imran khan

آزادی مارچ کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت فیل ہو رہی ہے ان کوخوف ہے حکومت کامیاب ہو رہی ہے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے بابا گرونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا ۔ سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا دنیا میں کسی معاشرے نے تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کی۔ ہم ایک وقت میں سارے خطے میں تعلیم سے آگے تھے اور ہم نے اس کو پائیورٹی نہیں دی اور دیکھتے دیکھتے ہم پیچھے رہ گئے۔
وزیراعلیٰ صاحب میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں جتنی اوقاف کی زمینیں ہیں ، اوقاف کی زمینوں پر سب سے زیادہ قبضہ ہو رہا ہے اور اوقات میں کرپشن ہے۔ ہر درگاہ میں اوقاف کی زمین کے پاس یونیورسٹی بنائی جائے۔ دو چیزیں بنائی جائیں یونیورسٹی اور ہسپتال ۔ ان زمینوں کو ہم نے صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانا ہے ۔ بابا گرونانک ، بابا فرید ، بلھے شاہ یہ سارے بزرگ انسانیت کیلئے آئے تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی انسانوں کیلئے گزاری تھی۔ داتا صاحب اور میاں میر وہ لوگ تھے جو اپنی زندگی کا مقصد جانتے تھے اور انہوں نے ساری زندگی انسانوں کی خدمت کی ۔ کتنے سال ہوئے انہوں نے دنیا سے پردہ کیا ہوا ہے اس کے باوجود لوگ ان کی درگاہ پر آتے ہیں دعا مانگتے ہیں ۔ اور اللہ سب سے زیادہ عزت اس کو دیتا ہے جو انسانیت کی خدمت کرتا ہے۔ دنیا کی تاریخ کسی امیر آدمی کو یاد نہیں کرتی بلکہ اس کے بچے بھی اس کو بھول جاتے ہیں بلکہ دنیا یاد کرتی ہے ان لوگوں کو جو انسانوں کی خدمت کرتے ہیں۔
جو لوگ گرونانک سے عشق کرتے ہیں ہمیں ان کو کبھی نہیں روکنا چاہئے۔ ہمیں ان کو راستہ دینا چاہیے۔ سعودی عرب کی جس بھی ملک سے مخالفت ہو وہ لوگوں کو مکہ مدینہ میں آنے سے نہیں روکتے۔
وہ کہتے ہیں کہ آپ نے کرتار پور کا کوریڈور کیوں کھولا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پہلا ون ڈے آسٹریلیا جیت گیا
وزیراعظم عمران خان، وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب ،بابا گروونانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے

کسی ملک میں تین پیرل سسٹم نہیں چلتے ۔شفقت محمود یہ آپ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ ایک سلیبس ساری قوم کیلئے ہو تاکہ ہم ایک قوم بن کر نکلیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ایک خبر پڑھی ہے کہ عدالت نے فیڈرل گورنمنٹ سے پوچھا ہے کہ آپ نواز شریف کی زندگی کی کل تک کی گارنٹی دے سکتے ہیں ، میں تو اپنی زندگی کی گارنٹی نہیں دے سکتا اس کی زندگی کو کیسے دوں گا۔ہمارے دین میں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ۔انسان تو بس کوشش کر سکتا ہے۔ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں۔ ہم نے نواز شریف کیلئے بہترین ڈاکٹر پاکستان بھر سے دئیے ہیں۔ہم کراچی سے ڈاکٹر لائے ہیں، شوکت خانم کے ڈاکٹر پاکستان کے بہترین ڈاکٹر گنے جاتے ہیں ان کو خاص طور پر بھیجا ہے۔ ان کو چیک کریں۔ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں انسان زندگی اور موت کی گارنٹی نہیں دے سکتا۔ ہم نے کوشش پوری کی ۔ میں باربار یہ بات دہرانا نہیں چاہتا۔ ہم مدینہ کی ریاست کی بات اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے۔ اس ریاست سے دنیا کا عظیم سویلنائزیشن ایک ہزار سال تک رہا تھا۔
