sucide

خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ، لمحہ فکریہ ہے

EjazNews

پاکستان میں گزشتہ 30سال میں خودکشیوں کے رجحان میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی، سماجی بے چینیاں ، خاندانی نظام میں ٹوٹ پھوٹ اور سب سے بڑھ کر روپے پیسے کی تقسیم نے عدم مساوات نے ہر شخص کو خوفناک ڈپریشن میں مبتلا کر دیا ۔ زندگی سے بہتر وہ اس موت کو سمجھتا ہے جو زندگی کو ختم کر کے وہ خود اپنے لیے قبول کر لیتا ہے۔ ہم سب کی روح اس سوچ سے کانپ اٹھتی ہے کہ کوئی اپنے آپ کو زندہ جلا لے، ماچس کی ایک تیلی ذرا سے انگلی کو لگے تو جس میں کرب کی ایک ایسی لہر اٹھتی ہے جو رگ و پیہ کو لہرا کر رکھ دیتی ہے جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے پورا جسم تھر تھر کانپنے لگتا ہے ذرا سوچئے اس شخص کا جس نے اپنے رکشے کو آگ لگائی اور پھر خود کو بھی موت کے حوالے کر دیا۔ ہمارے ہاں ایسے واقعات تواتر کے ساتھ پڑھنے کو ملتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے چلانوں سے تنگ آکر ایک شخص نے اپنی نئی موٹر سائیکل کو جلا دیا۔ پولیس نے موٹر سائیکل جلانے والے کو گنہگار قرار دے دیا ،پولیس تو کچھ بھی کر سکتی ہے اور کربھی سکتی ہے اور اس کے پاس بہت سے گواہ بھی ہوتے ہیں اور زندگی کے ہاتھوں تنگ مظلوم کے ہاتھوں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ ایک شخص اپنی زندگی بھر کی کمائی کو اپنے ہی ہاتھوں آگ لگا رہا ہے اس کے پیچھے کتنی تکلیف چھپی ہوگی۔ کھڑ ے وارڈن اور دوسرے پولیس افسر اس کے دماغ میں چلتی ہو کھلبلی کو پا نہیں سکتے۔ یہ ہمارے ہاں معمول کی بات ہے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ گھر میں بھوکے بچوں کی تڑپتی خالی نگاہیں ہیں۔
غربت ہمارے ہاں خودکشیوں کا سب سے بڑا سبب ہے اور یہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں دنیا کے ہر حصے میں اسی طرح سے ہے۔ بلکہ آج سے کوئی 20-25 سال قبل بھارت میں ڈیڑھ لاکھ چھوٹے کاشتکاروں نے سود خوروں سے تنگ آکر موت کو گلے لگایا۔ گلوبل جسٹس نیو یارک یونیورسٹی نے بتایا کہ پاکستان میں غربت سے جڑی ہوئی خودکشیاں 1990ءکی دہائی میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوئیں جو معاشی دباﺅ بے انتہا تھا۔ ہر پانچواں شخص ایک ڈالر یومیہ پر گزارا کر رہا تھا۔ حکومت کے نزدیک اس کے اقدامات بہت دیر پا اور حقیقی تھے ان کے اثرات برآمد ہونا تھے لیکن گزشتہ 25 سالوں سے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ 1990 ءکے بعد سے پاکستان میں خودکشیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جب ایدھی فاﺅنڈیشن کو معصوم بچوں کی پرورش نہ کرنا پڑے، مائیں اپنے بچوں کو ایدھی سنٹر کے حوالے کر کے خود کو موت کے حوالے کر دیتی ہیں۔ غربت سے جنم لینے والے گھریلو تنازعات نے مردوں اور عورتوں میں ڈپریشن کو جنم دیا ایک ایسا ڈپریشن جس کی دوا ابھی تک ایجاد نہیں مگر ہمارے لیے تو شاید بالکل ایجاد ہی نہیں ہوئی جہاں لوگ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ ایک جوان لڑکی کی شادی کیا معنی رکھتی ہے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مردوں میں خودکشی کا رجحان خواتین سے تین گنا زیاد ہ ہے۔ 75فیصد مرد اور 25فیصد عورتیں بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کرتی ہیں محبت میں ناکامی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ اس کے بعد مالی نقصانات ہیں۔ مالی نقصان کی وجہ سے 95فیصد مرد اور 5فیصد عورتیں خودکشی کرتی ہیں۔ 