justin trodo

نائٹ کلب بائونسر سے کینڈین وزیراعظم بننے تک کا جسٹن ٹروڈو کا سفر

EjazNews

کینیڈا کے 24ویں وزیر اعظم منتخب ہونے والے جسٹن پیرے جیمز ٹروڈو 25دسمبر 1971ء کو دارالحکومت، اوٹاوا میں پیدا ہوئے۔ سیاست میں آمد سے قبل ایک معلّم اور سماجی کارکن کے طور پر خدمات انجام دینے والے جسٹن ٹروڈو ،سابق کینیڈین وزیراعظم، پیرے ٹروڈو کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں اوران کی والدہ کا نام،مارگریٹ ٹروڈو ہے، سیاست ان کے خون میں شامل ہے کہ ان کے نانا، جمی سنک لیئر 1950ء کی دہائی میں کینیڈا کی وفاقی کابینہ میں وزیر رہے۔ جسٹن 2007ء میں اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے کو شکست دے کر مونٹریال کے ضلع،پاپی نیو سے لبرل پارٹی کے امیدوار نامزد ہوئے اور ایک سال بعد دارالعوام کے رکن منتخب ہوئے۔ اُن کا رکن پارلیمنٹ منتخب ہونا ،اس اعتبار سے حیران کن تھا کہ سیاسی پنڈت مسلسل انہیں فرانسیسی بولنے والے ووٹرز کے لیے ناقابل قبول قرار دے رہے تھے۔ انہوں نے 2013ء میں لبرل پارٹی کی قیادت حاصل کی اور2015ء میں اپنی جماعت کو ایوان میں برتری دلا کر پہلی دفعہ کینیڈا کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔
جب جسٹن ٹروڈو کی عُمر صرف 6برس تھی، تو ان کے والدین کے درمیان علیٰحدگی ہو گئی اور وہ اور ان کے دو چھوٹے بھائی، الیگزینڈر اور مائیکل اپنے والد کے زیر کفالت رہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی ایام وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ، 24سسیکس ڈرائیو میں گزارنے کی وجہ سے وہ اکثر عوام کی نظروں میں رہتے۔ جب جسٹن کی عُمر 12برس ہوئی، تو اُن کے والد نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور اپنے بیٹوں کے ساتھ مونٹریال منتقل ہو گئے، جہاں جسٹن نے اپنے والد ہی کی مادرعلمی، کالج جین ڈی بری بیوف سے ثانوی تعلیم مکمل کی۔ بعدازاں، مزید تعلیم کے حصول کے لیے میک گل یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں وہ مذاکرے کرنے والی ٹیم کے رکن اور جنسی تشددکیخلاف کام کرنے والی سٹوڈنٹس سوسائٹی کے رضاکار بھی رہے۔ 1994ء میں انگلش لٹریچر میں گریجویشن کے بعد جسٹن نے ایک سال بیرونِ مُلک سفر کرتے گزارا۔ 1995ء میں میک گل یونیورسٹی میں واپس آئے اور اتالیق بننے کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ تاہم، تعلیم مکمل ہونے سے قبل ہی وسلر، برٹش کولمبیا منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے سنو بورڈنگ کے انسٹرکٹر کے علاوہ ایک نائٹ کلب میں بائونسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ چند ماہ بعد یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے ٹیچرز کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے 1998ء میں بیچلرز آف ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کی۔ وینکوور کے ایک نجی سکول، ویسٹ پوائنٹ گرے اکیڈمی میں مستقل ملازمت اختیار کی، جہاں ابتدا میں فرانسیسی اور ریاضی پڑھاتے رہے اور آخر کار وینکوور کی سرکاری درس گاہ، سر ونسٹن چرچل سیکنڈری سکول میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
جہاں تک سوال ہے کہ ایک استاد کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کرنے والے جسٹن ٹروڈو سیاست میں کیسے آئے؟
