Ant-meet

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملاقات چیونٹیوں کے بادشاہ کے ساتھ

EjazNews

ایک روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے شاہی تخت پر بیٹھے ہوا پر جارہے تھے جو تخت جنوں نے بنایا تھا حضر ت سلیمان کے واسطے اور ان کے ایک ہزار سرکاری ملازمین بھی ان کے ساتھ اپنی اپی کرسیوں پر بیٹھے تھے اور ان میں ایک وزیراعظم بھی تھاجس کا نام آصف بن برخیا تھا ۔ وہ سب کے سب جن و انس گردا گرد تخت شاہی کے مودب کھڑے تھے اور ہوا پر اڑنے والے پرندے ان کے سر پر اپنے پروں سے سایہ ڈالے ہوئے تھے اس میں فرشتوں کی تسبیح کی آواز حضرت سلیمان ؑ کے کان میں آئی اور وہ یہ کہتے تھے کہ اے رب تو نے حضرت سلیمان ؑ کو جیسا ملک وحشم دیا ایسا کسی جن و بشر کو نہیں دیا۔ جناب باری تعالیٰ نے فرمایا اے فرشتو! میں نے سلیمان کو ہفت اقلیم کی بادشاہی عنایت کی ہے اور اس کو نبوت سے بھی سرفراز کیا ہے لیکن ان کو غرور و تکبر بالکل نہیں ہے اور ان کو ذرا بھی کبر ہوتا تو میں ان کو ہوا پر لے جا کر زمین پر ڈال دیتا اور پھر ان کو نیست و نابود کر ڈالتا۔ پس یہ کلام حضر ت سلیمان ؑ نے سنا اور پھر خدا کے دربار میں سجدہ بجا لائے اور ہوانے ان کے تخت کو زمین پر لے جا کر رکھا جہاں کہ چیونٹیوں کی بستی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ترجمہ: یہاں تک کہ جب پہنچے سلیمان چیونٹیوں کے میدان پر کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو! گھس جاﺅ اپنے گھروں میں تاکہ نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور ان کا لشکر اور پھر ان کو خبر بھی نہ ہو پس شاہ مور سے یہ بات حضرت سلیمان نے سن کر مسکرا کر کہا کہ یہ بھی رعیت پر شفقت اور مہربانی کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
ترجمہ: پس مسکراتے حضرت سلیمان ؑ چیونٹی کی بات پر پھر انہوں نے شاہ مور کو پکڑ کر اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھ کر پوچھا اے شاہ مور تم نے اپنے لشکر کو کیوں کہا سلیمان آتا ہے اپنے اپنے غاروں میں گھس جاﺅ۔ تم نے مجھ سے کیا ظلم دیکھا اس بات کو سن کر چیونٹی نے کہا اے نبی اللہ ہم نے آپ اور آپ کے لشکر وں سے کچھ ظلم نہیں دیکھا مگر اس واسطے کہ سہواً آپ کے لشکر وں کے گھوڑوں کی ٹاپوں کے تلے ہم سب آجائیں اور وہ ٹاپیں ہم کو ہلا ک کر ڈالیں ، یہ کام ہم نے تو حفظ ماتقدم کے واسطے کیا تھا اس واسطے ہم نے یہ بات کہی تھی کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائیں اور ہلاک ہونے سے بچ جائیں۔
یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ نے ا ن سے فرمایا کہ کیا تم ایسی ہی شفقتیں ان پر ہمیشہ کیا کرتے ہو وہ بولا جی ہاں حضرت جی ان کی خوشی سے میری خوشی ہے اور ان کی غمی سے مجھ کو غم ہوتا ہے اور ان کی غم خواری مجھ پر واجب ہے اللہ تعالیٰ نے اسی واسطے مجھ کو ان پر بادشاہ بنایا ہے ۔ اگر ایک چیونٹی بھی کسی زمین کے حصے پر مر جائے تو میں اس کو وہاں سے اٹھا کر اس کے مسکن پر پہنچاتا ہوں۔ حضرت سلیمان ؑ نے اس سے پوچھا مجھے یہ بتاﺅ کہ تمہارے ساتھ ہر وقت کتنی چیونٹیاں رہتی ہیں۔ کہا اس نے کہ ہمارے ساتھ تقریباً چالیس ہزار چیونٹیاں رہتی ہیں پھر اس کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے اس سے پوچھا کہ سلطنت تیری بہتر ہے یا میری۔ اس وقت چیونٹی نے کہا کہ میری بادشاہی بہتر ہے۔ تمہاری بادشاہی سے کیونکہ ہوا اٹھاتی ہے تمہارے تخت شاہی کو اور تخت شاہی اٹھاتا ہے تم کو اور تم اس پر بیٹھتے ہو یہ کتنا بڑا تکلف ہے تمہاری بادشاہی میں۔ اس بات کو سن کر حضرت سلیمان ؑ ہنس کر اس چیونٹی سے کہنے لگے کہ تم کس طرح جانتی ہو اور تمہیں یہ بات کس نے سکھائی ہے۔ شاہ مور نے کہا اے حضرت سلیمان ؑ اللہ تعالیٰ نے صرف تم کو عقل عنایت فرمائی اور وہ عقل صرف تم کو چند مسائل آپ سے دریافت کرو تب حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا کہ پوچھو کیا پوچھنا ہے تب شاہ مور نے کہا کہ تم نے خداوند قدوس سے سوال کیا تھا:
