bilawal bhatoo

ہمیں عدالت کے دروازے بھی کھٹکٹانے پڑے اور اب جا کر صدر کو ہسپتال منتقل کیا گیا: بلاول

EjazNews

گزشتہ روز اسلام کوٹ میں بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھر محبت، امن اور مہمان نوازوں کا شہر ہے، تھر میں انگریز کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنے والے رہتے ہیں۔ ‘آج ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں، تھر کے لوگ قحط کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ پیپلز پارٹی نے غریبوں کو حقوق دلوائے۔انہوں نے کہا کہ ‘6 ماہ قبل آپ سے یونیورسٹی کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ‘عوام کے معاشی حقوق سلب کیے جارہے ہیں، صوبے کے حقوق چھینے جارہے ہیں اور کراچی پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ‘کٹھ پتلی سیاستدان ہمارے مقابلے میں لڑتے ہیں، عمران خان سندھ کے دشمن ہیں، ان کی حکومت گرانے نکلا ہوں اور سلیکٹڈ حکومت کو گرا کر رہیں گے۔ ‘کچھ لوگ وزارتیں لے کر سندھ کے حقوق پر سودے بازی کررہے ہیں، آج جمہوریت شدید خطرے میں ہے، سب کے سب ریموٹ سے چل رہے ہیں، ہم مل کر کٹھ پتلی کو بھگائیں گے اور عوامی حکومت بنائیں گے۔معاشرے میں آج ہر طبقے کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، غریب دشمن حکومت عوام کا خون چوس رہی ہے۔مجھے عوام کا ساتھ چاہیے، وفاق سے حقوق چھین کرعوام کی خدمت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس کٹھ پتلی کو گرانے نکلے ہیں، ہمارا اگلا احتجاج سندھ اور پنجاب کی سرحد پر کندھ کوٹ میں ہوگا اور اسلام آباد تک ہماری آواز پہنچائیں گے۔ ‘اسلام آباد والے اسلام کوٹ کی آواز سنیں اور اسلام کوٹ کی عوام کی ایک ہی آواز ہے کہ مک گیا تیرا شو عمران گو عمران گو عمران۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ‘جلد ہی یہ حکومت گرے گی اور عوامی حکومت بنے گی اور عوام کے مسائل حل کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا دنیا خاموشی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام کا نظارہ کرے گی؟

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر میں این ای ڈی کا کیمپس قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔جس کا افتتاح انہو ں نے کر دیا ہے۔
تھر میں این ای ڈی کیمپس کے ساتھ ساتھ لائبریری، آڈیٹوریم، فزکس لیبارٹری ،کمپیوٹر لیب اور کانفرنس ہال بھی قائم کیا گیا ہے۔مذکورہ انسٹیٹیوٹ میں مقامی افراد کے علاوہ کراچی، سکھر اور حیدرآباد کے شہری بھی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ وہ اس منصوبے کی جلد تکمیل پر انتظامیہ کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات اور دباؤ کے باوجود سندھ حکومت خاموشی سے اپنا کام کرتی رہتی ہے ۔بالخصوص تھر کے متعلق ہمارے حریف پروپیگنڈا کرتے ہیں جنہیں چاہیے کہ تھر سے متعلق مثبت خبروں کو بھی اسی طرح بڑھا چڑھا کر پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت کے حوالے سے آنے والی خبریں تشویش ناک ہیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان کی صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔بلال بھٹو نے کہا کہ موجودہ حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف ریاستی تشدد استعمال کررہی ہے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے، انہیں جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ تاہم اس کے باجود ہم اگست سے جدوجہد کررہے تھے اور اس کے لیے ہمیں عدالت کے دروازے بھی کھٹکٹانے پڑے اور اب جا کر صدر کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر کے ساتھ نواز شریف کی خرابی صحت کا معاملہ آنے پر محسوس ہورہا ہے کہ سازش کے تحت عمران خان قیادت اور جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کی صحت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اور یہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کی جان سے کھیل رہے ہیں جو قابل مذمت اور آمرانہ حکومت کی سوچ ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جمہوری روایات پر عمل کرتے ہوئے اقوا م متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہر قیدی کو اس کا حق فراہم کرے اور عدالتی نظام اس قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف قدم اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سابق صدر اور سابق وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک کیا جارہا ہے تو ایک عام قیدی کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہوگا، ہر شخص کے انسانی و جمہوری حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس قسم کی سیاست اور حکمرانی کی مذمت کرتی ہے اور عمران خان صاحب کو پہلے انسان بننا چاہیے پھر حکمران اور وزیراعظم بننا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  لگتا ہے کراچی کی سنی گئی ہے