hazrat hawa

حضرت حوا علیہا السلام کا ذکر خیر

EjazNews

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیٰ نبینا و علیہ الصلوٰة و السلام کوپیدا فرما کر جنت میں رکھا۔ حضرت آدم علیہ السلام تنہا جنت میں تھے ان کا کوئی مونس و غم خوار نہ تھا۔ تنہا رہنے کی وجہ سے پریشان رہتے۔ ایک مرتبہ جب کہ یہ سو گئے تو اسی سونے کی حالت میں ان کی بائیں پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا ۔
قرآن مجید میں فرمایا:
ترجمہ: خدا وہی تو ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کے آرام کے لیے اس کی بیوی کوپیدا کیا۔(اعراف)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ان المراة خلقت من ضلع )، عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ (مسلم)
حضرت حوا علیہا السلام کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کا آپس میں نکاح کرا دیا۔
ارشا د ربانی ہے:
ترجمہ: تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک فراغت سے کھاﺅ اور فلاں درخت کے پاس مت جاﺅ اگر جاﺅ گے تو ظالموں میں سے ہو جاﺅگے۔ (البقرہ)
چوں کہ ابلیس یعنی شیطان حضرت آدم علیہ السلام کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا ۔ اس نے اپنے دل میں کینہ رکھ لیا کہ آدم علیہ السلام کو بھی دھوکا دیکر جنت سے نکلوا دوں گا ۔ چنانچہ شیطان اپنا بھیس بدل کر ان دونوں کے پاس آکر رونے لگا۔ ان لوگوں نے اس کو نہیں پہچانا کہ یہ رونیوالا کون ہے اس سے دریافت کیا کہ تم کیوں روتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں تم دونوں ہی کی وجہ سے روتا ہوں کہ تم دونوں مر جاﺅ گے اور جنت کی ساری نعمتیں تم سے جاتی رہیں گی۔ اس کی اس بات کی وجہ سے ان دونوں کو صدمہ ہوا۔ شیطان چلا گیا دوسری مرتبہ آ کر کہنے لگا میں تمہیں ایک درخت بتاتا ہوں اگر اس میں سے کھا لو تو کبھی نہیں مرو گے اور ہمیشہ جنت میں رہو گے۔ انہوں نے کھانے سے انکار کیا تب شیطان نے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ یہ دونوں بھولے بھالے سیدھے سادھے تھے۔شیطان کی قسم سے یہ خیال کیا کہ کوئی اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم نہیں کھاتا ہے، دھوکے میں آگئے۔
حضرت حوا نے پہلے کھایا پھرآدم علیہ السلام کو دے کر کھلایا ۔ (تفسیر خازن)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔
جب حضرت حوا کے کہنے میں آکر حضرت آدم علیہ السلام نے اس درخت سے کھا لیا تو دونوں کو اس نافرمانی کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا اور دنیا میں بھیج دیا گیا ۔ دنیا میں آکر بہت سی پریشانیوں میں پھنس گئے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی بے شک وہ توبہ قبول کرنیوالا مہربان ہے۔“(البقرہ)
جو کلمات حضر ت آدم علیہ السلام نے سیکھے تھے ان کا بیان خود قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے:
ترجمہ: ان دونوں نے کہا ، ہم نے اپنے نفسوں پرظلم کیا ہے اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ فرمائے گا تو ہم یقینا نقصان اٹھانے والے ہوجائیں گے۔(اعراف)
حضرت حوا علیہما السلام سب انسانوں کی پہلی ماں ہیں۔ انھیں کے پیٹ سے سارے انسان پیدا ہوئے ہیںاگر حضرت آدم علیہ السلام کو ممنوعہ درخت کے کے کھلانے پر آمادہ نہ کرتیں اور خود بھی نہ کھاتیں تو سب جنت میں رہتے اور ہر قسم کی نعمتیں بلا محنت کے کھاتے پیتے اور کوئی تکلیف بھی نہ ہوتی ۔ حضرت حوا علیہما السلام نے خود بھی کھایا اور کھلایا جس سے دونوں کو جنت سے نکالا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر بنو اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حوا خیانت نہ کرتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند کی کبھی بھی خیانت نہ کرتیں ۔ “ (بخار ی و مسلم)
تم حضرت حوا علیہما السلام کے واقعہ سے عبرت حاصل کرو ۔ خدانخواستہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً اپنے قصور کا اقرار کر لو۔ اس سے توبہ کرو اور آئندہ ایسے گناہ کے کرنے کاارادہ نہ کرو اور نہ اپنے خاوند کو کسی ناجائز اور گناہ کے کام کرانے پر آمادہ کرو۔ اگر تم اس کو اس گناہ کے کام پر مجبور کر کے آمادہ کر لو گی اور وہ تمہاری محبت میں آکر گناہ کر بیٹھا تو اس گناہ کی نحوست سے تم دونوں سزا کے مستحق ہو جاﺅ گے۔ اللہ ہمیں اور تمہیں نیک ہدایت دے۔

یہ بھی پڑھیں:  حکایات:حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ظالم بادشاہ