ترجمہ: کہا اے پروردگار مغفرت کر میری اور بخش مجھ کو ایسا ملک کہ نہ ہو کسی کو میرے پیچھے تو ہے سب سے زیادہ بخشنے والا۔
تمہارے اس سوال سے حسد کی بو آتی ہے اور پیغمبروں کو یہ حسد نہ کرنا چاہئے کیونکہ یہ ان کی شان کے خلاف ہے اور یہ اچھی طرح سے معلوم ہے کہ خداوند قدوس سارے جہان کا مالک ہے وہ جسے چاہے بادشاہی دے اور جسے چاہے نہ دے او یہ کہنا چاہئے کہ اے پروردگار میرے سوا کسی کو بادشاہی نہ دیجیو، یہ کہنا پیغمبروں کی شان سے بعید ہے۔ چیونٹی کی یہ باتیں سن کر حضرت سلیمان ؑ کچھ خفا ہوئے اسی وقت چیونٹی بولی اے حضرت سلیمان ؑ ٹھیک بات یہ ہے کہ اس سے آپ کو بیزار نہ ہونا چاہئے اور میں پھر آپ سے ایک بات پوچھتی ہوں۔ آپ اس کا جواب دیجئے۔ خدا نے جو انگشتری آپ کو دی ہے اس کا کیا راز ہے۔ حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ میں یہ نہیں جانتا کہ اس کا کیا بھید ہے تم ہی بتاﺅ کہ کیا بھید ہے۔ پھر اس نے کہا کہ خدا نے تم کو سلطنت دی ہے قاف سے قاف تک وہ سب ایک نگینہ کی قیمت ہے۔ تاکہ تجھ کو معلوم ہو کہ دنیا کچھ حقیقت نہیں رکھتی اور ہوا کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حکم کے تابع کیا ہے اس میں کیا بھید ہے کیا آپ کو اس کا بھید معلوم ہے۔ یہ بات بھی سن کر حضرت سلیمان ؑ نے کہا کہ مجھے اس کا بھی بھید معلوم نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ تم کو آگاہ کیا ہے کہ اس بات سے کہ بعد موت تمہیں دنیا ہوا جیسی معلوم ہوگی پس حضرت سلیمان ؑ اس بات کو سن کر بہت روئے اور پھر فرمایا کہ تم نے سچ کہا کہ دنیا مثل ہوا کے ہے پھر چیونٹی نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ سلیمان کے کیا معنی ہیں پھر حضرت سلیمان ؑ نے کہا میں اس کے معنی بھی نہیں جانتا۔ وہ چیونٹی بولی اس کے معنی یہ ہیں کہ تو دنیا کی زندگی میں اپنا دل مت لگا۔ ہر ساعت موت کے قریب ہے حضرت سلیمان نے چیونٹی سے کہا کہ تو بڑی دانا و عقل مند ہے ۔ مجھ کو کچھ نصیحت کر اور مجھے کار نیک بتا۔ چیونٹی نے کہا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا کی ہے اور جہاں کی بادشاہت بھی دی ہے کہ تم رعیتوں کی نگہبانی کرو اور اپنے عدل و انصاف سے رعیت کو شاد رکھو اور ظالم سے مظلوم کی داد لو اور میں تو بے چاری ضعیفہ و مسکین ہوں اپنی رعیتوں کی ہر روز خبر لیتی ہوں اور ان کا بار اٹھاتی ہوں کہ کوئی بھی کسی پر ظلم نہ کر سکے۔ پس اے حضرت سلیمان ؑ بغیر کچھ کھائے ہوئے آپ کو یہاں سے تشریف لے جانا بے مناسب ہے۔اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ہم کو روزی دی ہے اس میں سے آپ کچھ تناول فرما کر جائیے۔ یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ نے کہا بہت اچھا تب شاہ مور نے جا کر ایک ران ٹڈی کی حضرت سلیمان ؑ کے واسطے لا رکھی یہ دیکھ کر حضرت سلیمان ؑ ہنس کر بولے اے شاہ مور مجھ کو میرے لشکر سمیت ایک ران ٹڈی کی کیا ہوگی۔ اس نے کہا حضرت اس ایک ران کو آپ کم نہ سمجھئے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھئے اور اس میں بہت برکت ہے ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ؑ مع اپنے لشکر کے اس ایک ران کو کھا کر آسودہ ہو گئے اور پھر بھی اس میں سے کچھ باقی رہی۔ حضرت سلیمان ؑ یہ حال دیکھ کر بہت ہی متعجب ہوئے اور پھر سجدے میں گر کر کہا اے پروردگار تیری قدرت بے انتہا ہے اور توہی بے شک عظمت و بزرگی کے لائق ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چالاک لڑکا
کیٹاگری میں : بچے