نبی کریم ﷺ نے کہا کہ میری بیٹی بھی جرم کرتی ہیں تو اسے بھی سزا ملے گی۔ تم سے بڑی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کیونکہ ایک قانون طاقتور کے لیے تھا اور دوسرا کمزور کے لیے۔ ایک بات یاد رکھیں جس قوم میں رول آف لاءنہیں ہوتا وہ تباہ ہو جاتی ہیں۔ جس میں عدالتیں ایک طرح سے نہیں دیکھتی۔ طاقتور کے لیے ایک وی آئی پی سسٹم بنا ہوا ہے اس لیے اللہ کی برکت ہماری قوم پر نہیں آتی۔ انسانیت کا نظام جدوجہد کانام ہے کئی اصولوں پر وہ کھڑی ہوئی تھی جس میں رول آف لاءسب سے بڑا اصول تھا۔ سب انسان اللہ کی مخلوق ہیں۔اللہ رب العالمین ہیں اور ہمارے نبی رحمت اللعالمین ہیں۔ آپ کا کوئی مذہب ہو ریاست کے سامنے سب ایک جیسے ہیں اور ریاست کے سامنے سب کے حقوق ایک جیسے ہیں۔ یہ طبقاتی نظام ختم کرنا چاہئے۔ ایک طبقے کے لیے سب کچھ اور باقی کیلئے کچھ نہیں۔ سارے خوشحال ملک دیکھ لیں، سنگا پور کی مثال لے لیجئے ہمارے سامنے اوپر آیا ہے۔ وہاں قانون کی بالا دستی ہے۔ رول آف لاءہے۔اقلیت خلیفہ وقت سے کیس جیت جاتی ہے۔ رول آف لاءتھا۔ انیسویں صدی میں انگریز کا رول آف لاءبہترین تھا۔
آزادی مارچ کے بارے میں ان کا کہنا تھامیں نے جب پہلے دن تقریرکی تو میں نے ایک پیشن گوئی کی تھی کہ ہمارے پاکستان کا سارا کرپٹ ایلیمنٹ اکھٹا ہو جائے گا۔ پہلے چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کرو۔ ملک کو مل کر لوٹو۔ ملک کا قرضہ چار گنا بڑھا دو۔ ہماری حکومت نے جتنا ٹیکس اکٹھا کیا آدھا ٹیکس ان کے قرضوں کی ادائیگی میں چلا گیا۔انہوں نے پہلے دن سے شور مچاناشروع کر دیا حکومت فیل ہو گئی۔ آج پوری دنیا کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے بہترین اصلاحات کیں اور ملک کو بہتر کر دیا۔ اور اس مقام پر پہنچے کہ دنیا بھر میں چھٹے اور ایشیا میں پہلے نمبر پر پاکستان ہے جس نے اپنا ماحول ٹھیک کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا آزادی مارچ کا مقصد کیا ہے، ان کا مقصد یہ نہیں کہ حکومت فیل ہو رہی ہے ان کوخوف ہے حکومت کامیاب ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کا استعفیٰ لینے آزادی مارچ کیلئے آرہی ہے۔ کہیں کہتے ہیں یہودی لابی ہے، کہیں جا کر کہتے ہیں ناموس رسالت ہے کہیں کہتے ہیں قادیانی سے مل گئے ہیں، کہیں کہتے ہیں کہ مہنگائی کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ ان کے ا دوار دیکھ لیں تو سب سے کم مہنگائی تحریک انصاف کے پہلے سال میں ہوئی۔ مسئلہ صرف ایک ہے ان سب کو پتہ ہے انہوں نے جس طرح اس کو ملک لوٹا ہے دونوں ہاتھوں سے ،ان کو خوف ہے چارگنا قرضہ ایسے نہیں بڑھتا سب نے مل کر اس ملک کو لوٹا ہے۔ یہ کیس تو ان کے اپنے دور کے ہیں ہم نے تو ابھی کیس بنائے ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کسی ملک کا وزیراعظم کسی دوسرے ملک کا شہری بنتا ہے۔ اقامہ منی لانڈرنگ کا ذریعہ تھا۔ کیا کبھی کسی ملک کا پرائم منسٹر کسی دوسرے ملک کا شہری بنتا ہے۔یہ بلیک ملینگ کرنے کا طریقہ ہے۔ میں سب کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ سارے اکٹھے ہوکر مارچ کریں،میں جب تک زندہ ہوں کوئی این آر او نہیں ملے گا۔
میں اپنی قوم کو آخر میں یہ بات کہہ کر جانا چاہتا ہوں اللہ نے اس قوم کو جو دیا ہے۔ دنیا یہاں باہر سے انویسٹمنٹ کا سوچ رہی ہے۔ ہمارے تاجرجو کبھی ٹیکس نیٹ میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم فکس ٹیکس میں آنے کے لیے تیار ہوں ۔ آپ کے دیکھتے دیکھتے ہی یہ ملک تیزی سے آگے بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت غیر معینہ مدت کیلئے لاک ڈاؤن نافذ نہیں کرسکتی،کم آمدنی والے طبقے پر تباہ کن اثرات سامنے آئیں گے:وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر