bead womens

بد عورتوں کا بیان

EjazNews

دو متضاد اور مخالف چیزوں کا بیان یکے بعد دیگرے ساتھ ساتھ اس لیے کیا جاتا ہے کہ ایک مخالف کے سمجھنے سے دوسری چیز آسانی سے سمجھی جاسکے۔
بھلائی برائی، نیکی بدی کا تقابل اور تصادم ہمیشہ چلا آرہا ہے قرآن مجید میں نیک لوگوں کے بعد برے لوگوں کا اور بروں کے بعد نیکی آدمیوں کا ذکر اسی کیلئے کیا گیا ہے کہ برے برائی کے انجام کو سمجھ کر برائی کو چھوڑ دیں اور بھلائی و نیکیاں کر کے نیک اور فرماں بردار بن جائیں ۔ یہاں نیک عورتوں کےذکر کے بعد بد اور خراب عورتوں کا بیان اسی لیے کیاجارہا ہے کہ جن میں برائی پائی جاتی ہے اس کو چھوڑ کر ملکہ بہشت یعنی خاتون جنت ہو سکیں۔
اس سلسلے کی یہ چند آیتیں اور حدیثیں لکھی جارہی ہیں ان کو غور سے پڑھو اور برائیوں کو چھوڑ کر کے نیک بن جاﺅ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”نیک بیبیاں تو کہنا مانتی ہیں اور خاوند کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کی وجہ سے اپنے نفس اور خاوند کے مال کی نگرانی کرتی ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تم کو اندیشہ ہو تو ان کو سمجھاﺅ اور خواب گاہوں میں ان کو علیحدہ کر دو اوران کو مارو اس کے بعد اگر وہ تمہارا کہنا ماننے لگیں تو پھر الزام کی راہ ان پر دھرنے کی تلاش نہ کرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ عالیٰ شان اور بڑا مرتبے والا ہے۔“(النسائ)
یعنی نیک بیبیاں اپنے خاوندوں کی فرمانبردار ہوتی ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں جان و مال کی حفاظت کرتی ہیں کیونکہ خدا نے بھی ان کی نگرانی کی ہے اور نافرمان بیبیوں کی اصلا ح کرو۔ ان کی اصلاح کی یہ تین صورتیں ہیں۔ پہلے تم ان کو نصیحت کرو۔ خدا کا خوف دلاﺅ۔ نرم کلامی سے سمجھاﺅ۔ اگر اس پر وہ باز نہ آئیں تو ان کےساتھ شب باشی چھوڑ دو تاکہ مجبور ہو کر تم کو خوش کریں اگر اس سے نہ مانیں تو تنبیہہ کے طور پر ان کو معمولی مار مار دو تاکہ وہ اپنی خراب عادت کو چھوڑ دیں۔ جن عورتوں کی خراب عادت ہوتی ہے وہ بہت بری کہلاتی ہیں بعض اس خراب عادت کی وجہ سے لوگوں کی چیزیں چرا لیتی ہیں تو ان کی یہ عادت چھڑانے کےلئے ان کے داہنے ہاتھ کو کاٹ دینے کا حکم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”چرانے والے مرد اور چرانے والی عورت کاہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کی چوری کی سزا ہے۔“(مائدہ)
بعض عورتیں اپنے حسن و جمال کو ظاہر کر کے بے پردہ لوگوں کے سامنے سے آتی جاتی ہیں ایسی عورتیں اچھی نہیں ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اور اپنے گھر میں جمی بیٹھی رہو اور اگلے جاہلیت کے زمانے کی اپنے بناﺅ سنگار کو اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر کرتی پھرو ۔ “ (الاحزاب)
اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ”غیروں کے سامنے زینت کے ساتھ نازو انداز سے چلنے والی عورت ایسی ہے جیسے قیامت کے دن تاریکی ہے۔ کوئی روشنی نہیں ہے۔“(ترمذی)
جو عورتیں بناﺅ سنگار کر کے ناز اورفخر سے چلتی ہیں وہ بد چلن اور خراب سمجھی جاتی ہیں ۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو چلنے کا یہ طریقہ بتلا دیا ہے:
ترجمہ: ”اور اپنے پاﺅں کو زور سے زمین پر نہ رکھو کہ جس سے چھپی زینت ظاہر ہو جائے۔“(سورہ نور)
