parliment-house

پاکستان میں کوئی وزیراعظم جم کر حکومت نہیں کر سکا

EjazNews

پاکستان میں کوئی وزیراعظم جم کر حکومت نہیں کر سکا کسی کو برطانیہ میں بیوروکریسی کی تربیت حاصل کرنے والوں نے گھر بھیج دیا تو کسی کو مغرب زدہ بیوروکریٹس نے چھٹی کرادی۔ پاکستان کے 15ویں وزیراعظم میاں نواز شریف آئین کے آرٹیکل62اور 63کے تحت فارغ کر دئیے گئے ان پر آئین کے آرٹیکل 63(F) کے علاوہ پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کی دفعات بھی نافذ کی گئیں۔ پاکستان میں پہلے 5وزراءاعظم ،خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرا، محمد علی چوہدری، حسین شہید سہروردی، آئی آئی چندریگڑھ کو برطانیہ سے آئے ہوئے بیوروکریٹ اور گورنر جنرل غلام محمد نے گھر بھیج دیا۔ 51ءکے بعد ہونے والی اکھاڑ پچھا کے پیچھے برطانیہ سے تربیت یافتہ سول ایڈمنسٹریشن نے محلاتی سازش کے ذریعے من پسند وزراءاعظم لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ سکندر مرزا بھی مغرب زدہ تھے انہوں نے بھی مغرب میں تربیت حاصل کی تھی وہ پہلے فیروز خان نون کو اوپر لائے اور پھر انہوں نے جنرل ایوب خان کو اقتدار سونپ دیااور آخر میں جنرل ایوب نے وہی کیا جو انہوں نے اپنے پیش رو کے ساتھ کیا تھا اس طرح پاکستان میں 1950ء،1980 اور 1990ءکی دہائیوں میں وزراءاعظم جم کر حکومت نہ کر سکے ،البتہ مارشل لاءکے جرنیلوں نے جم کر حکومت کی محلاتی سازشیں اسے اٹھانے میں ناکا م رہی ۔ اس طرح پاکستان میں جمہوریت بھی یا توملٹری اسٹیبلشمنٹ کا سامنا نہ کرنے میں ناکام رہی یا پھر اسے سیاسی اسٹیبلشمنٹ نے گھر بھیج دیا۔سکندر مرزا اور غلام محمد ،سردارفاروق لغاری اور سردار غلا م اسحق خان اس سول ایڈمنسٹریشن کے سرخیل تھے۔ گورنر جرنلوں نے اپنی منشاءکے مطابق حکومتوں کو توڑا جبکہ جنرل ضیاءالحق نے جونیجو حکومت ، غلام اسحق خا ن نے نواز شریف اور بے نظیر حکومت اور سردار فاروق لغاری نے بےنظیر حکومت آئین کے آرٹیکل52-Bکے تحت حکومت برطرف، اس طرح آئین کا آرٹیکل 52-Bچار جمہوری حکومتوں کا قاتل ٹھہرا جس سے بالآخر میثاق جمہوریت سے نجات ملی یہ آسیب کی طرح چھایا ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا نواز شریف کی حکومت پہلی حکومت نہیں ہے جس کو آئین کے آرٹیکل 62-63 کے تحت فارغ کی گئی قبل ازیں یوسف رضا گیلانی کو بھی اس شق کے تحت فارغ کیا گیا جب سپریم کورٹ نے 30سیکنڈ کی سزا سنا کر باقی ماندہ دور کے لیے نا اہل قرار دے دیا۔ ان پر آئین کے آرٹیکل 63FIنافذ کیا گیا تھا۔ جنرل مشرف بھی اپنے دور میں تین وزراءاعظم کو اقتدار میں لائے۔ ظفر اللہ جمالی بلوچستان سے پہلے وزیراعظم تھے۔ 1999 ءمیں نواز شریف کی برطرفی کے بعد انہیں وزیرعظم بنایا گیا تھا لیکن مسلم لیگ کے اندر سے ہونے والی بغاوت کے بعد وہ نااہل ہو گئے اس کے بعد چوہدری شجاعت حسین عبوری دور کے لیے وزیراعظم ٹھہرے۔ اقتدار کا زعما ءشوکت عزیز کے سرپر سوار ہونا تھا کیونکہ وہ اس وقت رکن اسمبلی نہ تھی ان کو رکن اسمبلی بنانے کے لیے کوٹ ادو میں سیٹ خالی کی گئی یہی وہی الیکشن ہے جس میں بم دھماکے میں کچھ لوگ شہید ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہائی کورٹ ہر ڈویژن کی سطح پر ہونی چاہیے:وزیراعظم