Dr firdos+farog naseem

وفاقی کابینہ نے سستے گھروں کی تعمیر کیلئے 5ارب روپے کے بلا سود قرضوں کی منظوری دے دی:معاون خصوصی

EjazNews

معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دی جس میں انہوں نے کابینہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے آگاہ کیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کرتار پور راہدی کا افتتاح 9 نومبرکو کریں گے، کابینہ نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے معاہدے کی منظوری دی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی پرکنٹرول کیلئے اسلام آباد میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ہے، منڈیوں میں مڈل مین کے خاتمے کیلئے اقدامات سے اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا جبکہ سستے گھروں کی تعمیر کیلئے 5 ارب روپے کے بلاسود قرضے کی منظوری دی گئی۔بلا سود قرضوں کی واپسی کیلئے 4سال کا وقت رکھا گیا ہے جبکہ بلا سود قرضے کی سہولت سے 10لاکھ لوگ تک مستفید ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کا میڈیا دیکھ لیں جو فضل الرحمٰن کو دکھا دکھا کر خوش ہو رہا ہے،جیسے وہ بھارتی شہری ہیں اور بھارت کے لیے کوئی ملک آزاد کرنے آرہے ہیں:وزیراعظم عمران خان

سابق وزیراعظم نواز شریف کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نواز شریف کی بیماری پر سیاست کر رہی ہے۔ نواز شریف کی ہسپتال منتقلی کے وقت مظاہرہ کیے گئے۔نواز شریف کو صحت کی سہولتیں دی جارہی ہے وہ جلد صحت یاب ہو ں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بیمار نواز شریف سے ہمارا میچ نہیں ہے۔کل رات سب نے دیکھا نواز شریف ہشاش بشاش چل کر ہسپتال آئے۔ہم نواز شریف کی صحت کے لیے دعا گو ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو خون پتلا کرنے والی دوائیں دی گئی ہیں۔عام شہری کی طرح طاقتور کو بھی قانون کے تابع لانے کی جنگ ہے۔حکومت نواز شریف کی بیماری پر سیاست نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کوعام آدمی کی زندگی میں بہتری کیلئے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے کیوں کہ ان اقدامات کا مقصد حکومتی اداروں کے ذریعے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔
وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اجلاس کے بعد بتایا کہ آج عام آدمی کی زندگی میں آسانی لانے کے 8 قوانین کی منظوری دی گئی ہے۔
فروغ نسیم نے بتایا کہ مجموعہ ضابطہ دیوانی (سول پروسیجر کوڈ – سی پی سی) میں ترمیم کی منظوری دی گئی ہے، سول پروسیجر کوڈ انگریز کا فرسودہ نظام ہے، اب دیوانی مقدمات کو بیک وقت دو بینچز میں سنا جائے گا، ایک عدالت سے اگر حکم امتناعی ہوجائے تو دوسرا بینچ کیس سنتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کا استعمال نظامِ انصاف میں کیا جائے، ہم نے جج کے اسپاٹ انسپیکشن کیلئے بھی قانون میں ترمیم کی ہے، کسی کی رپورٹ کے بجائے جج خود جا کر اسپاٹ دیکھے گا تو شفافیت یقینی ہوگی۔ان کا کہنا تھا دوسری اپیل کے حق کو ختم کیا گیا ہے، دوسری اپیل کم کرنے سے عدالت کا تین سے پانچ سال کا عرصہ بچ جائے گا، اس کے علاوہ وکلاء، گواہان کے بیانات کیلئے ٹائم لائنز مقرر کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جج زیادہ ہوں گے تو عام آدمی کا فائدہ ہوگا، لیکن سینیٹ میں اپوزیشن نے اچانک ججز تقرری بل کی مخالفت کر دی، ججز تقرری بل کی مخالفت پاکستان دشمنی نہیں ہے؟۔ اپوزیشن ایسی چیزوں پر بھی سیاست کرتی ہے جن کا سیاست سے تعلق نہیں، آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے میں 8 مہینے موجود ہیں اور امید ہے کہ 2021 میں ہم سینٹ الیکشن جیت کر اپوزیشن کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کا وراثت میں حق یقینی بنانے کا آرڈیننس منظور ہوا ہے، وراثتی سرٹیفکیٹ 15 سے 20 روز میں نادرا جاری کردے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی