Firdos +shah

اگرکسی کو غلط فہمی ہےکہ کسی کی آمد اور دھرنے سے حکومتیں چلی جاتی ہیں تو ہمارا تجربہ زیادہ ہے

EjazNews

وزیر خارجہ اور معاون خاص فردوس عاشق اعوان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے چند سیاسی فیصلے کیے، ہم سیاسی جماعت ہیں اور سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی صلاحیت اور جذبہ رکھتے ہیں جس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے پرویز خٹک کی سربراہی میں مولانا فضل الرحمٰن سے مذاکرات کے لیے مختصر کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
‘سیاسی جماعتوں کو سیاسی رویے اپنانے چاہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی کسی سیاسی بات میں وزن ہوا تو ہم سننے کو تیار ہوں گے اور اگر کوئی معقول راستہ نکل سکتا ہے تو ہم وہ راستہ نکالنے کو ترجیح دیں گے، یہ اس لیے نہیں کہ ہمیں کسی قسم کا خوف ہے، میں واضح الفاظ میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کو غلط فہمی ہےکہ کسی کی آمد اور دھرنے سے حکومتیں چلی جاتی ہیں تو ہمارا تجربہ اس سے زیادہ ہے۔ ‘اگر کسی معاملے کا سیاسی حل نکل سکتا ہے تو ہمیں اس طرف دیکھنا چاہیے، پاکستان اس وقت عالمی فورم پر کشمیر کی لڑائی لڑ رہا ہے، اس معاملے میں کشمیریوں کے موقف کے لیے ایک آواز جانا ضروری ہے اور 27اکتوبر وہ سیاہ دن ہے جس روز بھارت نے اپنی فوجیں سری نگر میں اتاری تھیں اور قبضہ کیا، کشمیر سیل نے وزیر اعظم کی منظوری سے یہ دن کشمیریوں کے اظہار یکجہتی اور یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی مقامی ترجیحات کو فوقیت دیتے ہوئے بڑے مقصد کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے، اس وقت پاکستان 13 ماہ کی مشکل معاشی صورتحال سے گزر کر استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، اس وقت اگر کوئی غیر مستحکم صورتحال پیدا ہوئی تو اس کا معیشت کو نقصان ہوگا۔
‘تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں فروری 2020 میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ نچلی سطح کے مسئلے نچلی سطح پر ہی حل کیے جاسکیں۔سعودی عرب و ایران کے درمیان کشیدگی اور وزیر اعظم کے حالیہ دوروں کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘ایران اور سعودی عرب میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تاہم وزیر اعظم عمران خان کا ایران اور سعودی عرب کا دورہ کامیاب رہا اور ان کے دونوں ممالک کی قیادت سے مذاکرات اچھے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘میں آج یہ کہتے ہوئے اطمینان محسوس کر رہا ہوں کہ خلیج میں جنگ اور تنازع کے بادل جو ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے وہ اب چھٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، پاکستان کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہم مزید کسی تنازع کا شکار نہ ہوں، یہ مسئلہ کبھی آسان نہیں تھا جس پر ہمیں کوئی شک نہیں تھا اور اس کی تاریخ ہے، ماضی میں بھی اس پر کئی مداخلت ہو چکی ہے لیکن کل کی نشست حوصلہ افزا تھی اور ایک چیز جس پر اتفاق ہوا کہ ہم پرامن سفارتی عمل کو ترجیح دیں گے اور کوشش کریں گے کہ ہماری غلط فہمیوں کو گفت و شنید سے دور کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  چاند 13 مئی کو نظر آئے گا، عید 14 مئی کو ہوگی، فواد چوہدری
وزیراعظم عمران خان ، شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کشمیر کی صورتحال پر پارلیمانی سفارت کاری کا بھی آغاز کردیا ہے، حالیہ آئی پی یو کے اجلاس میں پاکستان کو اس حوالے سے کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان نے کبھی کشمیر کے حل کے لیے بات چیت سے انکار نہیں کیا، بھارت ہمیشہ مذاکرات سے بھاگا، 5 اگست کے بھارتی اقدام نے حالات خراب کیے جس کے بعد موجودہ حالات اور مستقبل قریب میں پاک ، بھارت مذاکرات کی توقع نہیں۔ان کا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس وقت صدر ٹرمپ جس فون کا سب سے زیادہ انتظار کر رہے ہوں گے وہ وزیراعظم عمران خان کا ہوگا۔