syriya

شام میں ترکی کے فوجی آپریشن ’’چشمہ امن‘‘ کے بعد کیا امن ہو جائے گا

EjazNews

ترکی کے کسی بھی ملک کی زمین پر، کسی بھی معاشرے کی آزادی یا پھر مفادات پر نظریں نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے گزشتہ روز ترک صدر نے کہا تھاکہ بعض حلقے شام ، عراق ، افغانستان، لیبیا ، افریقہ اور بلقان میں مختلف ارادوں کے ساتھ اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ ترکی محض اپنے بھائیوں کے ساتھ مشترکہ تقدیر کے حصول کے لیے وہاں پر ہے۔ ایک قطرہ پیٹرول کو خون کے ایک قطرے سے زیادہ قیمتی تصور کرنے والے اس عظمت کو ہر گز سمجھ نہیں پائیں گے۔بطور ترکی ہم کبھی بھی دہشت گردوں کے ساتھ میز پر نہیں آئے اور نہ ہی آئیں گے۔ شمالی شام میں اگر 30ہزار ٹریلروں کے ذریعے براستہ عراق اسلحہ و فوجی سازو سامان بھیجا جا رہا ہے تو میں دنیا کی طاقتور ترین جمہوریت ہوں کا واہ ویلا مچانے والے اس حرکت کی کسی جمہوری مفاہمت سے وضاحت کریں گے۔ان کا کہنا تھا شام کے شمال میں آپریشن چشمہ امن کے ذریعے ہم نے 9 دن کے اندر 1500 مربع کلو میٹر علاقے کو دہشت گرد تنظیم کے ظلم سے نجات دلائی ہے۔صرف 9 دن کے اندر ہم نے سرغنہ دہشت گردوں سمیت 765دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا اور ایک ہزار 500 مربع کلو میٹر کو دہشت گردی کے ظلم و جبر سے پاک کیا ہے۔ہم نے راس العین اور تل ابیض سمیت کل 111رہائشی علاقوں کو کنٹرول میں لیا ہے اور علاقے میں مقیم اپنے بھائیوں کو کسی قسم کی تکلیف سے بچانے کے لئے خوراک، صحت اور سکیورٹی سمیت تمام ضروری تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ ہماری امدادی تنظیم ہلال احمر، وزارت آفات و ہنگامی حالات AFAD ، وزارت صحت اور سول سوسائٹیوں نے علاقے میں امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترکی نے آپریشن چشمہ امن کے ذریعے اس دہشت گردی کوریڈاور پر مہلک حملہ کیا ہے کہ جسے شام کے سرحد پر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یہی نہیں بلکہ آپریشن نے ہمارے علاقے میں امپیریلسٹ منظر ناموں کو بھی تہہ و بالا کر دیا ہے۔ اس طرح ترکی نے وہ قدم اٹھا لیا ہے کہ جو نہ صرف اس کے اپنے تحفظ کی بلکہ شام کی زمینی سالمیت کی بھی ضمانت ثابت ہو گا۔
ترکی کی جانب سے ایران پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ ان کا نیک نیتی کے ساتھ کیا جانے والا شام میں آپریشن ایران پر غلط رنگ سے دکھایا جارہا ہے جبکہ ترک صدر ایک مرتبہ پھر روس کے دورے پر ہیں۔
اگر دیکھا جائے تو دنیا کے طاقتور ترین ممالک مختلف اندا ز میں شام میں اپنے اپنے مفادات کیلئے آپریشن کر رہے ہیں۔اس ملک کے عوام نے کس کا کیا بگاڑا تھا جو آج دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ کوئی جرمنی میں پناہ لے رہے ، کوئی پناہ لینے کیلئے سمندر میں ڈوب کر مر جاتا ہے ، کوئی ترقی میں پناہ گزین ہے ، امریکہ بشار الاسد کے مخالف تھا اور اس نے جو کیا وہ دنیا کے سامنے تھا ، روس بشار الاسد کے حق میں تھا روس نے جو کیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ترک کردوں سے آج کے تنگ نہیں ہیں۔ وہ بھی جو کر رہے ہیں سب کے سامنے ہے۔ کیا ہی اچھا ہواس آپریشن چشمہ امن کے بعد شام کے عوام پر رحم کیا جائے اور ان کو زندہ رہنے کا ایک موقع دیا جائے وہ اپنے ملک میں جس طرح پہلے رہ رہے تھے اسی طرح رہیں ۔
آپ یقین کیجئے اگر کوئی کہتا ہے کہ شام کی اپوزیشن ایک ملک کی آرمی سے لڑ رہی ہے تو یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کسی بھی ملک کی آرمی سے اپوزیشن جماعت اپنے تھوڑے سے ہتھیاروں کے ساتھ لڑ سکے انہیں کہیں نہ کہیں سے رسد مل رہی ہوتی ہے ، انہیں کوئی نہ کوئی پشت پناہی دے رہا ہوتا ہے ۔
عراق کی صورتحال آپ امریکہ حملے سے پہلے اور بعد میں دیکھ لیجئے ۔ اس ملک میں جو لوگ جیسے بھی زندہ تھے پر زندہ رہ رہے تھے جبکہ امریکی حملے سے لے کر آج تک اس ملک میں امن قائم نہیں ہوسکا۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں تقریباً امن قائم تھا لیکن امریکی حملے کے بعد آج تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ لیبیا نے تو اپنے کیمیائی ہتھیار بھی طاقتور ملکوں کو ضائع کر نے کیلئے دے دئیے تھے لیکن پھر لیبیا اور معمر قذافی کے ساتھ کیا ہوااور یہ سب کچھ صرف اسلامی ملکوں میں ہوا ۔

یہ بھی پڑھیں:  میگھن مرکل کا برطانوی شاہی خاندان پر نسل پرستی کا الزام