crown

بادشاہت کیلئے امتحان

EjazNews

ایک بادشاہ کے تین بیٹے تھے۔ تینوں ہی بہت نیک اور سلیقہ مند تھے۔ لیکن چھوٹا بیٹا باقی دونوں سے زیادہ عقل مند اور ذہین تھا۔ وہ اپنی ذہانت سے بہت سے اچھے فیصلے کر دیا کرتا تھا۔ جس سے بادشاہ کے ساتھ ساتھ درباری بھی داد دئیے بغیر نہ رہتے تھے۔ بادشاہ اب بوڑھا ہوتا جارہا تھا۔ وہ جلد از جلد اپنی سلطنت اپنے بیٹوں کے ہاتھوں میں دینا چاہتا تھا تاکہ وہ اپنی باقی زندگی ذکر الٰہی میں گزارے۔ اُصولاً تو اس کے بڑے بیٹے نے ہی بادشاہ بننا تھا لیکن بادشاہ چاہتا تھا کہ اس کے باقی دو بیٹوں کے ساتھ بھی کوئی ظلم نہ ہو۔ وہ یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا تھا کہ باقی دو بیٹوں کے ساتھ وہ کس طرح انصاف کرے۔ آخر وزیر نے پوچھا کہ ’’آپ کو کیا غم ہے؟‘‘۔
وزیر کے پوچھنے پر بادشاہ نے بتایا کہ ’’وہ اب اپنے بیٹوں کو بادشاہ بنانا چاہتا ہے۔ اُصولاً تو اس کے بڑے بیٹے نے ہی بادشاہ بننا ہے لیکن میں یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہوں کہ باقی دونوں بیٹے کہیں یہ نہ کہیں کہ ابا جان نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا۔‘‘
وزیر نے کہا۔ ’’بادشاہ سلامت آپ پریشان مت ہوں۔ میرے خیال میں تینوں شہزادوں کو کسی آزمائش سے گزاریں، اس آزمائش میں جو کامیاب ہوا، اسے بادشاہ بنا دیں۔‘‘ با دشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ لیکن اس نے کہا کہ ’’وہ آزمائش کیا ہوگی؟‘‘۔
وزیر نے کہا۔’’بادشاہ سلامت مجھے آپ کل تک کی اجازت دیں، میں وہ ترکیب سوچ لوں گا اور آپ کو کل صبح آکر بتادوں گا۔‘‘
وزیر ساری رات سوچتا رہا۔ آخر وہ ترکیب سوچ کر مطمئن ہو کر سو گیا ،صبح جب وزیر نے بادشاہ کو ترکیب بتائی تو بادشاہ سن کر بہت خوش ہوا اور وزیر کو مالا مال کر دیا۔
منصوبے کے مطابق بادشاہ نے تینوں شہزادوں کو بلایا اور کہا۔’’میں اب بوڑھا ہوتا جارہا ہوں اور اپنی باقی زندگی ذکر الٰہی میں وقف کر دینا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایک بادشاہ بنے۔ لیکن بادشاہ بننے کے لیے تم سب کو ایک آزمائش سے گزرنا ہوگا۔ بادشاہ نے کہا میں تم تینوں کو ایک ہزار اشرفیاں دوں گا جس سے تم لوگوں نے میرے لئے ایک ایسی چیز خریدنی ہے جس کا فائدہ مجھے اب بھی ہو اور بعد میں بھی۔‘‘
تینوں بیٹوں نے کہا۔’’ابا جان وہ ایسی کونسی چیز ہے؟‘‘۔
بادشاہ نے کہا۔’’یہ تم لوگ اپنی عقل سے سوچو، تم لوگوں کے پاس تین دن ہیں۔ تم لوگ ابھی اپنی منزل پر روانہ ہو جائو۔ ‘‘
 پھر بادشاہ نے تینوں کو ایک ہزار اشرفیاں دیں اور منزل پر روانہ کر دیا۔
بڑا شہزادہ مختلف بازاروں میں پھرتا رہا۔ آخر اس نے ایک ہیرے کی دکان دیکھی۔ ہیروں کو دیکھ کر وہ چندھیا گیا اور بے اختیار دکان میں داخل ہوگیا اور دکان دار کو مختلف ہیرے دکھانے کو کہا جس میں سے شہزادے کو ایک ہیرا پسند آگیا۔ جب شہزاد نے مالیت پوچھی تو اس نے کہا ایک ہزار اشرفیاں۔ بڑا شہزادہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور دکاندار سے ہیرا لے کر واپس آگیا اور تیسرے دن کا انتظار کرنے لگا۔
دوسرا شہزادے بھی ایسے ہی پھرتا رہا۔ منجھلے شہزادے کو اچھی اور مضبوط تلوار یں بہت پسند تھیں سو وہ ایک لوہے کی کان پر گیا جہاں اس نے ایک سونے کی تلوار دیکھی۔ شہزادے کے پوچھنے پر دکاندار نے بتایا کہ کوئی تاجر آکر یہ تلوار فروخت کر گیا، یہ تلوار بہت نایاب ہے اس کی قیمت ایک ہزار اشرفیاں ہیں۔ شہزادہ بہت خوش ہوا اور فوراً ایک ہزار اشرفیاں دے کر سونے کی تلوار خریدلی اور وہ بھی تیسرے دن کا انتظار کرنے لگا۔
چھوٹا شہزادہ سوچتا رہا، وہ مختلف بازاروں میں گزرتا اور دیکھتا کہ سب بازاروں میں بہت سارے فقیر ے مانگ رہے ہیں اور لوگ انہیں برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ شہزادے سے رہا نہ گیا اور اس نے سارے فقیروں میں اشرفیاں بانٹ دیں۔ وہ سب بہت خوش ہوئے اور شہزادے کو دعائیں دینے لگے، آخر تیسرا دن بھی آگیا ۔ سب شہزادے محل میں پہنچے انہوں نے اپنی اپنی چیزیں لے لیں اور بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دونوں بڑے شہزادوں نے بادشاہ کو ہیرا اور تلوار دکھائی۔ بادشاہ نے کہا ان کا مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ میں جب مروں گا تو یہ چیزیں میرے کیا کام آئیں گی۔
چھوٹا شہزادہ خاموش کھڑا تھا۔ اس نے کہا۔’’ابا جان! میں نے اپنی تمام اشرفیاں غریبوں میں تقسیم کر دیں اور انہیں اتنا دے دیا کہ وہ اپنی زندگی عزت سے گزاریں۔ وہ آپ کو بہت دعائیں دے رہے تھے جس کا فائدہ آپ کو اب بھی ہوگا اور آخرت میں بھی۔ یہ دعائیں آخرت میں آپ کو بخشش میں مدددیں گی۔‘‘
بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور چھوٹے بیٹے کو بادشاہ بنا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  حاسد وزیر اوربیمار ملا نصیر الدین