women-operation

اگر آپ کو ہسپتال جانا پڑے

EjazNews

اگرآپ کسی شہر سے دور دراز علاقے میں رہتی ہیں یا پھر کسی ہاسٹل میں رہتی ہیں ۔یا پھر اپنے شوہر کی ملازمت کی وجہ سے اپنے گھر سے کہیں دور ہیں تو ہمارے یہ تحریرآپ کے لیے بہت مفید ہے۔
اگر آپ کو آپریشن کروانے کی ضرورت پڑے یا آپ شدید بیمار ہوں تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا ہسپتال میں داخل ہوئے بغیر آپ کا علاج ہوسکتا ہے۔ اگر صرف ہسپتال میں ہی آپ کو ضروری دیکھ بھال مل سکتی ہے تو یہ مشورے آپ کے کام آسکتے ہیں۔
اپنے ساتھ کسی کو لے جائیں جو ہسپتال کے عمل کو آپ کی حالت سے آگاہ کرتی رہے اور عملے کی توجہ حاصل کرنے میں مدد کرے۔ وہ فیصلے کرنے میں بھی آپ کی مدد گار ہو۔
ممکن ہے کہ مختلف افراد آپ کا معائنہ کریں۔ جو بھی آپ کا معائنہ کرے اسے اپنی رائے ایک کارڈ پر لکھ دینی چاہئے ۔ یہ کارڈ آپ کے ساتھ رہے تا کہ جو بھی اگلا فرد آپ کا معائنہ کرنے کے لیے آئے اسے معلوم ہو جائے گا کہ اب تک آپ کے معائنوں سے کیا کیا باتیں معلوم ہوچکی ہیں، کون کون سی دوائیں آپ کو دی جا چکی ہیں اور کون کون سے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔
کوئی بھی آپ کا علاج کرے یا ٹیسٹ کروائے، اس سے پہلے یہ پوچھنا بہت اہم ہے کہ وہ کیا کرنے والا ہے اورکیوں ۔ اس طرح آپ فیصلہ کریں گی کہ آپ ہر علاج یا ٹیسٹ کروانا چاہتی ہیں یا نہیں اور یوں غلطیوں سے بچا جا سکے گا۔
• ہسپتال کے عملے کو بھی دوست بنانے کی کوشش کریں۔ وہ آپ کی اچھی دیکھ بھال میں مدد کر سکتے ہیں۔
اگر آپ کو کسی قسم کے آپریشن کی ضرورت پڑے تو یہ پوچھ لیں کہ کیا جسم کے صرف اس حصے میں انجکشن لگایا جاسکتا ہے جہاں کا آپریشن ہونا ہے ( مقامی بے ہوشی یا لوکل انیستھیسیا) تاکہ تکلیف نہ ہو۔ یہ طریقہ زیادہ محفوظ ہے۔
آپریشن کے دوران سلا دینے کے لیے دوا دینے (عام بے ہوشی، جنرل اینستھیسیا) کے مقابلے میں پہلے طریقے سے آپ جلدی صحت یاب ہوجائیں گی۔ •
پوچھیں کہ آپ کو کون سی دوائیں دی جارہی ہیں اور کیوں۔
جب آپ کو ہسپتال سے چھٹی مل جائے تو جانے سے پہلے اپنے علاج کی تمام تفصیلات کی ایک کاپی مانگ لیں۔
عورتوں کے عام آپریشن:
کبھی بھی کسی سنگین بیماری کا واحد حل آپریشن ہوتا ہے۔ بہت سے آپریشنوں میں ڈاکٹر مریض کی جلد کو کاٹتا ہے تاکہ جسم کے اندر ہونے والی کسی خرابی کو دور کر سکے یا جسم کے کام کرنے کے انداز کو تبدیل کر سکے ۔ عورتوں کے چند عام آپریشن یہ ہیں: •
بچہ دانی کو صاف کرنا:
کھرچ کر (کسی آلے کی مدد سے) یا آلے سے چوس کر (ڈی اینڈ سی یا ایم وی اے)۔کبھی بچہ دانی کا استر ( اندرونی سطح پر پائی جانے والی جھلی) کو بھی نکالنا پڑتا ہے۔یہ عمل یا تو اسقاط حمل کے دوران یا اس کے بعد کیا جاتا ہے یا پھر فرج سے خون کے غیر معمولی اخراج کی وجہ معلوم کرنے کے لیے کیا جا تا ہے۔
• آپریشن کے ذریعے پیدائش :
(بچہ دانی کا بڑا آپریشن یا سیزیرین سیکشن) جب کسی پیچیدگی کی وجہ سے کسی عورت کے بچے کی پیدائش معمول کے مطابق نہ ہوسکتی ہو اور عورت کے لیے خطرہ ہو تو عورت کے پیٹ میں چیراگایا جاتا ہے تا کہ بچے کو باہر نکالا جا سکے۔ بچے کی پیدائش کے لیے آپریشن کبھی ضروری بھی ہوسکتا ہے لیکن اکثر یہ آپریشن ڈاکٹروں کے فائدے کے لیے کر دئیے جاتے ہیں اور عورت کو ان سے فائدہ نہیں پہنچتا۔
• بانجھ کرنا:
اس آپریشن میں عورت کی بیض نالیاں کاٹ دی جاتی ہیں اور ان کے سرے مضبوطی سے باندھ دئیے جاتے ہیں۔ اس طرح عورت کے بیضے، بچہ دانی تک نہیں بچ سکتے اور یوں مرد کا نطفہ اس عورت کو حاملہ نہیں بنا سکتا۔
• بچہ دانی نکالنا ( ہسٹریکٹومی):
یہ ایک نازک آپریشن ہے اس لیے یہ آپریشن صرف اس وقت کروایا جاتا ہے جب بیماری کے علاج کا اور کوئی بہتر طریقہ نہ ہو ۔ آپ معلوم کریں کہ کیا آپ کی بیض دانیاں بچائی جاسکتی ہیں۔
انتقال خون :
جب کبھی آپ کا زیادہ خون ضائع ہو جائے تو ہنگامی حالت میں انتقال خون کیا جاسکتا ہے لیکن آپ کو خون دیا جاسکتا ہے۔ خون دینے سے آپ کی جان بچ سکتی ہے لیکن اگر خون کی اچھی طرح جانچ نہ کی گئی ہو تو وہ آپ کے جسم میں بیماریاں منتقل کر سکتا ہے۔ مثلاً یرقان ( ہیپاٹائٹس) یا ایچ آئی وی؍ ایڈز ۔انتقال خون سے بچنے کی کوشش کریں سوائے اس کے کہ زندگی یا موت کا سوال ہو۔
اگر آپ کا کوئی ایا پیش ہونے والا ہو جس کے بارے میں آپ پہلے سے جانتی ہوں تو یہ معلوم کریں کہ کیا آپ کے آپریشن سے پہلے آپ کا اپنا | خون نکال کر ہسپتال میں محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اگر آپ کو ہنگامی حالت میں خون کی ضرورت پڑی تو آپ کا اپنا ہی خون آپ کو دیا جا سکے گا۔ اگر | آپ اپناخون محفوظ نہیں کرواسکتیں تو اپنی کسی دوست یا رشتہ دار سے کہیں یہ کہ وہ آپ کے ساتھ ہسپتال چلے۔ یہ خیال رہے کہ آپ کی دوست یا رشتہ دار کا یرقان اور ایچ آئی وی کا ٹیسٹ ہو چکا ہو ۔ اس کے خون کا بھی ٹیسٹ ہونا ضروری ہے تاکہ یہ یقین ہو سکے کہ اس کا خون آپ کے جسم کے لیے موزوں رہے گا۔
اگر آپ کو کسی اجنبی کا خون دینا پڑے اور ہسپتال اس خون کا ایچ آئی وی ٹیسٹ نہیں کرتا تو آپ کے جسم میں انفیکشن ہوجانے کا خطرہ ہے۔
آپ کے آپریشن کے بعد:
ہسپتال سے رخصت ہونے سے پہلے پوچھ لیں کہ:
مجھے اپنے جسم کے آپریشن والے حصے کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
مجھے درد کو دور کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
مجھے کتنے عرصے تک آرام کرنا ہوگا؟
میں دوبارہ جنسی تعلقات کب شروع کر سکوں گی ( اگر آپ کو یہ سوال کرتے ہوئے شرم محسوس ہو تو شاید ڈاکٹر یا عملہ آپ کے شوہر سے بات کرسکیں)۔
کیا مجھے ڈاکٹر سے دوبارہ ملنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہے تو کب؟
نزم اور ہلکی غذائیں کھائیں جو آسانی سے ہضم ہوسکیں ۔
جتنا زیادہ آرام کرسکتی ہوں، کریں۔ اگر آپ گھر پر ہیں تو اپنے گھر والوں سے کہیں کہ وہ آپ کے روز مرہ کے کاموں کا خیال رکھیں۔ چند دن کی دیکھ بھال سے آپ جلدی اور تیزی سے اچھی سکیں گی۔
انفیکشن کی علامات پر نظر رکھیں:
آپ کے جسم میں جہاں آپریشن کیا گیا ہو وہاں اگر پیلی رطوبت (پیپ ) خارج ہو، بدبو آنے لگے۔ اس مقام کے قریب کی جلد گرم محسوس ہو، آپ کو درد یا بخار ہوجائے تو ان میں سے کوئی بھی علامات ظاہر ہونے پر فوراً کسی صحت کارکن سے ملیں۔
اگر آپ کے پیٹ کا آپریشن ہوا ہو:
کوشش کریں کہ جس جگہ آپریشن کیا گیا ہے وہاں دباؤ نہ پڑے، یا تناؤ نہ پیدا ہو۔ جب بھی آپ حرکت کریں یا کھانسیں تو کاٹی گئی جگہ پر تہہ کیا گیا کوئی کپڑا ،کمبل یا تکیہ رکھ کر نرمی سے اسے دبا لیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عورت کی صحت پورے سماج کا مسئلہ ہے