70فیصد عورتوں کی خودکشیوں کے پیچھے طلاق کا داغ ہوتا ہے ہمارے ہاں طلاق کو سمجھائی برائی سمجھا جاتا ہے یہ کسی بھی عورت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہوتی ہے ۔ طلاق کی وجہ سے جتنی بھی خودکشیاں ہوتی ہیں ان میں مر د 20فیصد اور عورتیں 70فیصد ہیں۔ نفسیاتی امراض بھی خودکشیوں کا ایک بڑا سبب ہے یہ تناسب مردوں اور عورتوں میں برابر ہے۔ جنوبی پنجاب ، کالا پتھر خودکشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ سرکاری پابندی کے باوجود کالا پتھر عام دستیاب ہے۔ 40فیصد لوگ زہریلے پتھروں کی مدد سے خودکشی کرتے ہیں۔ مٹی کا تیل ، نیلا تھوتھا دوسری وجوہات ہیں۔ 20فیصد پھندا لے کر اور 7فیصد زہر سے خودکشی کرتے ہیں 10فیصد اونچی جگہ سے چھلانگ لگا کر اور 7فیصد اپنا گلا خود گھونٹ دیتے ہیں۔
ہمارے حکومتوں نے 2011ءسے اعداد و شمار اکٹھا کرنا شروع کیے۔ 16 سو لوگوں نے بتایا کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے کوئی راستہ نہیں واحد راستہ موت ہے جسے وہ قبول کر سکتے ہیں اور موت ہی ان کی زندگی کو آسان کر سکتی ہے اور 2011ءمیں تقریباً 24 سو مردو خواتین نے موت کو قبول کیا۔ سب کے پیچھے غربت تھی لا علاج غربت جس کا کسی کے پاس کوئی حل نہیں۔ اور حکومت کے پاس تو شاید بالکل ہی نہیں۔ ایک اور سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ کم از کم 3لاکھ لوگ ہر دم موت کے رحم و کرم پر رہتے ہیں ۔کچھ سروے میں یہ تعداد سوا لاکھ بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں ، ماہرین نفسیات اور یونیورسٹیوں سے رابطے کرنے سے پتہ چلا کہ پاکستان میں سوا لاکھ سے 3لاکھ لوگ یا تو خودکشی کی کوشش کرچکے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں ۔
ایک تحقیق سے انکشاف ہوا کہ مالی ، سماجی اور طبی وجوہات میں سب سے زیادہ خطرناک وجہ ڈپریشن ہے۔ اگرچہ خودکشی کرنے والے کی اصل وجہ کو جاننا آسان نہیں کچھ اندازوں کے مطابق 30فیصد اور کچھ اندازوں کے مطابق 70فیصد پاکستانی ڈپریشن کی وجہ سے موت کو گلے لگاتے ہیں۔ نیا رکشہ خریدنے والے ڈرائیور کے ساتھ بھی یہی ڈپریشن ہوا۔ لاہور میں نئی موٹر سائیکل کو سڑک پرلانے والے نوجوان پر بھی ڈپریشن کا شدید دورہ پڑا۔ 60برس ہو گئے ہم اب تک ڈپریشن پر قابو نہیں پاسکے اور ڈپریشن میں انسان خود کو موت کے حوالے کر دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق دنیا کے کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہر شخص انتہائی جذباتی درد اور کرب کی کیفیت سے دو چار ہے اور کبھی کبھی یہ درد دکھ اور دباﺅ اس کے برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
امریکہ میں ہر سال 30ہزار لوگ اپنی مرضی سے موت کو قبول کرتے ہیں سمجھ لیجئے کہ ہر پانچویں روز امریکہ میں ایک جمبو طیارہ کریش ہو رہا ہے ہر روز 80لوگ امریکہ میں خودکشی کر تے ہیں اور دنیا میں 20ہزار لوگ اپنے آپ کو موت کے حوالے کر تے ہیں ایک اور رپورٹ میں یہ بتائی گئی تعداد پاکستان میں کچھ بھی نہیں یہ اس سے تین گنا زیادہ بھی ہو سکتی ہے جتنے واقعات منظر عام پر آتے ہیں اس سے کہیں زیادہ واقعات روپذیر ہوتے ہیں ایک اور اندازے کے مطابق خودکشیوں کی ہزاروں لاکھوں کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں ۔ بہت سے لوگ مجموعی طور پر اپنی زندگی میں دس سے بیس مرتبہ خودکشی کی ناکام کوشش بھی کرتے ہیں کبھی دیواروں سے سر ٹکرانا کبھی کسی ویرانے میں بیٹھ کر روٹی ، پانی چھوڑ دینا ، بھوک ہڑتال کر دینا یہ سب خودکشی کی ابتدائی علامتیں ہیں بلکہ ایک تحقیق نے بتایا کہ امریکہ میں سال بھر میں کم و بیش 3ارب مرتبہ خودکشی کی کوشش کی جاتی ہے۔ جن میں سے بہت سے کوششیں ناکام ثابت ہوتی ہیں آدھے سے زیادہ افراد زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر موت کو قبول کرلیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا گوشت کھانا ضروری ہے؟