یعنی چلتے وقت پاﺅں کوزمین پر اتنے دھماکے سے نہ رکھو جس سے خال خال زیور وغیرہ دوسروں کو معلوم ہو جائے۔ اسی لیے آواز والے زیوروں کا پہننا حرام ہے جو عورتیں آواز والے زیوروں کو پہن کر چلتی ہیں وہ خراب کہلاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب عورتیں بیعت یعنی مرید ہونے کے لیے آتیں تو آپ ان سے شرک نہ کرنے، قتل نہ کرنے، بدکاری و چوری وغیرہ نہ کرنے کا اقرار لیتے تھے۔
جیسا کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے:
ترجمہ: ”اے نبی جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں بیعت کر نے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور چوری و بدکاری نہ کریں گی اور اپنے بچوں کو نہ ماریں گی اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی جو خود اپنے ہاتھوں پیروں سے گھڑ لیں اور نیک کاموں میں آپ کی وہ نافرمانی نہ کرینگی تو آپ ان سے بیعت لے لیجئے اور ان کے لیے استغفار کیجئے اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ (الممتحنة)
نیز دیگر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت کے وقت آپ عورتوں سے یہ بھی کہلاتے تھے کہ کسی کے مرنے پر نوحہ نہ کرو او رو پیٹ کر کپڑا نہ پھاڑو اور نہ بال نوچو اور غیر محرموں سے بات چیت نہ کرو۔ (ابن کثیر)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ”جو مصیبت کے وقت کلوں پر تھپڑ مارے اور گریبان کو پھاڑے اور جاہلیت کی بات پکارے وہ ہم میں سے نہیں ہے رونے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے گی تو قیامت کے دن کھڑی کی جائے گی اور اس پر ایک تارکول اور خارش کا کرتا ہوگا یعنی ایسا روغن لگا دیا جائے گا جس سے آگ جلدی بھڑک کر جلائے گی اور بدن کی کھال پر خارش کا عذاب مسلط ہوگا۔ جس سے وہ اپنے بدن کونوچے گی۔“(مسلم)
خاوند کی نافرمانی کرنے والی عورت بڑی مجرم اور گنہگار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے خطبے میں فرمایا:
ترجمہ: ”اور میں نے اسی نماز میں جہنم کو دیکھا اور اس سے زیادہ خوفناک چیز کوئی نہیں دیکھی ہے اور زیادہ تر دوزخ میں عورتوں کو دیکھا ہے لوگوں نے دریافت کیا کیو ں؟ آپ نے فرمایا کفر کی وجہ سے، عرض کیا گیا اللہ کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا خاوند کی نافرمانی اور احسان فراموشی کی وجہ سے کہ اگر تم زندگی بھر ان کےساتھ نیکی کرو اور اتفاقاً ایک مرتبہ کوئی تکلیف دیکھ لے تو کہہ پڑتی ہے کہ تجھ سے زندگی بھر مجھے آرام نہیں ملا۔ “ (بخاری و مسلم)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورج گرہن کے خطبے میں فرمایا:
ترجمہ: ”میرے سامنے دوزخ پیش کی گئی اس میں میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک بلی کی وجہ سے جل رہی ہے کہ اس نے بلی کو باندھ لیا تھا اس کو نہ کھلایا نہ پلایا اور نہ کھولا کہ کیڑے مکوڑوں کو کھا کر پیٹ بھرے۔ “ (ابن ماجہ)
یہاں تک کہ وہ اسی طرح مر گئی۔ لہٰذا کسی کو نہ ستانا چاہئے۔ جو عورتیں بلا وجہ پڑوسنوں کوستاتی ہیں وہ جہنم میں سزا پائیں گی۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
ترجمہ: ”فلاں عورت نماز پڑھنے، روزہ رکھنے اور صدقہ خیرات کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی پڑوسیوں کو زبان سے ستاتی ہے آپ نے فرمایا وہ دوزخی ہے۔ پھر اس نے عرض کیا یارسول اللہ ایک دوسری عورت اور ہے زیادہ نمازروزہ اور خیرات میں مشہور نہیں ہے معمولی فرائض ادا کرتی ہے اور کچھ پنیر کے ٹکڑوں کی خیرات کرتی ہے مگر وہ کسی کو ستاتی نہیں ہے آپ نے فرمایاوہ جنتی ہے۔ “(احمد، بیہقی)
