nawaz sharif

ہر شخص عام آدمی نہیں ہوتا اب تو حکومت کو بھی سمجھ آگئی

EjazNews

سابق وزیراعظم نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے اور وہ اپنی تیسری باری میں بھی وزارت عظمی کی مدت پوری نہیں کر سکے۔ لیکن ان کے تیسرے ٹنیور میں ان کی پارٹی کے وزیر نے باقی مدت وزارت عظمی کی سیٹ سنبھالی۔ نواز شریف کی وزارت عظمی ختم کرنے پر بات ختم نہیں ہوئی عدالتی احکامات پر ان کے الیکشن لڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی اور انہیں ان ہی کی پارٹی صدارت سے ہٹانے کے احکامات بھی جاری ہوئے۔

نواز شریف کی تیسری مدت ان پر کافی بھاری رہی ان کے بیرون ملک آپریشن کو متنازعہ بنایا گیا۔ اس کے بعد محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کو لے کر پرلے درجے کی سیاست کی گئی اور سوشل میڈیا پر جو ہوا اس کا احساس صرف وہی بیان کر سکتے ہیں جن پر گزری ہے۔

نواز شریف کی بیماری کو لے کر بھی اسی طرح کا مذاق بنایا گیا۔ ان پر مختلف طرح کے الزامات عائد کیے گئے۔ اور آج حالت یہ ہے کہ پورا ملک پریشان ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نیانظام

کراچی سے صوبائی وزیر نے حکومت پر سخت تنقید کی جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف کی صحت کو لے کر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ نواز شریف کی پارٹی اور خاندان کے لوگ تو ہیں ہی پریشان۔ لاہور کا سروسز ہسپتال کا بیرونی حصہ کارکنوں سے بھرا ہوا ہے۔ نواز شریف کو معمولی سا ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ ان کی ای سی جی ٹھیک آئی ہے۔

نواز شریف کی صحت کو لے کر پہلی دفعہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ وہ صدق دل سے ان کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ انہوں نے اپنی معاون خصوصی کو بھی نواز شریف کی صحت کو لے کر بیانات دینے سے روکا ہے۔

گزشتہ روز میاں نواز شریف کے بھائی میاں شہباز شریف نے کہا تھا کہ پوری قوم ان کی صحت کیلئے دعا کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبعی بنیادوں پر میاں نواز شریف کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن تعاون کرتے ہوئے موجودہ انتخابی نظام کی اصلاح میں مدد کرے:وزیراعظم