔ انسان پوری زندگی سخت محنت کرتا ہے اور پھر اپنی صحت خراب کر کے اپنی ہی کمائی ہوئی دولت صحت کی بحالی کیلئے خرچ کرتا ہے۔ اگر صحت کی بحالی پر شروع سے ہی توجہ دی جائے تو بہت سے معاملات کو شروع میں ہی پکڑ کر بگڑنے سے پہلے ہی ٹھیک کیا جاسکتا ہے اور یوں جتنی اللہ تعالیٰ نے زندگی دی ہوئی ہے اسے ایک بہترین طریقے سے گزارا جاسکتا ہے۔
وارنش والے برتن مضر صحت ہیں:
نئے برتنوں کی خریداری اور خصوصاًپکانے والے پتیلیوں کاانتخاب ہمیشہ سوچ سمجھ کر کریں، اگر قلعی ، وارنش اور مینا کاری والے برتن بہت عرصہ تک استعمال کئے جاتے رہیں تو یہ مضر صحت ہو سکتے ہیں ۔یہ مخصوص وارنش چینی والے برتنوں میں کی جاتی ہے جو کچھ عرصے کے استعمال کے بعد جھڑنے لگتی ہے۔ مینارکاری میں بعض کیمیائی اجزا شامل ہوتے ہیں جن میں معدنیات اور مٹی کی امتزاج سے ایک جزو بنایا جاتا ہے جسے Hydroxyapatitieکہا جاتا ہے ۔ قباحت یہ ہے کہ اس میں ایمونیا اور دیگر قلمی مرکبات کی تہیں بچھائی جاتی ہیں اکھڑنے یا برتن بدوضع ہونے کی صورت میں یہ محلول پکوان میں شامل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسے برتنوں میں اشیاء محفوظ کرنے کا مشورہ دیا جانا بھی درست نہیں ،بہتر ہے کہ نئی کراکری خریدلی جائے گھرانے کی صحت سے نہ کھیلیں۔
پستے کھائیے۔۔۔صحت پائیے
موسم سرما میں خشک میوے کھانے کی عادت اچھی تو ہے مگر موسموں پر ہی کیا موقوف، آپ ہر موسم میں چند دانے پستے کھائیں تو پھپھڑوں اور دوسرے کئی کینسروں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ یہ میوے کولیسٹرول گھٹاتے ہیں ان میں وٹامن، کیلشیم ، پروٹین، پوٹاشیم اور آئرن کی موجودگی ، فلو، کھانسی اوربلغم سے شفا دیتی ہے۔
ٹیکساس ویمنز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران 36افراد کو مسلسل چھ ہفتوں تک پستے کی ڈائٹ پر رکھا گیا جن میں کولیسٹرول کی زیادتی کی شکایت تھی اور نتائج آنے پر ہونے والے مختلف ٹیسٹوں کے بعد افرا د کے پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی گئی۔ سائنسدانوں کے مطابق پستے میں ایک جزو gamma-tocopheralکینسر کے خلاف ڈھال بنتا ہے اسی طرح دوسرے میوے جن میں اخروٹ، مونگ پھلی اور انجیر شامل ہیں یہ سب بھی جسم کے ہر عضو کے کینسر کے امکانات ختم کرتے ہیں۔ ہیوسٹن میں ہونے والی کینسر کی مدافعت سے متعلق ایک کانفرنس میں یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ یہ میوے جسم میں آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ عام سردرد میں بھی اگر درد کش ادویات کی بجائے پستے کھا لئے جائیں تو افاقہ ہوتا ہے ۔اسی طرح یہ آکسیجن شریانوں میں جمنے والے خون ، اعصاب اور دل کے دیگر امراض کی روک تھام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انار اینٹی آکسیڈنٹ پھل:
ایک تحقیق کے مطابق انار کے رس میں دوسرے پھلوں کے رس اور سبز چائے کے مقابلے میں زیادہ اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں۔ انار کا رس اس کو لیسٹرول کی مقدار کو آدھا کر دیتا ہے جو کہ شریانوں میں چکنائی کی موجودگی کا باعث بن کر دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ مستقبل میں انار کے رس پر اس نظریہ سے تحقیق کی جائے گی کہ روزانہ ایک گلاس انار کا رس پینے سے خون کے خلیات کے کام میں بہتری آتی ہے اور یہ شریانوں کی سختی کو کم کرنے کے ساتھ دل کی حالت کو بہتر بناتا ہے۔ انار کو تاریخی طورپر بھی اہم پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قدیم مصری دوبارہ جی اٹھنے کے خیال کے تحت دفن کے وقت انار کو لاش کے ساتھ دفنا تے تھے۔ یونانی اساطیر میں بھی انار کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسلمان انار کے ہر دانے کو کھانے پر زور دیتے ہیں اور اسے جنت کا پھل کہتے ہیں۔
آلودگی سے خاص کر بچوں کی حفاظت کیجئے:
ماہرین نے ایک سو چار مختلف قسم کے کیمیائی مادوں کی خون میں ممکنہ موجودگی کے بارے میں جاننے کے لئے نو سال سے لے کر اٹھاسی سال تک کے تینتیس افراد کے خون کا تجزیہ کیا ۔ خون کے نمونوں سے معلوم ہوا کہ ان ایک سو چار میں سے پچھتر کیمیائی مادے بچوں کے خون میں پچھتر ہی ان کے والد کے خون میں جبکہ ان کے دادا دادی کے خون میں چھپن مادوں کے آثار ملے، کچھ بچوں کے خون میں ایسے کیمیائی مادے کے عناصرے ملے جو روز مرہ کام آنی والی اشیاء مثلاً ٹی وی ، فرنیچر میں استعمال ہوتے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کا کہنا تھا کہ بچوں کو موذی بیماریوں سے بچانے کے لئے تمام مہلک کیمیائی مادوں کو مرحلہ وار ختم کر دیا جانا چاہئے۔ لیکن کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خون میں کیمیائی مادے کی موجودگی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
ہری سبزیاں رنگت کیوں کھو بیٹھتی ہیں؟:
ہری سبزیوں پر جمی گرد صاف ہونے کے بعد زیادہ پانی ڈال کر زیادہ دیر تک پکانے سے ان کا قدرتی کلوروفل (اہم غذائی جزو) اپنی افادیت کھونے لگا ہے۔ کلوروفل ایسا جزو ہے جس میں میگنیشیم کی وسیع مقدار پائی جاتی ہے دیگر مصالحوں اور پانی کے ساتھ مل کر ہری سبزیوں میں ہائیڈروجن کی مقدار بڑھتی ہے۔
بایو کیمیکل کی اصطلاح میں زیادہ پکنے سے سزیوں کی حیاتی سالمے تبدیل ہو جاتے ہیں جیسے pheophytinکہتے ہیں اس سادہ سی کیمیائی تبدیلی کے بعد تیز اور خوشنما رنگ زیتونی اور سلیٹی نما ہونے لگتے ہیں۔ ساگ ہویا پالک ہرے پتوں والی سبزیں کم مدت میں گلالی جائیں تو ان کا قدرتی غذائی جزو ضائع ہیں ہوتا۔ ہری سبزیوں میں آئرن کی موجوددگی کی وجہ سے بھی ان کی رنگت جلد کالی پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا انہیں جلد سے جلد کاٹ کر استعمال کر لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  ناخن جسم کی بہت سی بیماریوں کا بھی بتاتے ہیں
کیٹاگری میں : صحت