1998ء میں کوکینی جھیل میں برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں چھوٹے بھائی، مائیکل کی موت نے انہیں گہرے صدمےسے دوچار کیااور اس واقع کے صرف دو برس بعد پروسٹیٹ کینسر کے سبب والد کی موت نے توانہیں جیسے ہلا کر رکھ دیا۔ سرکاری اعزاز کے ساتھ والد کی تدفین کے موقع پر ٹی وی چینلز پر اُن کی تعریف و توصیف جسٹن ٹروڈو کو ایک مرتبہ پھر عوام کی نظروں میں لے آئی اور اُن کی جانب سے اپنے آنجہانی والد کی طرح سیاست کو کیریئر بنانے کی افواہوں کو بھی تقویت ملی۔تاہم، 2002ء سے 2007ء کے درمیان جسٹن ٹروڈو نے پہلے یونیورسٹی آف مونٹریال میں انجینئرنگ اور پھر میک گل یونیورسٹی میں ماحولیاتی جغرافیے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا، لیکن کوئی ایک ڈگری مکمل کیے بغیر ہی سماجی کارکن بن گئے۔ 2003ء میں جسٹن اور گریگوری کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جو ان کے چھوٹے بھائی، مائیکل کی بچپن کی دوست تھی اور کیوبک میں فرانسیسی اور انگریزی زبانوں کے ٹی وی اور ریڈیو چینلز میں میزبان کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ گریگوری اور جسٹن ٹروڈو 28مئی 2005ء کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اور اس وقت ان کے تین بچے، زیویئر، ایلا گریس اور ہیڈرین ہیں۔
جسٹن ٹروڈو، وینکوور میں سماجی کارکن کے طور پر فعال ہوئے اور کئی عوامی مسائل پر آواز بلند کی۔ اپنے بھائی کی موت کے بعد ’’کینیڈین ایولانچ فائونڈیشن‘‘ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے برفانی تودوں سے متعلق آگہی پیدا کرنے کے لیے کام کیا اور ساتھ ہی ’’کینیڈین ایوالانچ سینٹر‘‘ کے قیام میں معاونت بھی فراہم کی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کے رضاکارانہ پروگرام ’’کیٹی میوک‘‘ سے ڈائریکٹر کے طور پر منسلک رہے اور بعدازاں بورڈ کے سربراہ بھی بنے۔ انہوں نے ’’نوہانی فار ایور کیمپین‘‘ کی سربراہی کرتے ہوئے ماحولیاتی مسائل پر بھی آواز اُٹھائی۔ 2006ء میں جسٹن ٹروڈو نے دارفر، افریقہ میں نسل کُشی روکنے کی غرض سے اقوامِ متحدہ پر مزید اقدامات کے لیے زور دیا اور 2008ء میں ٹورنٹو میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو سیاست میں حصّہ لینے کی دعوت دی۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے ملکی ذرائع ابلاغ میں اپنی موجودگی برقرار رکھی اور مختلف موضوعات و مسائل پر تقریبات اور ریلیاں منعقد کرتے رہے۔ 2009ء میں مائیکل اگناٹیف لبرل پارٹی کے قائد بنے ،تو جسٹن ٹروڈو کو پہلے امور نوجوانان اور مختلف نسلوں، قومیّتوں اور مذاہب کے افراد کو یکجا کرنے اور پھر نوجوانوں، شہریت اور تارکین وطن سے متعلق اُمور کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی۔
2اکتوبر 2012ء کو جسٹن ٹروڈو نے اپنی پارٹی کی قیادت حاصل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کیا اور 14اپریل 2013ء کو تقریباً 80فیصد ووٹ لے کر پارٹی لیڈر شپ حاصل کر لی۔ لبرل پارٹی کا قائد بننے کے بعدانہوں نے اپنی جماعت کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنے لیے سخت جدوجہد کی اور ایک بھرپور و توانا شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ تاہم، اُن کے مخالفین نے انہیں ایک شوقیہ اداکار قرار دیا۔ 2015ء میں کنزرویٹیوپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم، اسٹیفن ہارپر نے پولنگ کے دن سے دو ماہ سے بھی پہلے نئے انتخابات کا اعلان کر دیا اور 1870ء کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ ایک طویل ترین انتخابی مُہم کا آغاز کیا۔ نئے انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے درمیان ٹی وی چینلز پر مباحثے شروع ہو گئے اور کنزرویٹیوز اور نیو ڈیموکریٹس نے مل کر جسٹن ٹروڈو کو دبائو میں لینے کی کوشش کی، لیکن لبرل پارٹی کی انتخابی مہم بھی متاثر کن رہی اور جسٹن نے مذاکروں میں اچھی کارکردگی دکھائی۔ اپنی انتخابی مُہم میں لبرل پارٹی نے گزشتہ 9برس سے قائم کنزرویٹیو حکومت کو بدلنے، میری جوانا کو قانونی قراردینے، دسیوں ہزار شامی مہاجرین کو مُلک میں داخلے کی اجازت دینے اور انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے فنڈزفراہم کرنے جیسے وعدے کیے اور پھر 19اکتوبر 2015ء کو ہونے والے عام انتخابات میں لبرل پارٹی دارالعوام کی 338میںسے 184نشستیں حاصل کرنے کے بعد ایوان زیریں میں سب سے بڑی جماعت بننے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی، جس کی سربراہی وزیر اعظم، جسٹن ٹروڈو کے پاس تھی۔
وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسی کابینہ تشکیل دی، جس میں مَردوں اور خواتین کی نمائندگی مساوی تھی اور اقلیتوں کا بھی خاصا حصّہ تھا۔ اپنی وزارت عظمیٰ کے پہلے دو برسوں میں انہوں نے 40ہزار شامی مہاجرین کو مُلک میں داخلے کی اجازت دی۔ انہوں نے بعض صوبوں میں اپوزیشن جماعتوں کی حکومت کے باوجود 2018ء میں کاربن ٹیکس متعارف کروانے کا منصوبہ بنایااور متوسط آمدنی والے افراد پر سے انکم ٹیکس کا بوجھ کم کر کے اسے دولت مندوں پر منتقل کیا۔ جسٹن ٹروڈو کی حکومت نے مقامی خواتین اور لڑکیوں کے قتل اور انہیں لاپتا کرنے کے حوالے سے انکوائری کمیشن بنایا اور کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے ’’کینیڈا چائلڈ بینیفٹ‘‘ اور’’ نیشنل ہائوسنگ اسٹریٹجی‘‘ سمیت دیگر منصوبوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے تین تاریخی غلط اقدامات پر معافی بھی مانگی، جن میں 1914ء میں اوٹاوا کی جانب سے بحری جہاز پر سوار مشرقی ایشیائی مسافروں کو کینیڈا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار، نیو فائونڈ لینڈ میں سکول کے رہائشی طلبہ سے بد سلوکی اوروفاقی حکومت کی جانب سے جنسی رُحجانات کی بنیاد پر سرکاری ملازمین سے امتیازی سلوک روا رکھنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جسٹن ٹروڈو ہی کے دَور میں صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے کینیڈا کے قومی ترانے کے الفاظ in all thy sons commandکو in all of us command سے تبدیل کیا گیا۔ جسٹن ٹروڈو نے سینیٹ میں بھی اصلاحات کیں اور ایوان بالا کو غیر جانب دار بنانے کے لیے پہلے قدم کے طور پر 2014ء میں لبرل پارٹی کے سینیٹرز کو پارٹی کی پارلیمانی نمائندگی سے نکال دیا۔ وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر سینیٹ کے امیدوار نامزد کرنے کے لیے ایک مشاورتی بورڈ بنایا، تاکہ نئے سینیٹرز کسی پارٹی کے نمائندے کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر سینیٹ میں بیٹھ سکیں۔ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بعد جسٹن ٹروڈو ایک مدبر کے طور پر بھی سامنے آئے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب 2016ء میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے، تو کینیڈین حکومت کی توجّہ کینیڈا، امریکہ تعلقات پر مرکوز ہو گئی، کیوں کہ اسے ٹرمپ کی ’’نارتھ امریکن فری ٹریڈ ایگزیمنٹ‘‘ (نافٹا) منسوخ کرنے کی دھمکی اور امریکی صدر کے غیر متوقّع اقدامات کی صورت میں مشکلات کا سامنا تھا۔ اس موقع پر ٹروڈو نے عوام کی مخالفت نظر انداز کرتے ہوئے ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے اور اس سلسلے میں نہ صرف سابق کینیڈین وزیر اعظم، برین ملرونی اور کنزرویٹیو رہنما، رونا ایمبروز سے مشاورت کی، بلکہ امریکہ سے مضبوط روابط رکھنے والی کینیڈین شخصیات سے بھی مدد طلب کی۔ 2018ء کے آغاز میں جب امریکہ کی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی، مذاکراتی مُہم سے کچھ بڑھ کر دِکھائی دی، تو ٹروڈو حکومت نے سخت مٔوقف اپناتے ہوئے ’’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘‘ میں شکایت کی شکل میں امریکہ کی تجارتی حکمت عملی کو چیلنج کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری مجاہد زندگی و موت کی کشمکش میں