بعض عورتوں کو غیبت ، چغلی ،وعدہ خلافی اور جھوٹ بولنے کی عادت ہوتی ہے ایسی عورتیں بہت بری سمجھی جاتی ہیں۔ مرنے کے بعد انکو بڑی۔ سزائیں ہیں جن کا بیان حدیثوں میں ہے اور بعض عورتیں خوب بن سنور کر اورخوشبو لگا کر باہر تفریح کےلئے جاتی ہیں وہ بدکار سمجھی جاتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
ترجمہ:”جب عورت عطر لگا کر لوگوں کے پاس سے اس خیال سے گزرے کہ وہ اس کی خوشبو پائیں تویہ زانیہ اور بدکار عورت ہے۔ “(کنزل العمال)
ترجمہ:”جو عورتیں مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں وہ ملعونہ ہیں اور جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں وہ ملعون ہے۔ “ (ترمذی)
ترجمہ: ”بالوں کو جوڑنے اور جوڑانے والی اور گوندناگدانے اور گدوانے والی عورتوں پر خدا لعنت بھیجتا ہے۔ “ (کنزل العمال)
ترجمہ: ”میں اس عورت کو برا سمجھتا ہوں جو اپنے گھر سے دامن گھسیٹتی نکلتی ہے اور اپنے خاوند کی شکایت کرتی پھرتی ہے ۔ “(کنزل العمال)
ترجمہ: ”جس عورت نے غیر خاوند کے گھر اپنے کپڑے اتارے وہ اپنی توہین اور پردہ دری کرتی ہے۔ “ (حم کنز)
ترجمہ: ”جو عورت بغیر خاوند کی اجازت اور بغیر اس کی مرضی کے اس کے گھر سے باہر نکل جائے وہ خدا کے غضب و قہر میں آجاتی ہیں یہاں تک کہ واپس آجائے یا اس کا خاوند اس سے راضی ہو جائے۔“(کنزل العمال)
ترجمہ: جو عوت اپنے خاوند سے بغیر کسی شرعی عذر کے طلاق لینے کا مطالبہ کرے اس پرجنت کی خوشبو حرام ہو جاتی ہے جو عورت نفلی روزے بغیر خاوند کی اجازت کے رکھے اور اس کا خاوند سے کچھ لینے کا ارادہ کرے اور وہ اس کے دینے سے انکار کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر تین بڑے گناہوں کو لکھے گا۔ (کنز العمال)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر لعنت کرتا ہے جوقبروں کی زیارت کرنے والی ہیں جیسے عرس و میلہ میں جانے والیاں ۔ (کنزل العمال)
ترجمہ: عورت پردہ والی ہے جب بے پردہ باہر نکلتی ہے تو شیاطین اس کی تاک جھانک میں لگ جاتے ہیں۔ (کنزالعمال)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ عورتیں بلا ضرورت اپنے سر کے بالوں کو منڈائیں۔
عورتوں کو جنازہ میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔
بغیر خاوند کی اجازت کے عورت حج کو نہیں جاسکتی اور نہ تین دن رات کا سفر کر سکتی ہے مگر اس کے ساتھ اس کا خاوند یا اس کا کوئی محرم موجود ہو۔
عورتوں کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں مگر مجبوری کی حالت میں کہ کوئی نوکر چاکر نہیں ہے مگر دونوں عیدوں میں نماز کے لیے باہر نکل سکتی ہیں اور سڑک کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ کنارے کنارے چلیں۔
یعنی سڑک کے بیچ میں چلنے کی اجازت نہیں ہے۔جو بیچ میں چلتی ہیں وہ شریف اور اچھی نہیں ۔
آپ نے فرمایا: نافرمانی دوزخی ہیں ۔ لوگوں نے پوچھا نافرمان کون ہیں؟ آپ نے فرمایا عورتیں۔ لوگوں نے عرض کیا کیا یہ ہماری مائیں، لڑکیاں اوربہنیں نہیں ہیں آپ نے فرمایا ”ہاں ہیں “ لیکن جب ان کو دیا جاتا ہے تو شکر نہیں کرتیں اور جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ہیں تو صبر نہیں کرتیں۔
اسی ناشکری کی وجہ سے زیادہ تر عورتیں دوزخ میں جائیں گی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم صدقہ خیرات کرو کیونکہ تم جہنم کی زیادہ تر ایندھن بنو گی اس لیے کہ تم شکایتیں بہت کرتی ہو اپنے خاوندوں کی ناشکری بہت کرتی ہو۔(کنزل العمال)
دو قسم کے دوزخی لوگ ہیں جن کو میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ایک وہ لوگ جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے جس سے لوگوں کوظلماً ماریں گے یعنی حاکم وغیرہ ظالم ہوں گے دوسرے وہ عورتیں جوظاہر میں کپڑے پہنے ہوں گی اور حقیقت میں وہ ننگی ہوں گی اور لوگوں کو اپنی اپنی طرف مائل کرنیوالی اور فریفتہ کرنیوالی ہونگی اور خود ان کی طرف مائل ہونیوالی ہونگی اور ان کی طرف رغبت کریں گی اور ان کے سر بختی اونٹ کے کوہان کی طرح ایک جانب جھکے ہونگے اور وہ جنت میں داخل نہ ہونگی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو بہت دور سے پائی جاتی ہے۔ (مسلم)

یہ بھی پڑھیں:  آداب ملاقات

یعنی وہ باریک کپڑے پہنے ہوںگی جس سے ان کابدن جھلکے گا۔ وہ ظاہر میں ملبوس ہیں مگر حقیقت میں ننگی ہیں یا چہرہ کے علاوہ کچھ بدن ڈھانکتی ہیںاور کچھ کھلا رکھتی ہیں دوپٹہ کو پیٹھ پر ڈال کر سینہ، گردن اورہاتھوں کو مونڈھوں تک اور پیروں کو گھٹنے تک کھلا ر کھتی ہیں اور ان اعضاءکو کھول کر لوگوں کو للچاتی ہیں اور فریفتہ کرتی ہیں۔ علامہ نووی ؒ شرح صحیح مسلم میں اسی حدیث کے ماتحت لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی زمانے میں عورتیں عام طور پر بے پردہ ہو کر پھریں گی۔ حیا شرم ان سے معدوم ہو جائے گا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت اسما ؓ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت ان کے بدن پر باریک کپڑے تھے ”فاعرض عنھا “ تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے اسماءجب عورت بالغ ہو جائے تو سوائے اس کے اور کوئی حصہ بدن کا نظر نہ آنا چاہئے۔ (ابوداﺅد)
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ تم اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے مت پہناﺅ جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہوجائے۔ (المبسوط کتاب الاستحسان)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز عورت سے سب سے پہلے اس کی نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس کے بعدا س کے خاوند کے متعلق کہ اس کے ساتھ کس طرح پیش آئی تھی۔۔“(کنزل العمال)
ترجمہ: جس عورت نے سونے کا ہار پہنا اور اس کی زکوٰة نہیں ادا کی توقیامت کے دن اس کے گلے میں آگ کا ہار پہنا یا جائے گا اور جس نے اپنے کانوں میں سونے کی بالی پہنی اور سا کی زکوٰة نہیں دی تو قیامت کے روز آگ کی بالی اس کے کان میں پہنائی جائے گی۔ (کنزل العمال)
ترجمہ: ایک صحابیہ خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے ساتھ ان کی لڑکی تھی جس کے ہاتھوں میں موٹے موٹے دو سونے کے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا تم نے ان کنگنوں کی زکوٰة دے دی ہے انہوں نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو کیا تمہیں اچھا معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کنگنوں کے بدلے میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے۔ اسی وقت ان کو نکال کر آپ کے سامنے پیش کر کے اس نے کہا یہ دونوں خدا اور اس کے رسول کے لیے ہیں جہاں مرضی ہو خرچ کر دیں۔(ابوداﺅد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی دیکھی۔ آپ نے فرمایا یہ کیا ہے میں نے کہا یہ انگوٹھی ہے سنگار کے لیے پہن رکھی ہے ۔ آپ نے فرمایا تم نے اس کی زکوٰة دیدی ہے میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ نے فرمایا تو پھر آگ تیرے لئے کافی ہے۔ (ابوداﺅد، دار قطنی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ایک بدکار عورت کی بدکاری ہزار مردوں کی بدکاری کے برابر ہے اور مومنہ نیک عورت کی نیکی سترولیوں کی نیکی کے برابر ہے۔ “۔ (کنزل العمال)
