book reading

کتب بینی کے فوائد

EjazNews

ہمارے ہاں یہ تصور کر لیا گیا ہے کہ کتاب صرف نصابی ہوتی ہے اور نصابی کتاب کو پڑھنا ہی سب کچھ ہوتا ہے اور اس کے بعد کتابیں الماریوں میں کہیں گم ہو کر رہ جاتی ہیں اور شاید ہی ہم کتابیں پڑھتے ہوں۔ملک عزیز میں تو کتب بینی بڑی ہی کم ہوتی جارہی ہے ۔ اگر سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نظریں دوڑائیں تو ایک بھیڑ چال کا منظر نظرآئے گا اور اگر آپ سکول ،کالج اور یونیورسٹی کی زندگی کے بعد کے حالات دیکھیں تو کتابیں پڑھنےکیلئے کسی کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور یہ بحیثیت معاشرہ ہماری بدقسمتی ہے ۔ آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں دنیا کی طاقتور قوم کتابوں سے محبت کرتی ہوں گی اور ان کے ہاں کتابوں کے ذخیرے موجود ہوں گے۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو آپ یورپ ، امریکہ کی لائبریریز سرچ کریں آپ دنگ رہ جائیں گے کہ وہاں کتابیں کس قدر شائع ہوتی ہیں اور کتنی زیادہ پڑھی جاتی ہے اس جدید دور میں بھی۔
میرے ایک دوست برمنگھم کی ایک لائبریری میں کام کر تے تھے وہ بتاتے ہیں کہ یہ لائبریری ایک محلے کی تھی اور اس میں7لاکھ سے زائد کتب تھیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہونا چاہئے کہ اس جدید دور میں بھی کتابیں اپنی اہمیت برقر ار رکھے ہوئے ہیں۔
کتاب کے ساتھ تعلق انسانی زندگی پر گہرے اور مفید اثرات مرتب کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں بھی کتب خانے پہلے سے بھی کہیں زیادہ بہتر انداز میں اپنا وجود برقرا ر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک منتشراور افراتفری والے معاشرے کا شکار انسان تسکین قلب کے لیے کتب خانوں کا ہی رُخ کرتا ہے، جہاںموجود کتابیںایک طرف انسا ن کے خیالات پروان چڑھاتی ہیں تو دوسری طرف معلومات کا ذخیرہ رکھنے کے باعث انسانی ذہن کو فعا ل رکھنےمیں مدد دیتی ہیں۔
اگر آپ کتب بینی کا جائزہ لیں توماہرین لفظوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کتابوں میں موجود الفاظ دماغ کو متحرک رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ رش یونیورسٹی آف امریکا میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ جو نوجوان فارغ اوقات میں کتب بینی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ان میں بڑھاپے یا ادھیڑ عمری میں دماغی تنزلی اور دماغی بیماریوں کی شرح ان افراد ( جو کتابوں یا ایسی سرگرمیوں سے دور بھاگتے ہیں)کے مقابلے میں 32فیصد تک کم ہوتی ہے۔اگر آپ خود کو کسی اچھی تحریر یا کہانی میں مشغول کرلیں تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو دفتری معاملات، تعلیمی سرگرمیوں یا روزمرہ زندگی میںدرپیش دیگر مشکلات کے باعث کتنا ذہنی تناؤ ہے۔ کتب بینی جیسی مثبت سرگرمی سے تمام تر ذہنی تناؤ آپ کو بہت جلد دور بھاگتا محسوس ہوگا۔ اچھے الفاظ میں تحریر کیا گیا ناول آپ کو ایک الگ دنیا میں لے جائے گا جبکہ ایک اچھا مضمون آپ کی ذہنی کشیدگی کو دور کرنے میں مدد دے گا۔
آپ کتب بینی کے ذریعے جتنی معلومات اپنے ذہن میں ذخیرہ کرتے ہیں، یہ کسی بھی وقت آپ کے کام آسکتی ہیں۔ جتنی زیادہ معلومات آپ کے پاس موجود ہوں گی، آپ زندگی میں موجود چیلنجز سے اتنے ہی بہتر انداز میں نمٹ پائیں گے۔ مشکل حالات آپ سے پیسہ، صحت اور تعلقات دور لے جاسکتے ہیں لیکن آپ سے آپ کا علم کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔
دوران مطالعہ انسانی دماغ کے ایسے حصے جو مختلف افعال (دیکھنے، زبان اور سیکھنے) سے متعلق ہیں، وہ مطالعے کے دوران ایک مخصوص دماغی سرکٹ سے منسلک ہوجاتے ہیں جبکہ عام حالات میں ایسا ہونا کافی چیلنجنگ کام ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بالغ عمر سے ہی کتب بینی کرنے والے افرادکی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت اور یادداشت ان افراد سے بہتر ہوتی ہے جو کہ مطالعہ نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں کتب بینی دن دگنی رات چگنی تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی ہے یہ معاشرے کو زوال کی جانب لے جاتا ہے وہ معاشرے کبھی ترقی نہیں کر سکتے جو کتاب سے دور رہتے ہیں۔آپ اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجئے کہ آپ نے کتاب پڑھنی چاہے آپ ایک صفحہ ہی کیوں نہ روز پڑھیں۔ سونے سے پہلے اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے اس سے آ پ کے علم کے ساتھ ساتھ آپ کی دماغی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس: ون ورلڈ کلچر کے قیام کی جانب پیش قدمی