Kashmir water

پاکستان کے ساتھ کشمیر کے رشتے

EjazNews

تنازعہ کشمیر پیدا ہونے کے بعد پاکستان اور کشمیر کے درمیان سماجی، ثقافتی، تاریخی ، جغرافیائی، مذہبی اور اقتصادی رشتوں کے متعلق بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کوریا اور ویت نام کے تنازعہ سے پہلے کشمیر کا تنازعہ دنیا کا ایک اہم ترین تنازعہ تصور کیا جاتا تھا اور بین الاقوامی سیاست میں بھی اسے نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ نیز اقوام متحدہ کے زیر غور مسائل میں بھی تنازعہ کشمیر سر فہرست رہا ہے۔ اس کے علاوہ دولت مشترکہ بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دیتی رہی ہے۔ جو آج تک حل نہیں کیا جا جاسکا۔ اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر کو پر امن اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی انتھک کوشش کر چکی ہے لیکن جیسا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے یہ بین الاقوامی ادارہ بھی ریاست جموں و کشمیر سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء عمل میں لا کر ریاست میں رائے شماری کروانے کا مسئلہ حل نہیں کر سکا۔ ریاست سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کامسئلہ تنازعہ کشمیر کے پر امن حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ اب اس بات کی ایک دفعہ پھر امید پیدا ہو گئی ہے ۔ہمیں امید تو یہی رکھنی چاہئے اور ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کا کوئی پر امن حل نکل آئے مگر سابقہ تجربات اس کی نفی کرتے ہیں۔کیونکہ بھارت اورپاکستان اس وقت تک اچھے ہمسایوں کی طرح نہیں رہ سکتے جب تک کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی ایسا حل نہ نکل آئے جو دونوں کے لئے تسلی بخش ہو۔ اگر مسئلہ کشمیر کا کوئی پر امن حل نہ نکل سکا تو یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کسی نہ کسی وقت وسیع پیمانے پر جنگ چھڑ جانے کا موجب بن جائے گا۔ جس سے عالمی امن کے لئے بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ ریاست کے باشندوں کا مستقبل وابستہ ہے اور اگر اس مسئلے کا کوئی حل مستقبل قریب میں بھی نہ ڈھونڈ نکالا گیا اور حالات کو بدستور بد سے بدتر ہونے کا موقع ملتا رہا تو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ کشمیر کے عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو کر جھلک پڑے اور وہ بھارت کے اس غاصبانہ تسلط کے خلاف اپنے جذبات نفرت و حقارت سے مغلوب ہو کر آخر کار کوئی ایسا خطرناک اقدام کرنے پر مجبو ہو جائیں جس کا انجام نہایت ہولناک ہو۔ اس لئے اب یہ نہایت ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تمام پہلوئوں پر نہایت ٹھنڈے دل سے غورو فکر کر نے کے بعد اس کا کوئی ایسا حل تلاش کیا جائے جو مبنی بر حقائق ہونے کے علاوہ دنیا کی نگاہ میں اپنا منطقی جواز بھی رکھے۔
کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو جائز قرار دینے کے لئے متعدد دلائل پیش کئے جا چکے ہیں جبکہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کا اس کے علاوہ اور کوئی جواز باقی نہیں ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ کو جب ریاست پر اپنی حکمرانی کی امید باقی نہ رہی تو اس نے ریاست کو اپنے ہاتھ سے جاتا دیکھ کر اسے بھارت کے حوالے کر دیا اور ریاست کے بھارت سے الحاق کی کاغذی کارروائی پر دستخط کر دئیے جبکہ بھارت فوج کے پاس ریاست میں مستقل قیام کے لئے کوئی اخلاقی اور قانونی جواز باقی نہیں ہے اور یہ بات بلا وجہ نہیں ہے ۔ دنیا کے آزادی پسند ممالک مسئلہ کشمیر پر بھارتی پالیسی کی حمایت سے دست کش ہوتے جارہے ہیں اور انہو ں نے کشمیری عوام کی کھل کر حمایت کر نی شروع کردی ہے جو اپنے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستان اور کشمیر کے درمیان سب سے پہلا رشتہ تو دونوں خطوں کی قدرتی جغرافیائی حدود نے قائم کیا ہے اور جغرافیے کا ایک مبتدی بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کشمیر جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا ایک فطرتی جز رہے جس کا الحاق پاکستان کے سوا کسی دوسرے ملک سے نہیں کیا جاسکتا ۔ ریاست کے شمال میں ہندوکش کا کوہستانی سلسلہ اور ریاست کے شمال مغرب کا پہاڑی علاقہ مغربی پاکستان اور ریاست جموں اور کشمیر کے درمیان مشترکہ طور پر پھیلے ہوئے ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور کشمیر ایک ہی ملک کے خطے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کے درمیان اس قسم کی کوئی قدرتی حد فاصل موجود نہیں ہے۔ جیسی کہ بھارت اور کشمیر کے درمیان واقع ہے۔ نیز پاکستان اور کشمیر کے درمیان جو سرحدی خطوط کھینچے جاتے ہیں وہ قطعی طور پر غیر فطری اور انسانی ذہن کی اختراع ہیں کیونکہ بلحاظ آب و ہوا زراعت اور طبعی حالا ت وغیرہ سے یہ دونوں خطے آپس میں اتنی یکسانیت رکھتے ہیں کہ پہلے سے معلوم ہوئے بغیر ہی اگر کسی شخص کو پاکستان یا کشمیر کے ان جغرافیائی خطوں کے مشاہدے کا موقع دیا جائے تو وہ ان دونوں خطوں میں کوئی امتیاز نہ کر سکے گا۔
وادی کشمیر کے برف پوش پہاڑوں کے تین بڑے دریا راوی ، چناب اور جہلم نکل کر پاکستان کے میدانی علاقوں کو سیراب کرتے ہوئے دریائے سندھ میں جاگرتے ہیں۔ یہ دریا پاکستان کے قدرتی آبی وسائل ہیں جبکہ دریائے سندھ، راوی اور جہلم کشمیر کی وادیوں سے نکلنے والے ایسے دریا ہیں جو سرے سے بھارت کی سرزمین میں سے گزرتے ہی نہیں۔ بھارتی حکومت ان دریائوں کا پانی روک کر بھارت کی طرف لے جانے کے منصوبے تیار کرتی رہتی ہے اور بھارت اگر اپنے اس خطرناک منصوبے میں کامیاب ہو گیا تو اس سے پاکستان کی زراعت اور اس کا نظام آب رسانی تباہ ہو کر رہ جائے گا۔
1950ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خاں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں تنازعہ کشمیر کے مسئلے پر خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور کشمیر کے باہمی تعلق پر مندرجہ ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی تھی۔
سلامتی کونسل کے ارکان کو جو نقشہ تقسیم کیا گیا ہے اس کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک کوہستانی سلسلہ کشمیر کوبھارت سے علیحدہ کر رہا ہے جس نے ریاست اوربھارت کی درمیانی سرحد کا احاطہ کر رکھا ہے۔ صرف پٹھان کورٹ کے قریب جو بھارت کی سرحد پر ریل گاڑیوں کا آخری سٹیشن ہے اس کوہستانی سلسلہ کے درمیان ایک مختصر سا میدانی علاقہ واقع ہے جو بیس سے تیس میل تک چوڑا ہے اور اس کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی سرحد پر پہاڑیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے ان میں سے اکثر پہاڑ بہت بلند ہیں جنہیں عبور کر کے ریاست کی حدود میں داخل ہونا ممکن نہیں ہے۔ ریاست کشمیر اوربھارت کو آپس میں ملانے والی ہر سڑک اس بیس سے تیس میل تک لمبے چوڑے میدانی علاقے سے گزر جاتی ہے اور اس کوہستانی سلسلہ کی موجودگی میں بھارت کو اس بات کا خوف نہیں ہونا چاہئے کہ بھارت کے خلاف کشمیر کی جانب سے جارحانہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اس مختصر سے میدانی علاقے کے علاوہ بھارت اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیانی آمدو رفت کا اور کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔ ‘‘