زانیہ اور بدکار عورتیں دوزخ میں جلیں گی اور خدا کی بہت سخت اور بڑی مار پڑے گی۔ معراج کی شب میں ان کے عذاب کی کیفیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا کہ ایک جگہ کچھ عورتیں جمع ہیں ان کے سامنے اچھا نفیس ، نہایت عمدہ پکا ہوا کھانا اور کھانے کا گوشت رکھا ہوا ہے، دوسری طرف کچا بدبودار گوشت ایک طرف پڑا ہے۔ انھیں حکم ہوتا ہے کہ اس نفیس گوشت اور حلال طیب کھانے کو کھاﺅ مگر اس بدنصیب گروہ نے اس عمدہ کھانے کو چھوڑ کر اس کچے سڑے ہوئے مردار گوشت کو کھانا شروع کیا۔ آپ نے دریافت فرمایا یہ کون لوگ ہیں او ر یہ کیوں ایسا کرتے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ بدکار مرد ہیں کہ ان کے پاس نکاحی حلال عورتیں تھیں ان کو چھوڑ کر حرام کار عورتوں سے حرام کاری کر کے منہ کالا کیا تھا۔ اسی طرح ان عورتوں نے حلال خاوندوں کو چھوڑ کرحرام کار مردوں سے حرام کاری کرائی تھی۔
بخاری شریف کی روایت میں آپ فرماتے ہیں کہ میں نے آگ کے تنور میں بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کو جلتے ہوئے دیکھا اور یہ بھی فرمایا بدکار مردوں اور بدکار عورتوں سے سخت بدبو نکلتی ہے جس سے دوزخیوں کوسخت تکلیف ہوتی ہے اب اس کے بارے میں جو حدیثیں ان کو پڑھو:
ترجمہ: وہ ننگے مرد عورتیں جوآگ کے تنور میں تھے وہ زنا کار مرد اورزناکار عورتیں تھیں۔(بخاری
ترجمہ: پھر مجھے لے گئے ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو بہت پھول رہے تھے اور سخت بدبو نکل رہی تھی۔ جیسے سنڈاس سے بدبو نکلتی ہے میں نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں۔ کہا یہ زنا کار مرد اور زنا کار عورتیں ہیں۔ پھر مجھے لے چلے چلتے چلتے ایسے مقام پر پہنچے کہ وہاں عورتیں تھیں ان کی چھاتیوں کو سانپ نوچ رہے تھے میں نے کہا یہ کون لوگ ہیں کہا گیا یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے روکا ہے۔ (ترغیب و ترہیب )۔(ابن خزیمہ ابن حبان)
ترجمہ: جب مجھے معراج میں لے گئے تو ایسے لوگوں پر میرا گزر ہوا جن کے چمڑے آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارے تھے میں نے کہا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا یہ وہ مرد ہیں جو زنا اور بدکاری کے لیے بناﺅ سنگار کرتے تھے پھر بدبو دار ہوا کے پاس سے گزر ہوا جس میں سخت آواز آرہی تھیں میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ وہ عورتیں ہیں جوبدکاری کے لیے بناﺅ سنگار کرتی تھیں۔ (بیہقی ، ترغیب)
بہر حال زنا اور بدکاری کی بڑی مذمت ہے خدا اس سے بچائے۔ آمین۔ حدیث میں آیا ہے کہ ہاتھ پیر وغیرہ کا بھی زنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے۔(بخاری)
جو عورتیں بے پردہ اجنبی مردوں کے پاس سے گزرتی ہیں اور لوگ ان کے چہرے وغیرہ کو دیکھتے ہیں وہ ملعون ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھنے والے اور جس کی طرف دیکھا جائے دونوں پر خدا کی لعنت ہے۔ (مشکوٰة)
