Heart Attack

ہارٹ اٹیک ۔۔۔خطرے کی علامتیں

EjazNews

دل کی شریانوں کا مرض کئی طرح اپنا اظہار کرتا ہے۔ مریض انجائنا میں بھی مبتلا رہ سکتا ہے اور کسی پیشگی علامت کے بغیر ہارٹ اٹیک سے بھی دو چار ہو سکتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کی وضاحت آگے چل کر ہوگی۔
انجائنا:
اس مرض میں مبتلا افراد کو جسمانی مشقت پر چھاتی کے درد کی اذیت ہوتی ہے۔ سینے کا درد، چھاتی پہ کچلنے والے بوجھ کے احساس کی صورت میں یا سینے کے مرکزی حصہ میں شدید قسم کی گرفت اور کھچائو کے احساس کی شکل میں ہوتا ہے۔ درد پھیل کر بائیں بازو کی طرف ، جبڑوں ،گردن یہاں تک کہ سینے کے زیریں حصہ میں جاسکتا ہے۔ انجائنا کی ایک علامت سانس پھولنا بھی ہے۔ انجائنا کا درد بہر حال ایک عارضی کیفیت ہوتا ہے جو ایک سے پندرہ منٹ کے درمیان ختم ہو جاتا ہے۔
اگر آپ انجائنامیں مبتلا ہیں تو آپ سوچتے ہوں گے کہ یہ مرض آخر کیا رخ اختیار کرے گا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب انجائنا کے سبھی مریضوں کو مستقبل قریب میں ہارٹ اٹیک سے واسطہ نہیں پڑے گا۔ واقعتاًآپ بھی انجائنا کے درد سے محفوظ رہ سکتے ہیں اگر آپ اپنے ایتھرو سکلرو سز (شریان کی رکاوٹ بننے والے چربیلے اجتماع) کو کم کر لیں اور اس کے لیے تمام رسک فیکٹرز (خطرے کے عوامل) واضح طور پر کم کر لیں۔
انگلستان میں مرتب کیے گئے ایک مطالعے میں 2سو مریضوں کو کئی سال تک زیر مشاہدہ رکھا گیا۔ مطالعے کے نتائج نے ظاہر کیا کہ ان میں سے 25فیصد مریض ٹیبلٹس کے استعمال سے انجائنا کے درد سے نجات پا گئے جبکہ 27فیصد مریضوں کو کبھی کبھار اس درد سے واسطہ پڑا۔ 6فیصد بار بار کے درد سے بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ 45فیصد 25سال کے عرصہ کے دوران ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیلیور سے انتقال کر گئے۔
دیگر علامتیں:
دل کی شریانوں کا مرض رکھنے والے اچانک بھی ہارٹ اٹیک سے دو چار ہو سکتے ہیں اور اٹیک سے پہلے اس میں کوئی علامت دیکھنے میں نہیں آتی۔ ہار اٹیک کی درست تشخیص کسی تجربہ کار فزیشن کے معائنہ کی طالب ہوتی ہے تاکہ کوئی علامت زیر غور آنے سے رہ نہ جائے ۔بدقسمتی سے بہت سے لوگ تصور کر لیتے ہیں کہ ان کے سینے کا درد معدے کی بے قاعدگی سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے زیادہ کھانا کھا لیا ہے یا کوئی ایسی چیز کھالی ہے جو معدے کی خرابی کا سبب بنی ہے اور درد لاحق ہو گیا ہے۔ چنانچہ وہ ڈاکٹر سے رابطہ ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسی غفلت کے نتائج تباہ کن بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ ہارٹ اٹیک کے شکار مریض کی تشخیص ابتدائی مرحلے میں نہ ہو سکے تو اس کے دل کی دھڑکنیں بے قاعدگی میں مبتلا ہو سکتی ہیں یا ہارٹ فیلیور کے اسباب فروغ پا کر اچانک موت سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔
ہارٹ اٹیک کی عمومی علامتوں میں اچانک شدید قسم کا سینے کا درد بھی شامل ہےجو سینہ کے مرکزی حصہ میں کھچائو گرفت یا بوجھل پن کی ناقابل برداشت کیفیت کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ درد اکثر اوقات کچلنے والا یا پھٹ پڑنے کی کیفیت کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ چند منٹ تک جاری ر ہنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے اور مریض پر سکون ہو جاتا ہے۔ لیکن چند منٹ کے بعد درد پھر چھڑ جاتا ہے۔ عام طور پر اس کا درد پھیل کر بائیں بازو میں بھی محسوس ہونے لگتا ہے اور بعض اوقات یہ جبڑے ، گردن، دانتوں اور پشت میں بھی محسوس ہوتا ہے۔ عمومی طورپر یہ انجائنا کے درد کے مقابلے میں زیادہ شدید اور طویل عرصہ تک رہتاہے۔ سینے کے درد کے ساتھ سانس پھول جاتا ہے ۔ پسینے آتے ہیں، رنگ پیلا پڑ جاتا ہے، سرچکراتا ہے اور متلی اور قے شروع ہو جاتی ہے۔ معمولی قسم کے ہارٹ اٹیک میں مریض اس قابل ہوتا ہے کہ چل کر اپنے معالج تک پہنچ سکے۔ بے چینی ، درد یا بد ہضمی کا احساس جو اٹیک کے دوران مریض پہ طاری ہوتا ہے، وہ بھی کسی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ درمیان درجے کے شدید اٹیک میں سینے کا درد اورتمام تر کیفیات زیادہ شدت رکھتی ہیں۔
عام طور پر ہارٹ اٹیک کے پہلے 24سے 48گھنٹے انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ اس دوران فوری طور پر واقع ہونے والی اموات ان بے قاعدہ دھڑکنوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جو دل کے متاثر ہ حصے سے جنم لیتی ہے۔
خاموش ہارٹ اٹیک:
اسے خاموش وقف الدم یا کسی علامت کے بغیر ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔ عموماً سمجھا جاتا ہے کہ ہارٹ اٹیک کے دوران لازمی طور پر شدید قسم کا سینے کا درد چھڑ جاتا ہے۔ ٹھنڈے پسینے آتے ہیں، سانس پھول جاتا ہے اور متلی اور قے کا احساس ابھرتا ہے۔ لیکن ہر واقعہ میں ایسا نہیں ہوتا۔ حالیہ برسوں میں ’’خاموش ہار اٹیک‘‘ کا نیا مسئلہ میڈیکل سے وابستہ لوگوں کے سامنے آیا ہے اور آج کل شد ت سے زیر بحث ہے۔ ’’ سائیلنٹ مائیو کارڈئیل اسکیمیا ‘‘کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے۔ جب جسم کا انتباہی (خطرے سے آگاہ کرنے والا ) نظام تبدیل ہو جاتا ہے اور متاثرہ فرد ہارٹ ، اٹیک یا انجائناکی مخصوص علامتوں میں خاص طور پر سینے کا درد محسوس نہیں کرتا۔ ایسی صورت میں مریض اور معالج دونوں ہی بے خبر رہتے ہیں ۔ بعض اوقات تو یہ صورتحال صرف اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب ECGکسی تازہ یا پرانے ہارٹ اٹیک کی نشاندہی کرتی ہے۔ آخر کیوں کچھ لوگوں کوسینے کا مخصوص درد محسوس ہوتا ہے جبکہ شریانوں کی رکاوٹ موجود ہونے کے باوجود کچھ لوگوں کو سانس کی گھٹن محسوس نہیں ہوتی؟ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ کچھ لوگوں میں درد محسوس کرنے والے اعصاب زیادہ حساس اور کچھ میں کم حساس ہوتے ہیں۔
اگرچہ عام لوگوں کو خاموش ہارٹ اٹیک کے مسئلہ سے پوری آگاہی میں کئی برس لگ سکتے ہیں لیکن مسئلہ بہر حال انتہائی سنگین ہے کیونکہ خاموش ہارٹ اٹیک کے بہت سے شکار اچانک موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ 60سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں 50فیصد تک ہارٹ اٹیک واقعی درد کے بغیر ہو سکتے ہیں۔ کسی معمر فرد میں سینے کے شدید درد کی بجائے کچھ دوسری علامتیں ابھر سکتی ہیں جن میں سانس پھولنا، نڈھال ہونا اور سستی طاری ہونا شامل ہیں۔ بعد میں ای سی جی اور بلڈ ٹیسٹ ہارٹ اٹیک کی تصدیق کر دیتے ہیں۔
خاموش ہارٹ اٹیک کا مسئلہ ذیباطیس کے مریضوں میں زیادہ مشکل پیدا کر سکتا ہے کیونکہ ان کا اعصابی نظام اور درد کا احساس ٹھیک طرح کام نہیں کررہا ہوتا۔ اسی طرح خاموش ہارٹ اٹیک میں انجائنا کے لفظوں میں خاموش ہار ٹ اٹیک سے متاثرہ افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی جارہی ہے کہ اب یہ علمی بحث کا موضوع نہیں رہے گی۔ بہر حال عملاً یہ صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو معالجین اور ماہرین امراض کے لیے ایک چیلنج ہے۔
