diya aur toofan

دیا اور طوفان،اپنے وقت کی شاہکار فلم

EjazNews

کامیڈین بہترین فلم بھی بنا سکتے ہیں اور یہ فلم اپنے وقت کی شاندار فلم بھی ثابت ہو سکتی ہے اس کو اداکار رنگیلا نے بہت پہلے ثابت کر دیا تھا۔دیا اور طوفان کی ہدایت کاری کے فرائض مرحوم رنگیلا نے خود دئیے تھے اور اس کے مصنف اور فلم ساز بھی وہ خود ہی تھے۔ اس فلم کی نغمہ نگار فیاض ہاشمی تھیں جبکہ موسیقار کمال احمد تھے۔


رنگیلا نے فلم دیا اور طوفان بنا کر اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہر ہکیا تھا۔ انہوں نے اس فلم کی کہانی بھی لکھی تھی۔ اور ڈائریکش بھی دی۔ مزاحیہ کردار بھی ادا کیا۔ہمارے ہاں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے لیکن انہیں ابھرنے کے مناسب مواقع نہیں ملتے ۔ دیا اور طوفان کی کہانی قیام پاکستان سے پہلے 1945ء میں بنائی گئی سید شوکت حسین رضوی کی سپرہٹ فلم زینت سے اخذ کی گئی۔ اس کہانی میں رنگیلا نے ’’تھری سٹوجز‘‘ ٹائپ کی کامیڈی ڈال کر اسے نہ صرف دلچسپ بلکہ ایک سپرہٹ شاہکار بنا دیا۔ آج کل کے فلمسازو ہدایتکاروں کی طرح انہوں نے ساری فلم میں کیمرہ اپنے اوپر نہیں رکھا بلکہ ہر ایک کو اعلیٰ ترین پرفارمینس کا موقع دیا ۔ اس فلم کی کہانی بہت دلچسپ ہے اور دیکھتے ہوئے آپ بور نہیں ہوں گے۔
اس فلم میں ایک گیت جو اپنے وقت کا سپر ہٹ گیت تھا’’گامیرے منوا گاتا جارے۔ جانا ہے ہم کا دور‘‘خود رنگیلا نے گایا اور بہت سپرہٹ ہوا۔ اس سے رنگیلا کا یہ پہلو بھی منظر عام پر آیا تھا کہ وہ خود اچھے گلو کار بھی تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  پہلی پاکستان فلم جس نے 70کروڑ کمائے