hockey

ایک وقت تھا ہم ہاکی کے چیمپیئن تھے،آج کھلاڑیوں کے ویزے نہیں لگتے

EjazNews

پاکستان کسی وقت میں دنیائے ہاکی کا چیمپیئن ہوا کرتا تھا۔ وقت بدلا اندرونی طور پر سازشوں نے جنم لیا اور کچھ جدید دور کے جدید نہ ہونے کی روایت نے ہمیں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ پھرتی اور تیزی کے اس کھیل میں ہم کہیں گم ہو کر رہ گئے ۔ وقتاً فوقتاً اچھی خبریں ہوا کے ٹھنڈے جھونکے کی طرح ملتی رہتی ہیں لیکن وہ بہت کم ہوتی ہیں۔
ٹی وی پر ایک انٹرویو میں ایک سینئر کھلاڑی کا کہنا تھا کہ میں ایک وقت ایسا تھا جب لاہور کے مینار پاکستان سے دوڑنا شروع کرتا تھا اور واہگہ بارڈر تک دوڑلگاتا تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب ہم ہاکی کے عالمی چیمپیئن بنے۔
گزشتہ دنوں میری ایک سینئر سپورٹس رپورٹر سے بات ہوئی کہ ہماری ہاکی زوال کا شکار کیوں ہے آپ نے اتنی دیر کوریج کی ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ہاکی ٹیم کے ساتھ ایک انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کیلئے کوریج کیلئے گیا ہوا تھا۔ کوریا کے ساتھ میچ تھا۔میں چونکہ کوریج کیلئے گیا تھا میں مسلسل سٹیڈیم میں وقت گزارتا تھا ۔ میں نے پاکستان سے ہونے والے میچ سے ایک روز قبل کورین ٹیم کا میچ دیکھا ان میں نہایت پھرتی تھی وہ جس مہارت سے کھیل رہ تھے ، دنگ کر دینے والی پھرتی تھی۔ میں نے اپنی ٹیم کے اہم کھلاڑیوں اور آفیشنلز سے بات کی کہ جیسے یہ کھیل رہے ہیں یہ تو آپ کے پاﺅں کے نیچے سے گیندنکال کر لے جائیں گے، آپ کوپریکٹس کی ضرورت ہے۔ لیکن سب نے سنی ان سنی کی اور اگلے دن نتیجہ یہ نکلا کہ ہم میچ ہار گئے۔ اور پھر ہار تے ہی رہے۔
ہماری ہاکی کے حالات اب یہاں پہنچ چکے ہیں کہ حماد انجم اور وقار کے یورپ جانے کے ویزے نہیں لگے ۔ کپتان رضوان سینئر انجری کا شکار ہو گئے ہیں اور ان کو ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا۔ اور اس طرح پاکستان ہاکی کوالیفائنگ راﺅنڈ میں جس مشکلات کا شکار ہو گئی اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے بعد پاکستان نے انڈیا سے تجارت ختم کر دی