sucide-1
2000ءکے بعد ہر سال خودکشی کا رجحان ہر شہر میں بڑھتا جارہا ہے

پاکستان میں 9 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں کم از کم سوا کروڑ خاندانوں کو روٹی کا مسئلہ درپیش ہے،سیاسی جھمیلے وہ کیا جانیں۔ 7کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں اور 8کروڑ لوگ علاج معالجے کو ترس رہے ہیں۔ غربت کے انڈیکس پر پاکستان نچلی ترین سطح پر ہے اور اس کا شمار انتہائی پسماند ہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ان وجوہات کو گزشتہ 20سال سے پھیلنے والی خودکشیوں سے جوڑا جارہا ہے۔
جنوری 2000ءسے ہزاوں لوگوں نے کراچی، لاہور اور دوسرے شہروں میں موت کو گلے لگایا۔ کراچی میں 2000ءمیں 233 افراد نے خودکشی کی، صنعتی شہر کا یہ حال ۔
2000ءمیں جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا خودکشیوں کا رجحان بڑھنا شروع ہوا۔ ایک اور اعداد و شمار کے مطابق ساڑھے پانچ سو خودکشی تھی جبکہ 2001ءمیں یہ تعداد ساڑھے چار گنایعنی 24سو ہو گئی۔ کیا پاکستان میں ہر سال 3ہزار لوگ خود کو موت کے حوالے کر رہے ہیں۔ نواز شریف دور میں بڑے پیمانے پر نجکاری سے بے روزگاری نے جنم لیا۔ نجی شعبے کے پھیلاﺅ ، مشینری کی آمد اور جدید دور میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو چپڑاسیوں کی نوکریاں کرنے پر مجبور کیا۔ وی آئی پی پاس، چپڑاسیوں کی نوکریوں کے لیے درخواستیں دینا شروع کیں۔ شتر بے محاض کی طرح پھیلتے ہوئے انٹری ٹیسٹ نے نوجوانوں کو الگ سے ڈپریشن میں مبتلا کر رکھا ہے۔پڑھا لکھا پیچھے رہ گیا اور کم پڑھے لکھے لوگوں کا ٹیسٹ سسٹم معاشرے میں زہر گھولنے لگا۔ اعلیٰ ترین نمبر حاصل کرنے والے نوجوان بھٹکنے لگے ذرا سوچئے ایک ہزار سے اوپر نمبر لینے والا بچہ انٹر ی ٹیسٹ میں رہ جانے کے بعد کیا کرے ۔ میڈیکل میں ایف ایس سی کرنے کے بعد اس کے پا س کون سا راستہ بچتا ہے ،کس طرف جائے ہر شعبے میں بے روزگاری پنچے گاڑھے کھڑی ہے۔ ایک سروے میں پتہ چلا کہ نجکاری کے تین چار برس کے اندر اندر ساڑھے تین لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ ہماری دونوں جمہوری حکومتوں نے کبھی ڈاﺅن سائزنس کی ، کبھی رائٹ سائزنگ کی ، کبھی گولڈن شیک ہینڈ کیا اور کبھی صرف ہینڈ کیا ۔ اسی ڈاﺅن سائزنگ نے لاکھوں لوگوں کو ڈپریشن میں دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2000ءکے بعد ہر سال خودکشی کا رجحان ہر شہر میں بڑھتا جارہا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس خودکشی کے علاوہ بھی لوگ خود کو کس طرح مار رہے ہیں آج نوجوانی میں لوگوں کو دل کے دورے پڑ رہے ہیں ۔ہمارے ہسپتالوں میں کم عمری میں ہارٹ اٹیک خام خیالی ہی تھی۔ شوگر یہ تو مرض ہی امراءاور بوڑھوں کا سمجھا جاتا تھا لیکن اب ذیبابطیس اور دل کے امراض نوجوانوں کی شناخت بڑھتے جارہے ہیں کیونکہ اب ڈگریاں پیسوں کا خرچ ہے یہ ایسا راستہ ہے جس میں بڑے بڑے دفتروں کی راہداریوں میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں ۔ کم عمر ، کم سن اور نوجوانوں کی موت ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ یہ ایک رجحان بڑھ چکا ہے۔ اس میں جنس کی کوئی تمیز نہیں کیا بچہ کیا بچی ہر کوئی موت کے وقت کوئی نہیں سوچتا کہ شاید کوئی اچھا وقت بھی آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں بیتے ماہ و سال