گزشتہ پندرہ برس کے دوران ہونے والی نئی تحقیق جس میں ایکسر سائز سٹریس ٹیسٹ اور چلتے پھرتے فرد کے دل کی مانیٹرنگ شامل ہے ، ماہرین کو اس نتیجہ پر لائی ہے کہ لاکھوں بالغ افراد دل کی شریانوں کی خاموش بیماری کے مریض ہیں۔ ڈاکٹر کوھن نے بذات خود چلتے پھرتے افراد کے دل کی مانیٹرنگ کے بعد یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ 75سے 80فیصد ہارٹ اٹیک معمولی درد کے ساتھ یا درد کے بغیر ہوتے ہیں۔ آپ اکثر وبیشتر سنتے ہی ہیںکہ فلاں آدمی جسے کبھی کوئی د ل کا مرض نہیں تھا اچانک مرگیا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ خاموش ہارٹ اٹیک کا سراغ لگانے والی نئی تکنیک سے پتہ چلتا ہے کہ متاثرہ افراد کی اکثریت ہارٹ اٹیک کے سبھی اسباب رکھتی ہے ۔ صرف امریکہ جیسے ملک میں ساڑھے تین سے چار لاکھ تک بالغ افراد ہر سال اچانک موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی دل کی بیماری کا ذکر نہیں کیا ہوتا۔ لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹیں بتاتی ہیں کہ وہ سب دل کی شریانوں کی بیماری سے بری طرح متاثر تھے۔
بعض اوقات ایسے بالغ افراد جو کسی جسمانی ایکسر سائز کے عادی نہیں ہوتے اچانک ’’خود کوفٹ رکھنے والی‘‘ ایکسر سائز کے جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خود کو نڈھال کر لیتے ہیں۔ اگر ایسے افراد کے دلوں کی شریانیں سخت اور تنگ ہو چکی ہوں اور جزوی طور پر پہلے سے بند ہوں تو وہ اچانک ہارٹ اٹیک اور موت کے خطرے کی زد میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 35سال سے زائد عمر کے لوگوں کو جو پہلے کاہلی کے عادی رہے ہوں ، کوئی ایکسر سائز پروگرام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لینا چاہئے۔ ایسے مریض جو شدید قسم کے ہارٹ اٹیک سے گزر چکے ہوں جس میں انہیں سینے کا درد بھی لاحق رہا ہو، وہ بھی مستقبل میں خاموش ہاٹ اٹیک سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک درد کے ساتھ ہو یا درد کے بغیر ، بہر طور دل کی معمولی کارکردگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جو لوگ خاموش ہارٹ اٹیک سے گزر چکے ہوں وہ اچانک موت کے خطرے سے ہر وقت دو چار ہوتے ہیں۔
سینے کا درد ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا:
یہ حقیقت بہر حال اپنی جگہ موجود ہے کہ سینے میں اٹھنے والا ہر درد انجائنایا ہارٹ اٹیک نہیں ہوتا۔ اعصاب زدہ افراد کو سینے کے بائیں حصہ میں یا دل کے مقام پر تیز یا مدھم درد محسوس ہوتاہے۔ بعض اوقات اس کے ساتھ دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی ہے۔ تھکاوٹ اور سانس پھولنا بھی شامل ہوجاتا ہے۔ زیادہ مشقت یا جسمانی تھکاوٹ بھی بعض افراد کو دل کے مقام پر سینے کی ہڈی کے پیچھے درد پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ معدے کی گڑ بڑ، چھوٹی آنت یا معدے میں السر، پتے میں پتھری، لبلبے کی سوزش بلکہ اینڈیسائٹس تک کے درد، ہارٹ اٹیک سے مشابہ ہوتے ہیں۔
اگرچہ سینے میں درد متعدد اسباب میں سے کسی ایک کے نتیجہ میں ہوسکتا ہے لیکن مناسب ترین مشورہ اور محفوظ ترین اقدام یہ ہے کہ مریض کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ لیبارٹری کے ٹیسٹ جن میں ای سی جی اور کچھ بلڈ ٹیسٹ ضروری ہیں، اس بات کا تعین کرنے میں مدد دیں گے کہ مریض ہارٹ اٹیک سے دو چار ہوا ہے یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہے۔
دل کی شریانوں کے مرض کے خطرے کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بلڈ کولیسٹرول لیول کی پڑتا ل اور پھر اس کا اضافہ روکنے کے لیے احتیاطی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ ان اقدامات کے بعد باقاعدگی سے چیک اپ جاری رکھنا ہر فرد کی ترجیحات میں سر فہرست رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  امراض قلب سے بچاؤ