چوہدری سر ظفر اللہ خان نے مزید کہا کہ جہاں تک پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کی سرحدی صورت حال کا تعلق ہے۔ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہو جاتا ہے۔ اگر پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان سرحدی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان سرحدی خطہ زیادہ تر میدانی علاقہ سے گزر تا ہےاور وادی کشمیر کے پہاڑوں سے تین دریا نکل کر دونوں کی سرحد سے گزرتے ہوئے مغربی پاکستان کے میدانی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں۔پاکستان اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان مواصلاتی نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے چوہدری ظفر اللہ خان نے بتایا کہ پاکستان سے ریاست کے جغرافیائی رشتوں کے بعد پاکستان اور ریات جموں و کشمیر کے درمیان ذرائع مواصلات کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ کسی خطے میں آمدو رفت کے انتظامات بھی جغرافیائی محل و وقوع کے تقاضوں کے پیش نظر رکھ کر ہی کئے جاتے ہیں اور برصغیر کی تقسیم سے پیشتر کشمیر کو جانے والی تینوں بڑی سڑکیں بھی پاکستان سے گزر کر ہی جاتی تھیں۔ مگر برصغیر کی تقسیم کے بعد جب بھارتی فوجیں ریاست جموں و کشمیر میں داخل ہوئیں تو پٹھان کوٹ کو پہلی بار سڑک کے ذریعے ریاست کے دارالحکومت سری نگر سے ملایا گیا اور یہ سڑک بھی تقریباً نو ہزار فٹ بلند درہ بانہال سے گزر کر جاتی ہے جو سال میں تین چار ماہ تک برف سے ڈھکا رہتاہے۔ ریاست میں ایک مختصر سی ریلوے لائن بھی ہے جو جموں سے پاکستان کے سرحد سیالکوٹ سے ہوتی ہوئی مغربی پاکستان کی طرف آتی ہے۔ علاوہ ازیں وادی کشمیر سے نکلنے والے تینوں بڑے دریا مغربی پاکستان کے میدانی علاقوں کو سیراب کرتے ہیں۔ لہٰذا ریاست کا جغرافیائی محل و قوع اور مواصلاتی نظام یہ بات ثابت کردیتا ہے کہ ریاست ا قدرتی الحاق بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان سے ہی ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کی مشترکہ سرحد کئی سو میل لمبی ہے جبکہ بھارت اور ریاست کے درمیان یہ مشترکہ سرحد بیس پچیس میل سے زیادہ لمبی نہیں ہے۔ بلکہ صرف پٹھانکوٹ کے قریب ایک پہاڑی سلسلہ بھارت اور ریاست جموں و کشمیر کے درمیان سرحد قائم کرتا ہے اور ریاست جموں و کمشری اور بھارت کے درمیان کا سرحدی علاقہ بھی ریڈ کلف کے جانبدارانہ فیصلہ کی نظر عنایت سے پاکستان کی بجائے بھارت کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔اگرچہ بھارتی حکومت ریاست جموں و کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم رکھنے کے لئے بھارت اور ریاست کے درمیان غیر فطری مواصلاتی نظام قائم کرنے کی کوششوں میں کثیر رقم صرف کر چکی ے۔ لیکن پھر بھی یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ بھارت وادی جموں و کشمیر کے درمیان مواصلات کا یہ غیر فطری نظام موسمی حالات اور بارش کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اور متحدہ ہندوستان کے آخری وائسرانے بھی یہ بات صاف الفاظ میں کہہ دی تھی کہ جب برصغیر کی کسی ریاست کا سربراہ اپنی ریاست کا بھارت یا پاکستان سے الحاق کرنے کا فیصلہ کرے تو ضروری ہے کہ اس ضمن میں اپنی ریاست کے جغرافیائی محل و قوع اور قدرتی تقسیم کے تقاضوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔
زمانہ قبل از تاریخ سے ہی کشمیر اور برصغیر کے ان علاقوں کے درمیان جواب پاکستان کہلاتے ہیں نہایت مستحکم اقتصادی و معاشی رشتے بھی قائم تھے۔ ساری ریاست میں صر ف دو ہی پختہ سڑکیں بانہال روڈ اور جہلم روڈ تھیں جو ریاست کو بیرونی دنیا سے ملاتی تھیں۔ اور یہ دونوں سڑکیں ریاست سے نکل کر صرف پاکستان میں داخل ہوتی ہیں۔ مگر ان کے مقابلے میں بھارت نے جو کٹھوعہ، پٹھان کوٹ 1947ء میں تعمیر کی تھی سال میں صرف چھ ماہ کے لئے کھلی رہتی ہے۔ کیونکہ یہ درہ بانہال کے برفانی کو ہستانی علاقے سے گزرتی ہے اور جہاں تک وادی جموں و کشمیر کے ذرائع آمدو رفت اور نقل و حمل کی ضرورت کا تعلق ہے۔ کٹھوعہ ، پٹھانکوٹ روڈ وادی کو بیرونی دنیا سے ملانے والی مذکورہ بالا دو اہم سڑکوں کی کمی کو پورا نہیں کر سکتی۔ جو ریاست کو پاکستان سے ملاتی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل انہی دو سڑکوں اور جموں سے سیالکوٹ تک آنے والے ریلوے لائن پر ریاست کی تجارت اور صنعت و حرفت کا انحصار تھا ۔ لہٰذا جب سے بھارت نے ریاست کے بڑے حصہ پر جبری قبضہ جمایا ہے ان سڑکوں اور ریلوے لائن کے بند ہوجانے سے ریاست کی تجارت کو ایسا زبردست دھچکا لگا ہے کہ وہ ختم ہو کر رہ گئی ہے اور گزشتہ 15سال کے دوران ریاست کی تجارت ایک دن کے لئے بھی پہلی سطح پر بحال نہیں ہوسکی۔
ریاست پر بھارت کے غاضبانہ تسلط سے پیشتر کشمیری تاجر ان سڑکوں کے راستے ریاست کا خام ریشم ، تازہ پھل، خشک میوے ، اون ، سونے چاندی کے تارو ں سے کڑھے ہوئے قیمتی پار چات، جڑی بوٹیاں اور کئی دوسرے اشیائے خوردنی برآمد کرتے تھے اور ان کے بدلے دوسری اشیائے ضرورت درآمد کرتے تھے مگر جب سے بھارت نے ریاست پر جابرانہ قبضہ کیا ہے ریاست کی تازہ پھلوں کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی ہے۔ کیونکہ کٹھوعہ، پٹھانکوٹ روڈ کے ذریعے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی تجارت ناممکن ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وادی کشمیر تک جانے والی یہ سڑک اس قدر طویل ہے ک اس راستے سے با ہر بھیجے جانے والے پھل اور سبزیاں اپنی منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو جاتی ہیں اور اگر طویل راستے سے وادی کشمیر کے تازہ پھل اور سبزیاں بھارت کے شہروں میں پہنچ بھی سکتیں تو بھارت میں ان چیزوں کی بہت کم کھپت ہے اس کے علاوہ کشمیری باشندوں کی ایک بڑی تعداد باغبانی کے ذریعہ بھی اپنی روزی پیدا کرتی ہے۔ اگر ریاست کا پاکستان سے الحاق کر دیا جاتا تو کشمیری باشندوں کے اس فن باغبانی کو بھی بہت تقویت حاصل ہوسکتی تھی۔ لیکن کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف اگر بھارت نے ریاست پر اسی طرح اپنا غاصبانہ قبضہ جمائے رکھا تو مواصلات کے انتظامات ناقص ہونے کی وجہ سے وادی کشمیر کی اس مخصوص پیداوار کی تجارت بھی مستقبل میں بالکل تباہ ہوجائے گی۔
ریاست پر بھارت کے جبری قبضہ کے بعد سے لے کر اب تک کٹھ پتلی ریاست حکومت کے مالیہ پچاس فیصدی کمی واقع ہو چکی ہے جو اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے کہ ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ اس کے برعکس پاکستان کا ایک جزو لانیفک ہے برصغیر کی تقسیم سے پہلے ریاست سے لاکھوں روپے کی عمارتی لکڑی برآمد کی جاتی تھی مگر یہ عمارتی لکڑی چونکہ دریائوں کے ذریعے ریاست سے باہر بھیجی جاتی تھی اور وادی کشمیر سے نکلنے والے تینوں بڑے دریا اب پاکستان سے گزرتے ہیں لہٰذا تنازعہ کشمیر پیدا ہونےکے بعد ریاست کے بھارت سے غیرفطری الحاق اوربھارت کو مقبوضہ کشمیر سے ملانے کے لئے غیر قدرتی ذرائع مواصلات کی وجہ سے ریاست کی مخصوص تجارتی اشیاء کی برآمدی تجارتی بالکل ختم ہو گئی ہے کیونکہ بھارت کے نئے بنائے ہوئے راستے ریاست کو ان منڈیوں سے نہیں ملاتے جہاں ان اشیاء کی کھپت ہو سکے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ریاست کا تجارت پیشہ طبقہ مکمل تباہی کا شکار ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  THE CONCEPTS OF NATIONALITY AND STATE IN ISLAM A REASSESSMENT