imran-khan-meet

اس دھرنے کا وقت بہت اہم ہے، دھرنے کی وجہ سے کشمیر کے ایشو سے ساری توجہ ہٹ چکی ہے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں اور اینکر ز سےملاقات کی ۔اس ملاقات کی تفصیلات مختلف نشریاتی اداروں پر جاری ہوئی جس کے مطابق وزیراعظم نے کہاکہ ‘مہنگائی اور بیروزگاری اس ملک کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور اس پر حکومت کام کررہی ہے، ملک کو اس طرح چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ مشکلات سے نکال کردکھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن کے پاس استعفیٰ مانگنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں، دھرنا پہلے سے طے شدہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ جیسا ڈرامہ کرسکتا ہے، آرمی چیف کو ہدایت دی ہے کہ فوج مکمل تیار رہے اور جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘تحریک انصاف کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کوبین الاقومی سطح پر اٹھایا ہے، مسئلہ کشمیر سے متعلق میڈیا سینٹر بھی بنا رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا کے احتجاج کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے۔ بھارتی میڈیا دیکھیں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے پر خوشیاں منائی جارہی ہیں، بھارت پہلے مولانا حضرات کے خلاف تھا لیکن آج دھرنے پر خوشیاں منا رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو باہر سے سپورٹ حاصل ہے، اس دھرنے کا وقت بہت اہم ہے، دھرنے کی وجہ سے کشمیر کے ایشو سے ساری توجہ ہٹ چکی ہے، فی الحال مولانا فضل الرحمان کی یہ خواہش ہے کہ مائنس وزیراعظم ہوجائے اور ان کی یہ خواہش اس لیے ہےکہ وزیراعظم کرپشن کےخاتمے کے پیچھے ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو صرف این آر او چاہیے تاہم مولانا صاحب کا مسئلہ کیا ہے، سمجھ میں نہیں آرہا۔ان کا کہناتھا کہ جہاں تک استعفیٰ کا تعلق ہے اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں ہے اس لیے میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کے خوبصورت مقام پر میراتھن ریس
وزیراعظم سینئر صحافیوں سے ملاقات کرتے ہوئے (فوٹوپی ٹی آئی آفیشل)

وزیراعظم نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی کہ حکومت کی جانب سے مولانا کی خبریں یا انٹرویو چلانے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے سنجیدگی دکھائی گئی تو ہم بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ‘احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے مگر احتجاج قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کا دورہ کیا تھا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ شروع ہو سکے اور جنگ کے بادل چھٹ سکیں اسی حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں جنگ ہو لیکن پاکستان کی کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران میں مصالحت کرائی جائے۔