water

آبی بحران کاحل منصوبہ بندی ہے

EjazNews

تین بڑے آبی ذخائر یعنی منگلا، تربیلا اور چشمہ اور ہمالیائی اور قراقرم سلسلے کے11لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے بڑے بڑے گلیشیئرز کے باوجود، جن میں ایک تخمینے کے مطابق2066مکعب فٹ برف موجود ہے، پاکستان میں آبی بحران کی باتیں اور ماہرین کا یہ انتباہ کہ ’’2025ء تک پاکستان میں قلت آب کا مسئلہ سنگین تر ہو جائے گا‘‘ مستقبل کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتا ہے اور یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنے آبی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں فی فرد پانی کی دستیابی1951ء میں 5260مکعب میٹر تھی، جو کم ہو کر ایک ہزار مکعب میٹر رہ گئی ہے، اس کی ایک بنیادی وجہ آبادی میں اضافہ ہے، آنے والے دنوں میں یہ تناسب مزید گھٹے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ2025ء تک فی فرد پانی کی دستیابی860مکعب میٹر رہ جائے گی۔
واپڈا کے ایک سابق چیئرمین شمس الملک، پاکستان میں پانی کے مسئلے کو ایک مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کا مسئلہ سیاسی ہے کیونکہ جاگیردار چاہتے ہیں کہ غریب افراد معاشی طور پر کمزور ہی رہیں۔ اس نظریئے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ25جولائی2018ء کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے والی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اس اہم ترین مسئلے کو نظرانداز کیا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کے منشور میں آبی بحران کے حوالے سے ایک لفظ بھی نہیں ملتا، حالانکہ یہ زندگی و موت کا مسئلہ ہے جس کے ساتھ معاشی عوامل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک عام فرد جسے اپنی زندگی میں باافراط پانی دستیاب ہے، پانی کی اہمیت اور حفاظت سے غافل نظر آتا ہے۔ پانی کی ایک ایک بوند کو ترسنے والے ہی شاید اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔ عالمی معیار کے مطابق فی فرد پانی کی ضرورت کا پیمانہ یومیہ 125لیٹرز ہے لیکن شہروں میں جہاں پانی کی فراہمی کا نظام بہتر ہے، اس سے کہیں زیادہ مقدار میں پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران پانی کے خرچ میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور ہر سال پانی کا استعمال ایک فیصد بڑھ جاتا ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ2050ء تک پانچ ارب انسانوں کو قلت آب کا سامنا ہو گا جب کہ اس وقت دنیا میں3.6ارب انسان ایسے بھی ہیں جو سال میں کم از کم ایک مہینہ پانی سے محروم رہتے ہیں۔
پاکستان میں آبی بحران کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ نامعلوم عناصر کسی خاص ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کی مختلف اشکال ہیں۔ پاکستان میں آخری ڈیم1966ء میں تعمیر ہوا تھا۔ گویا باون سال کے عرصے میں ہم پانی کو محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کر سکے جب کہ ایک عام گھرانہ جس کی پانی کی ضروریات بڑھ جائیں، اضافی ٹینکی یا ڈرم کا انتظام کر لیتا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر صوبوں کے درمیان اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ کی اصل وجہ بھارت ہے جو پاکستان میں اپنے تنخواہ دار عناصر کو استعمال کر رہا ہے۔ ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہو گی مگر چاروں صوبوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے ڈیم تعمیر کر کے سیلاب اور بارش کا پانی محفوظ کرنے میں کیا قباحت ہے؟ سندھ میں کیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں ہر سال شدید بارش ہوتی ہے، کچھ دن پہلے بھی بارش ہوئی ہے اور وہاں کے ندی نالے پانی سے بھر گئے ہیں جس سے بنجر زمین کچھ عرصے کے لیے آباد ہو جائے گی۔ یہی پانی منچھر جھیل تک پہنچے گا مگر مزید بارشوں کی صورت میں یہ پانی ضائع ہو جائے گا، جسے چھوٹا ڈیم بنا کر محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پلاسٹک بیگ آخر ان کا کریں کیا؟
حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی پانی کی بچت کی طرف توجہ دینا چاہئے

پانی کی سب سے زیادہ ضرورت خوراک و زراعت کے شعبے کو ہوتی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دستیاب پانی کا92فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے، باقی آٹھ فیصد صنعت، توانائی، جنگلی حیات، ماحول اور گھریلو استعمال میں آتا ہے۔ زرعی شعبے کو سب سے زیادہ پانی ملنے کے باوجود فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آب پاشی کا فرسودہ نظام ہے۔ انگریزوں کا بنایا ہوا نہری نظام اب اس قابل نہیں رہا کہ اسے مزید جاری رکھا جائے۔ دنیا میں اس وقت آب پاشی کے جدید طریقے رائج ہو چکے ہیں جس میں پانی باکفایت طریقے پر استعمال ہوتا ہے، ان میں ایک طریقہ اسپرنکلر اری گیشن اور دوسرا ڈرپ اری گیشن ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے پانی کے استعمال میں نوے فیصد تک کمی ممکن ہے، لیکن ہمارے کاشت کار ’’مال مفت، دل بے رحم‘‘ کے مصداق پانی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جب کہ استعمال شدہ پانی کا کچھ حصہ زراعت کے کام آتا ہے اور باقی پانی ضائع ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے تین بڑے آبی ذخائر منگلا، تربیلا اور چشمہ میں مجموعی طور پر 15.75ملین ایکڑ فٹ کی گنجائش ہے جو بتدریج کم ہوتے ہوتے13.10ملین ایکڑ فٹ پر آ گئی ہے۔ ان تینوں ذخائر میں30دن کے استعمال کا پانی جمع ہو سکتا ہے جب کہ عالمی معیار کے معیار کے مطابق یہ گنجائش150دنوں کے لیے ہونی چاہئے۔ چند ترقی یافتہ ملکوں میں پانی محفوظ کرنے کی مدت ایک سے دو سال تک بھی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی بھی اشد ضرورت ہے جو نئے ڈیمز کی تعمیر کے بغیر ممکن نہیں لیکن نئے ڈیمز کی تعمیر تک کیا ہمیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا چاہئے؟ وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ پانی کے باکفایت استعمال کی ٹھوس حکمت عملی ترتیب دی جائے، عوام میں خاص طور پر زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والوں میں یہ سماجی شعور پیدا کیا جائے کہ وہ پانی کے ایک ایک قطرے کی بیش بہا نعمت کی طرح حفاظت کریں۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے پانی کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ تعلیمی نصاب میں پانی کی حفاظت اور باکفایت استعمال کے طریقے بتائے جائیں۔ پانی کی اہمیت واضح کرنے کے لیے پانی کا بے تحاشا استعمال کرنے والوں کو بلنگ کے دائرے میں لایا جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار کے لیے کاشت کاروں کو جو پانی فراہم کیا جاتا ہے، اس کی قیمت صرف تریپن(53) روپے بنتی ہے، اس کے برعکس شہری علاقوں میں چھ سو مربع فٹ یعنی دو کمروں کے فلیٹ کو مہیا کیے جانے والے پانی کا ماہانہ بل190روپے آتا ہے۔ اس تناظر میں آب پاشی کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کو بھی بلنگ کے نظام میں لانا ہو گا، یعنی جو جتنا پانی خرچ کرے، اتنا ہی زیادہ ادا بھی کرے۔ ہمارے ملک میں زرعی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ بڑے بڑے زمیندار کھیتوں اور پھلوں کے باغات کے ذریعے کروڑوں روپے سالانہ کماتے ہیں، لیکن ٹیکس گوشواروں میں ان کی آمدنی چند ہزار روپے تک محدود رہتی ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں حصہ لینے والے بڑے بڑے سیاستدانوں کے اثاثوں کی تفصیلات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کوئی باقاعدہ ذریعہ آمدنی نہ رکھنے والے بھی ارب پتی اور کھرب پتی ہیں۔ یہی حال بڑے زمینداروں کا ہے۔ ٹیوب ویلز کے لیے استعمال ہونے والی بجلی کے بلوں میں عام طور پر ہیر پھیر کیا جاتا ہے۔ چوری کی بجلی استعمال کی جاتی ہے۔ پانی کا کوئی بل نہیں، کوئی انکم ٹیکس نہیں مگر ساری آمدنی ذاتی ہے۔ یہ سہولت کسی دوسرے ملک میں کہاں مل سکتی ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی2016-17ء کی ایک رپورٹ میں بھی پانی کی تقسیم کے نظام کو غیر مناسب اور غیر مساویانہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اٹھارہ فیصد آبادی نل کے پانی پر انحصار کرتی ہے اور بقیہ زیرزمین پانی کو زیراستعمال لاتی ہے، اس کے مقابلے میں اکاون فیصد شہری آبادی نل کے پانی تک رسائی رکھتی ہے اور ایک بڑے حصے کو پانی کے دیگر ذرائع مثلاً زیرزمین پانی اور ٹینکرز وغیرہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اسی رپورٹ میں آب پاشی کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی انتہائی کم قیمتوں کو پانی کے تحفظ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ رپورٹ کے الفاظ کے مطابق ’’پاکستان میں نہری پانی کے چارجز کو ’’آبیانہ‘‘ کہا جاتا ہے، جو بے حد کم ہے کیونکہ ٹیوب ویل سے آب پاشی کے مقابلے میں نہری آب پاشی کی لاگت بہت کم ہے، مزید براں آبیانے کے نرخوں کا استعمال کیے جانے والے پانی کی مقدار سے کوئی ربط نہیں۔ فی الوقت صوبائی حکومتیں زیرکاشت رقبے کی بنیاد پر آبیانے کے نام پر ایک اسپاٹ نرخ وصول کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں ایک بار زیرکاشت رقبے کا تعین ہو جائے تو اضافی پانی کے استعمال کی لاگت صفر ہو جاتی ہے۔ یہی نرخ بعض فصلوں کے لیے درکار اضافی پانی کی درست عکاسی نہیں کرتے مثلاً چاول اور کپاس پر اوسطاً 85روپے فی ایکڑ چارج کیا جاتا ہے، جب کہ کپاس کے مقابلے میں چاول کی کاشت میں ساٹھ فیصد زیادہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پانی کے تحفظ کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے لہٰذا زراعت میں کاشت کاروں کو سستی اور سادہ ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کی کوئی ترغیب نہیں ملتی، اس طرح آب پاشی کے جدید طریقوں کے استعمال کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘ اسٹیٹ بینک کی اس رپورٹ میں پانی کے کم نرخوں اور کم وصولیابی کو پانی کے بلند ترین نقصانات کا باعث قرار دیا گیا ہے، لہٰذا پانی کے باکفایت استعمال اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ نرخوں میں اضافہ ناگزیر نظر آتا ہے۔ نرخوں میں اضافہ اس لیے بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ شہری آبادی ناانصافی کی حد تک ان غیرمساویانہ نرخوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی اس رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ زرعی شعبے کے نادہندگان کو سزا دینے کے لیے کسی بھی قسم کی قانون سازی موجود نہیں ہے۔ چنانچہ اس مد میں محاصل کی اوسط انتہائی کم ہے۔ اسی طرح شہروں میں بھی پانی کی فراہمی کے آپریٹنگ اخراجات آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ پانی کے نرخوں میں اضافہ کر کے اسے لاگت کے مطابق بنایا جائے۔ حجم کے مطابق قیمتیں وصول کی جائیں۔ میٹر لگانے اور کنکشن دینے کے ذریعے انفرا اسٹرکچر کو ترقی دی جائے تاکہ حجم کے مطابق قیمتیں مل سکیں۔ اسی طرح پانی کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے نہروں کو پختہ کرنے اور تعمیر و مرمت پر بھی توجہ دی جائے۔
درحقیقت پاکستان میں پانی کی قلت کے آثار نہیں بلکہ بنیادی مسئلہ واٹر مینجمنٹ کا ہے، اگر درست طور پر منصوبہ بندی اور دستیاب پانی کے ذخائر کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی جائے تو ملک کی آبی ضروریات کماحقہ پوری ہو سکتی ہیں۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اس اہم ترین مسئلے کا کوئی ادراک ہی نہیں ہے۔ تمام سول حکومتوں نے اس مسئلے کو سمجھا ہی نہیں اور صرف سیاسی مفادات کے لیے پانی کا مسئلہ کھڑا کر کے قوم کو تقسیم کرتے رہے۔ غیرجانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو صرف ایوب خان کا دور ایسا تھا جس میں اس اہم ترین مسئلے کو سنجیدگی سے لیا گیا اور اس کو حل کرنے کے ٹھوس اقدامات بھی کیے گئے۔ سندھ طاس معاہدہ منگلا اور تربیلا ڈیم سمیت سات ڈیمزکی تعمیر اسی دور کی یادگار ہے۔اگر یہ ڈیم نہ بنائے جاتے تو ذرا سوچئے !ملک کا کیا حال ہوتا؟ دریائوں میں خاک اُڑ رہی ہوتی، آدھا ملک بنجر ہوچکا ہوتا اور لوگ پانی کے ایک ایک قطرے کے پیچھے لڑ رہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے معاشرے میں جارحیت نے کیسے جنم لیا؟

بشکریہ جنگ