breast cancer

ہر رسولی بریسٹ کینسرنہیں ہوتی

EjazNews

اکثر عورتوں میں چھاتیوں میں گانٹھیں عام بیماری ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی نرم گٹھلیاں سی ہوتی ہیں، جن میں رقیق مادہ بھرا ہوتا ہے انہیں رسولیاں بھی کہتے ہیں۔عورت کی ماہواری کے نظام کے دوران ان میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ان میں زخم ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں دبایا جائے تو درد ہوتا ہے۔
کچھ رسولیاں چھاتی کا سرطان ہو سکتی ہیں:
چونکہ چھاتی کی رسولیوں میں سرطان کا خدشہ ہمیشہ رہتا ہے، اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ اپنی چھاتیوں کا معائنہ ضرور کرے۔اگر عورت نے گزشتہ ایک سال کے دوران بچے کو اپنا دوھ پلایا ہو تو ایک یا دونوں چھاتیوں کی بھٹنی سے دودھیا رنگ یا بے رنگ مادے کا اخراج عام بات ہے۔ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر نپل سے برائون، سبز یا خون کے رنگ کا مادہ خارج ہو رہا ہے، خاص طور پر صرف ایک بھٹنی سے تو یہ سرطان کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں فوراً اپنا معائنہ کروائیں۔
چھاتی کا انفیکشن:
اگر ایک عورت، بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہے اور اس کی چھاتی پر سرخ رنگ کے نشان پیدا ہو جاتے ہیں، جن میں جلن محسوس ہوتی ہے تو اس بات کا خدشہ ہو سکتا ہے کہ اسےورم پستان یا چھاتی کے ورم کی شکایت ہو گئی ہے۔ یہ سرطان نہیں ہے اور اس کا علاج آسانی سے ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر عورت ،بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا رہی اور ایسے میں یہ شکایت ہو تو یہ سرطان کی علامت ہو سکتی ہے۔
چھاتی کا سرطان:
چھاتی کا سرطان عام طور پر آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اگر اس کا جلد پتا چل جائے تو بعض اوقات اس کا علاج ہو سکتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کس عورت کو چھاتی کا سرطان ہو سکتا ہے۔ جن عورتوں کی ماں یا بہنوں کو چھاتی کا سرطان ہو چکا ہویا جس عورت کو رحم کا سرطان ہو، اسے چھاتی کا سرطان ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔50سال سے زیادہ عمر کی عورتوں میں چھاتی کے سرطان زیادہ عام ہیں۔
خطرے کی علامتیں:
صرف ایک چھاتی پر ایک کھردری گانٹھ (رسولی) جس میں کوئی درد نہ ہو اور دبانے سے جلد کے نیچے حرکت نہ کرے۔
چھاتی پر سرخ یا زخم جو ٹھیک نہ ہو رہا ہو۔
چھاتی کی جلد اندر دب گئی ہو یا لیموں یا نارنگی کی سطح کی طرح ناہموار اورکھردری ہو گئی ہو۔
چھاتی کی بھٹنی(نپل) اندر کی طرف دب گئی ہو۔
صرف ایک بھٹنی (نپل) سے غیر معمولی طور پر مادہ خارج ہو رہا ہو۔
بازو کے نیچے سوجن جس میں درد بھی ہو۔
چھاتی کے کینسر کی تشخیص اور علاج:
اگر آپ باقاعدگی سے اپنی چھاتیوں کا معائنہ کرتی ہیں تو بہت ممکن ہے کہ چھاتیوں کی شکل یا ان میں کسی تبدیلی یا نئی گانٹھ (رسولی )کا آپ کو فوراً پتا چل جائے۔ میمو گرام ایک خاص قسم کا ایک ایکسرے ہوتا ہے جو چھاتی کی گانٹھوں کا اس وقت پتالگا لیتا ہے جب وہ بہت چھوٹی اور کم خطرناک ہو تی ہیں ۔ لیکن میمو گرام سے معائنہ کرانے کی سہولت بہت سی جگہوں پر دستیاب نہیںہوتی اور یہ بہت مہنگا بھی ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ یقینی طور پر نہیں بتا سکتا کہ کوئی گانٹھ سرطان زدہ ہے یا نہیں۔
یہ جاننے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ کس عورت کو چھاتی کا سرطان ہے ۔ یہ طریقہ بائیولپسی کہلاتا ہے۔ اس طریقے میں سرجن چھاتی کی پوری گانٹھ یا اس کا ایک حصہ سوئی یا نشتر کے ذریعے نکال لیتا ہے اور اسے لیبارٹری بھیج دیا جاتا ہے۔
چھاتی کے سرطان کے علاج کا انحصار اس بات پر ہے کہ سرطان کتنا پھیل چکا ہے اور شروع میں ہی پتا لگا لیا گیا ہے تو آپریشن کے ذریعے گانٹھ (رسولی) نکالنا کافی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض صورتوں میں پوری چھاتی کو آپریشن کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ڈاکٹر دوائوں اور شعاع ریزی کے طریقے بھی استعمال کر تے ہیں۔
کوئی بھی نہیں جانتا کہ چھاتی کے سرطان سے کیسے بچا جائے لیکن ہمیں یہ معلوم ہے کہ اگر اس کی جلد تشخیص اور علاج ہو جائے تو اس سے بچا جا سکتا ہے۔ ایک دفعہ علاج کے بعد اکثر عورتوں کو دوبارہ سرطان کی شکایت نہیں ہوتی۔ یہ دوسری چھاتی میں ہو سکتا ہے یا پھر کبھی کبھی جسم کے کسی اور حصے میں ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین کو اچھی صحت کیلئے کھانے کا کیوں خیال رکھنا چاہئے؟