haraz sara

حضرت سارہ علیہا السلام

EjazNews

حضرت سارہ علیہا السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیو ی ہیں اور حضرت اسحاق نبی علیہ السلام کی ماں ہیں حضرت سارہ ؑ بڑی نیک اور پرہیز گار تھیں۔ بڑھاپے تک کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ بڑھاپے میں فرشتوں نے لڑکے حضرت اسحق ؑ اور پوتے حضرت یعقوب ؑ کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی یہ سن کر ان کوبڑا تعجب ہوا کہ بڑھاپے میں کیسے اولاد ہوسکتی ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کے کام سے تعجب نہ کرو۔ اللہ کی مہربانیاں تم پر نازل ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واقعہ کو سروہ ہود میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
ترجمہ: اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے اور سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی دیر کے گائے کے بچہ کا بھنا ہوا گوشت لے آیا۔ اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ اسے نہیں لگ رہے ہیں تو انہیں انجان پاکر دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے۔ انہوں نے کہا ڈرو نہیں ۔ ہم تو قوم لوط ؑ کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں اس کی بیوی (سارہ) جو کھڑی ہوئی تھی ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحق کی اور اسحق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی وہ کہنے لگی آہ میرے یہاں کیسے اولاد ہوسکتی ہے میں اب پوری بڑھیا اور یہ ہیں میرے خاوند بڑی عمر کے یہ تو یقینا بڑے تعجب کی چیز ہے فرشتوں نے کہا کیا تو قدرت خدا سے تعجب کر رہی ہے۔ اے اس گھر کے لوگو!تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ بیشک خدا سزا وار حمد و ثنا اور بڑی بزرگیوں والا ہے۔“ (سورہ ہو)
حضرت سارہ ؑ کی قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بڑی تعریف فرمائی۔ یہ ان کی بزرگی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت بڑی خدمت گزار تھیں۔ آرام و تکلیف، حضرو سفر میں ساتھ دیتیں۔جب کافروں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت ستایا تو خدا کے حکم سے اپنی بیوی سارہ ؑ کو ساتھ لے کر ہجرت کر کے ملک شام کی طرف چلے۔ راستہ میں ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں پہنچے۔ لوگوں نے اس ظالم بادشاہ کو خبر دی کہ یہاں ایک شخص آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک خوبصورت عورت ہے۔ اس ظالم بادشاہ نے ابراہیم علیہ السلام کوبلا بھیجا۔ آپ گئے اور آپ سے دریافت کیا کہ یہ تمہارے ہمراہ کون عورت ہے؟ (چونکہ یہ ظالم بادشاہ جب کسی کے ہمراہ اس کی بیوی کو دیکھتا تو خاوند کو مروا کر اس کی بیوی کو چھین لیتا۔ البتہ اگر اس کے ہمراہ باپ یا بھائی کو دیکھتا تو چھوڑ دیتا تھا) حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا: ”اُختی “ یہ میری بہن ہے بادشاہ کے پاس سے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی سارہ ؑ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
ترجمہ: ”اے سارہ میرے اور تیرے علاوہ روئے زمین میں کوئی مومن نہیں ہے۔ اس ظالم بادشاہ نے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا تو میں نے تم کو اپنی بہن بتایا ہے تم میری بات کو نہ جھٹلانا“۔ (بخاری)
اس ظالم بادشاہ نے سپاہی بھیج کر حضرت سارہ ؑ کو اپنے دربار میں بلایا۔ جب اس ظالم نے حضرت سارہ ؑ کو دیکھا تو وہ اس کی طرف لپکا اور دست درازی کا ارادہ کیا۔ ادھر اس پارسا اور نیک سارہ ؑ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس ظالم پر ایک ایسے عذاب کونازل فرما دیا کہ جس کی سزا میں وہ تڑپنے لگا۔ دست و پا میں کپکپی پیدا ہوگئی اور مرگی والوں کی طرح ہاتھ پاﺅں مارنے لگا۔ حضرت سارہ ؑ کی اس کرامت کو دیکھ کر وہ ملعون بادشاہ بولا”ادعی اللہ لی ولا اضرک “ تم میرے چھٹکارے کے لیے خدا سے دعا کرو۔ میں اچھا ہوگیا تو تمہیں نہیں ستاﺅں گا۔
حضرت سارہ ؑ نے خیال کیا کہ اگر یہ مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے مار ڈالا۔ اس ظالم کے لیے دعا کی کہ وہ اچھا ہوگیا اچھا ہونے کے بعد وہ اپنا قول واقرار بھول گیا۔ پھر مردود چھیڑ خانی کرنے لگا اور شرارت پر اتر آیا۔ پھر اس کو عذاب الٰہی نے پکڑ لیا اور اب کی دفعہ پہلے سے اس کی بری حالت ہوگئی۔ پھرعاجزی کرنے لگا اس پارسا سے دعا کی درخواست کی۔ حضرت سارہ ؑ نے پھر دعا کی اوروہ دوسری دفعہ بھی اچھا ہوگیا۔ اسی طرح تین دفعہ ہوا۔ آخر میں عاجز آکرجھنجھلا گیا اور اپنے ملازم کوبلا کر کہا ”انکم لم تاتونی بانسان“ تم میرے پاس کسی انسان کونہیں لائے بلکہ یہ کوئی بھوت ہے اس کو یہاں سے لے جاﺅ۔ ”فاخدمھا ھاجرة “ پس ہاجرہ ؑ کو بھی سارہ ؑ کے ساتھ کر کے رخصت کر دیا۔ جب حضرت سارہ علیہا السلام حضرت ابراہیم ؑ کے پاس پہنچیں اس وقت حضر ت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہو کرنماز پڑھ رہے تھے۔ اشارہ سے دریافت فرمایا کیا حال ہے؟۔ سارہ نے کہا ”رد اللہ کیدالکافر فی نحرہ واخدم ھاجرة الخ“ اللہ نے اس کافر کے فریب کو اسی پر الٹ دیا ہے اور خدمت کے لیے ایک لونڈی ہاجرہ کو دلوایا ہے۔
ملک شام پہنچنے کے بعد حضرت اسحق علیہ السلام پیدا ہوئے اور ان کے صاحبزادے حضرت یعقوب ؑ اور انھیں دونوں سے بنی اسرائیل اور بنی اسرائیل کے انبیاءپیدا ہوئے۔ یہ بڑی نیک اور مبارک خاتون تھیں۔ جن کی نسل سے ہزاروں نبی پیدا ہوئے۔ ان سے تم عبرت حاصل کرو کہ پارسا عورتوں کی اللہ تعالیٰ کس طریقے سے حفاظت کرتا ہے اور خاوند کی فرمانبرداری کی وجہ سے کس طرح سے مصیبتیں دور کر دیتا ہے اور صبر کرنے سے اولاد صالح دیتا ہے ان کی نیکی وجہ سے اللہ تعالیٰ قیامت تک ان کانام روشن رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا