imran-khan-1

دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نہیں جناب! یہ 9 لاکھ فوجی آپ کو 8 ملین کشمیریوں کو دھمکانے کیلئے درکار ہیں:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

27فروری کی صبح پاکستان ایئر فورس نے بھارت کے دو مگ 21نامی جنگی طیّاروں کو نشانہ بنایا۔ ان میں سے ایک آزاد اور دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ پاکستان نے آزادکشمیر کی حدود میں گرنے والے بھارتی لڑاکا طیّارے کے پائلٹ، وِنگ کمانڈر، ابھینندن کو حراست میں لینے کے بعد یکم مارچ کو جذبۂ خیر سگالی کے تحت بھارت کے حوالے کر دیا۔ لیکن انڈین گورنمنٹ اور میڈیا نے اس خیر سگالی کے جذبے کو ایک اچھی شروعات کا آغاز کرنے کی بجائے نفرت کو اور بڑھاوا دیا اور دنیا میں یہ ثابت کر نے کی کوشش کی کہ ان کا اثر و رسوخ پاکستان پر کتنا ہے کہ ان کا پائلٹ فوراً واپس کر دیا حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ابھینندن سے پہلے گرفتار کلبھوشن یادیو کیلئے انڈین حکومت عالمی عدالتوں میں اپیلیں کر رہی ہے اور وہا ں سے بھی رسوا ہوئی ہے۔ اگر اتنا ہی اثر و رسوخ ہوتا تو کیا کلبھوشن یادیو کیلئے عالمی عدالتوں سے انصاف مانگنے کیلئے بھاگے پھرتے۔ بحرکیف یہ ایک الگ بحث ہے۔ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے اور حالات یہ ہیں کہ کشمیریوں کو ان ہی کی سرزمین پر قید کیے رکھا ہے۔
اسے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے سوشل اکائونٹ پر ٹویٹ کیا ہے 75روز سے قابض مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کا محاصرہ کئے ہوئے ہے۔ شیر کی پشت پر سوار مودی سمجھتے ہیں کہ 9لاکھ سپاہ کے ذریعے اہل کشمیر کی آواز دبا کر قبضہ جمانے میں کامیاب رہیں گے۔ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نہیں جناب! یہ 9 لاکھ فوجی آپ کو 8 ملین کشمیریوں کو دھمکانے کیلئے درکار ہیں۔
اقوام عالم مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر نظریں جمائے ہوئے ہیں چنانچہ مودی اب بری طرح خوف میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جوں ہی کرفیو اٹھایا جائے گا زبردست خونریزی ہوگی اور کشمیریوں کو محکوم بنانے کا واحد یہی رستہ بچے گا۔
اس سے پہلے بھی انہوں نے ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا
میں حیران ہوں کہ عالمی میڈیا ہانگ کانگ کے مظاہروں پر تو شہ سرخیاں جماتا ہےمگر کشمیر میں انسانی حقوق کے سنگین بحران سے نظریں ہی چرا لیتا ہے۔کشمیر عالمی طور پرتسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے،بھارت نے9لاکھ فوجیوں کے مدد سے 80 لاکھ کشمیریوں کو محصورکرکےجس پر غیرقانونی قبضے کی کوشش کی ہے۔
2 ماہ سے زائد عرصے سے ذرائع ابلاغ کی مکمل تالہ بندی اور بچوں،سیاسی قائدین سمیت ہزاروں کو قید میں ڈال کر کشمیر میں انسانی المیے کا جنم ہورہا ہے۔3دہائیوں میں حق خودارادیت،جس کا سلامتی کونسل کی قرادادوں کےذریعے وعدہ کیا گیا تھا،کیلئے جدوجہد کرنے والے 1لاکھ کشمیری قتل کئے جاچکے ہیں۔
اگر کشمیر کے اندر کا جائزہ لیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ انڈین میڈیا جب بھی کسی کشمیری رپورٹر سے بات کرتا ہے تو وہ انڈیا کے حق میں کبھی بات نہیں کرتا ۔ یہ وہ سطح ہوتی ہے جہاں نوکری کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
دنیا میں طاقت کے زور پر نہ تو ہمیشہ کسی قوم کو محکوم بنا کر رکھا جاسکا ہے اور نہ رکھا جاسکتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر کشمیری انڈیا کے ساتھ ہوتے تو کیا وہاں پر 9لاکھ فوج رکھنے کی ضرورت تھی۔ کیا وہا ں پر کرفیو لگانے کی ضرورت تھی۔
کشمیر یوں کا شاید ہی کوئی گھر ہوگا جس میں کوئی شہید نہ ہوگا، یہ شہیدوں کی سرزمین ہے اور شہید مرا نہیں کرتے وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت سمیت دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں:وزیراعظم