قرآن و حدیث میں پردہ کی بڑی تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: اے نبی مومن مردوں سے فرما دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں ہمیشہ نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزگی ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ ان کے عملوں سے خوب واقف ہے اور اے نبی مومنہ عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں پست رکھا کریں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت سنگار کوظاہر نہ کریں سوائے اس زینت کے حصے کے جو خود بخود کھلا رہتا ہے انھیں چاہئے کہ اپنے گریبانوں، سینوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زینت چہرے کو کھلا نہ رکھیں مگر ان لوگوں کے سامنے کھلا رکھیں (جن سے پردہ نہیں) یعنی شوہر ، باپ، سسر، بیٹے، سوتیلے بیٹے یا بھائی بھتیجے، بھانجے اپنے گھر کی عورتوں اور لونڈی غلام ،خدمتگار مرد جو عورتوں کی باتوں کے مطلب کے نہیں رہے ۔ یا نابالغ لڑکے جو ابھی عورتوں سے واقف نہیں ہوئے ہیں اور ان عورتوں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ چلتے وقت اپنے پاﺅں کو زمین پر اس طرح نہ مارتی چلیں جس سے پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے اور اے ایمان والوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ تم فلاں پاﺅ۔(النور)
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے غض بصر اور حفاظت فروج ، تزکیہ نفوس کا حکم تمام مردوں اور عورتوں کو دیا ہے۔ پہلے جملہ میں غض بصر کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ہی دوسرے جملے میں اس کی حکمت حفاظت فروج اورتزکیہ نفس بتایا اور جس طرح مردوں کو نیچی نظر رکھنے کا حکم دیا اسی طرح عورتوں کو بھی غض بصر کا حکم دیا۔ ان میں دونوں مساوی اور برابر ہیں کیوں کہ دونوں کی غض بصر کی علت غائی حفاظت و تزکیہ ہے۔
ایک اور دوسری جگہ فرمایا:
ترجمہ: اے ہمارے نبی ! آپ اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں اور تمام مسلمانوں کی عورتوں سے یہ فرما دیجئے کہ وہ اپنے چہرے پر اپنی چادروں کے گھونگھٹ کر لیا کریں جن سے وہ پہچان لی جائیں اورانھیں ستایا نہ جائے۔ (سورئہ احزاب)
یہ آیت کریمہ چہرہ چھپانے کو نہایت واضح طریق سے ثابت کر رہی ہے۔ (جلابیب) چادروں (ادنی) لٹکانے کو کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی چادروں کو اپنے اوپر لٹا لیا کریں جس سے چہرے چھپ جائے۔ خواہ گھونگھٹ سے چھپے یا نقاب یا برقعہ سے ڈھکے یا اور کسی چیز سے، چہرے کو چھپانا مقصود ہے وہ اس طرح سے حاصل ہو جائے گا جب وہ اس طرح اپنے چہرے کو چھپا کر باہر نکلیں گی تو عام لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ شریف اور حیا دار غیور عورتیں ہیں ان سے کوئی چھیڑ خانی نہیں کریگا جیسا کہ اس کے شان نزول سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں آبادی و بستی میںب یت الخلاءکے نہ ہونے کی وجہ سے شریف زادیوں کو بھی جھٹ پٹے وقت قضائے حاجت کے وقت باہر جانا پڑتا تھا۔ کمینے اور بدکار لوگ ان کو آتے جاتے دیکھ کر چھیڑ بیٹھتے تھے جب انھیں الاہنا دیا جاتا تھا تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ ہم نے انھیں لونڈی سمجھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ کو نازل فرما کر فرمایا کہ قضائے حاجت کیلئے باہر جاسکتی ہو مگر پردہ کے ساتھ چہرے پر گھونگھٹ کر کے تاکہ پہچان لیں کہ یہ شریف زادیاں ہیں لونڈیاں نہیں ہیں اب ان سے کوئی الجھے گا نہ کوئی چھیڑ خانی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  حج، عمرہ اور جہاد کی فضیلت