teeth

دانت اور ان کی اہمیت

EjazNews

نفسیات کے اصولوں کے تحت صحت مند دانتوں کو انسانی شخصیت میں فوقیت کا درجہ حاصل ہے کیونکہ انسانی جسم میں چہرہ ایک ایسا حصہ ہے جو اسے دوسرے حصوں سے ممتاز کرتا ہے اور چہرے ہی سے انسانی کردار اور شخصیت کی قدریں ناپی جاتی ہیں یہ وہی حصہ ہے جو دیکھنے والوں کی نظرمیں سب سے پہلے آتا ہے اور چہرے میں دانت ایک نمایاں حیثیت اور مقام رکھتے ہیں۔ دانتوں کی موزونیت پر انسانی وقار اورسنجیدگی کا انحصار ہوتا ہے۔
ایک شخص جس کے دانت بھدے اور بدصورت ہوں خواہ وہ فطری طور پر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔ اس کی جمالیاتی حسسیات کتنی ہی متحرک کیوں نہ ہوں ، ذہنی فعالیت کے جذبات کا منبع کیوں نہ ہو مگر وہ اپنے نقص کو چھپانے کی خاطر اپنے آپ کو علیحدہ رکھنا چاہتا ہے اور اپنے محرک ذہنی ذروں کوزمان ومکان میں آشکارا کرنے کی بجائے سوچ بچار کی گہرائیوں میں غرق کر لیتا ہے۔
چنانچہ سوسائٹی صرف بھدے دانتوں کی بدولت ایک آبو تا پیدا کرنے والے ذہن کے کرشموں سے محروم ہو کر رہ جاتی ہے جس طرح سرخی افکار کے خزانے ارماں تھے اگر اس طرح دانت بھی اس کے حسن کی وسعت کے آئینہ دار ہوتے تو وہ شخص قدرتی کارناموں اورجلوﺅں کی بدولت سوسائٹی کواپنا گرویدہ کرلیتا مگر وہ اب غیر خوبصورت موتیوں کی بدوت اپنے آپ کو سوسائٹی کے افراد سے چھپاتا ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن لوگوں کے قدرتی طور پر دانت ذرا بھدے اور ٹھیک نہ ہوں دوسرے افراد انہیں احساس کمتری میں مبتلا کر دیتے ہیں بلکہ سگے بہن بھائی ایک دوسرے کو طعنہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے دانت کتنے خراب ہیں۔ میرے دانت کتنے اچھے ہیں بچے کے ذہن میں ایک چیز آجاتی ہے کہ اس کا سوسائٹی میں کوئی مقام نہیں لہٰذا وہ دماغی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگربھدے دانت اگ جائیں تو وہ آسانی سے ٹھیک ہوسکتے ہیں اور بچے کا احساس کمتری جاتا رہتا ہے۔
مقرر کی آواز عوام کے دلوں میں بھدے اور غیر موزوں دانتوں کی وجہ سے جگہ نہیں کر سکتی جتنی اس کو صورت اور خوبصورت دانتوں سے ہوتی ہے کیونکہ ٹھیک اور اچھے دانت آواز کے اخراج میں مدد دیتے ہیں جب دانت خراب ہوتے ہیں تو آواز کا اخراج ٹھیک نہیں ہوسکتا۔
دنیا میں قدرت کی ہر شئے ایک قانون کے ماتحت لگے بندھے سرگرم عمل ہے۔ چھوٹے سے چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم الشان کرہ ار ض تک ایک نظام کے اندر اپنا اپنا عمل کر رہے ہیں وہ اپنے معینہ راستے سے کبھی ایک انچ سرتابی اختیار نہیں کر سکتے اگر ذرہ بھر کائنات کے نظام کی تکمیل میں تبدیلی واقع ہو جائے تو زندگی کی تمام رنگینیاں ایک سیکنڈ میں درہم برہم ہو جانے کا اندیشہ ہے گویا عالم موجودات کی ہر شئے ایک محکم اور غیر متبدل قانون پر عمل پیرا ہے۔
اسی طرح انسانی مشینری بھی قدرت کے حدود و قیود سے باہر نہیں۔ انسانی زندگی کا زیادہ دارو مدار اس کی خوراک پر رکھا کیونکہ انسانی جسم کے خلیوں کی ساخت خوراک کے خلیوں کی ساخت کی مانند ہے ۔ جب انسان خوراک کھاتا ہے تو یہ غذا معدے اور انتڑیوں میں سے جسم میں جذب ہو جاتی ہے۔ اگر خوراک پوری طرح نہ کھائی جائے تو جسم کے اس قدرتی نظام میں فرق پڑتا ہے یا نظام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے والے پرزے ٹھیک نہ ہوں اورخوراک اچھی طرح چبائی نہ جائے تو معدے کی رفتار میں تبدیلی واقع ہوتی ہے جو بعد میں کئی ایک بیماریوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے کے لئے دانتوں کی ساخت اس طرح بنائی کہ وہ اچھے طریق سے غذا کو چکنا چور کریں اور منہ کے اندر لعاب دہن رکھا تاکہ وہ غذا کی حالت کوتبدیل کر کے ہاضمے میں آسانی پیدا کرے۔ اگر انسان اس قدرتی دہن سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور خوراک کو دانتوں کے ذریعے نہیں چباتا اور لعاب دہن غدودی نمکیات خوراک کے ساتھ نہیں ملاتا تو خوراک ویسے کی ویسے معدے میں چلی جاتی ہے اور ہضم نہیں ہوتی جس سے آنتڑیوں کے ذریعے خوراک دیر سے جذب ہوتی ہے اور جسم خوراک دیر سے حاصل کرتا ہے۔ اس طرح نظام الٰہی کے قانون میں تبدیلی رونما ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانی مشینری کو جواب دینا پڑتا ہے۔
اگر انسان خاص نہج اور اسلوب کے تحت زندگی بسر نہیں کرتا تو قانون تخلیق سے سرکشی کر لیتا ہے جس کا نتیجہ اس کی اپنی تباہی ہوتی ہے ۔ لہٰذا انسان کو چاہئے کہ وہ کلی طور سے فطرت کے قانون کی تعمیل میں کوئی سرکشی نہ کرے۔ خوراک کو دانتوں کی مدد سے خوب چبائے تاکہ انسانی کل کے پرزے اپنا اپنا کام سرانجام دے سکیں۔
کائنات کے حسن کو دانت ہی دوبالا کرتے ہیں جو لوگ دانتوں کو محبوب نہیں بناتے ان کی دیکھ بھال نہیں کرتے صفائی میں کوتاہی کرتے ہیں وہ لوگ نظام الٰہی سے منہ پھیرتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گندے اور غیر صاف دانتوں کی بدولت مجلس میں نہیں بیٹھ سکتے وہ نفرت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ شخصیت اور وقار ختم ہو جاتا ہے اور انسان کی قدر بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا دانتوں سے محبت رکھنا بھی خالق کائنات کا محبوب ہونا ہے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کی صفائی اور ان سے محبت رکھنا اور مسواک کے استعمال کو کار ثواب قرار دیا ہے۔ آپ جو کام کرتے تھے وہ قدرت کی مرضی کے مطابق ہوتا تھا لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دانتوں کی حفاظت اور صفائی پر اپنی پوری توجہ دے اور انہیں اپنا محبوب بنائے۔
دانتوں کی حفاظت اور صفائی سے شخصیت انسانیت میں نکھا ر اور ذاتی خوشی مضمر ہے۔ اگر دانت ٹھیک اور درست نہ ہوں تو انسان کی صحت ٹھیک نہ ہوگی۔ دانت جسم میں محافظ کا کام دیتے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ دانت انسانی چہرے سے مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ چہرےکو تین طرح سے قدرت نے بنایا ہے۔ بیضوی، گول اورچوکور۔ اسی طرح دانت بھی بنائے گئے ہیں جس طرح چہرہ انسانی خصلتیں ظاہر کرتا ہے اسی طرح دانت بھی بتا سکتے ہیں کہ انسان کس کردار کا مالک ہے اور اس میں کیا کیا جوہر مخفی ہیں۔ دانتوں کی شناخت آج کل کے زمانے میں عام ہے لیکن یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب انسان کے منہ میں دانت بالکل ٹھیک ہوں۔ بھدے نہ ہوں۔ صاف ہوں چمکدار اور امراض سے محفوظ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہارٹ اٹیک سے ہر سال ہزاروں لوگ انتقال کر جاتے ہیں
کیٹاگری میں : صحت