Education in pakistan

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مسائل

EjazNews

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم متعدد مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے ادارے، اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کے حصول میں ناکام رہے ہیں یعنی ایسے افراد تیار کرنا جو اعلیٰ اخلاقی و ذہنی فضیلت اورعلمی استعداد کے حامل ہوں اور جو ملک کی صنعتی، معاشی، ٹیکنالوجی اور معاشرتی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ جن میں اداروں کی ناقص ہیئت ترکیبی، نا اہلی، درس وتدریس کے مسائل، غیر مناسبت ، ضیاع، وسائل کی قلت اور تحقیق کا نہ ہونا شامل ہے۔ تعلیم ملک کی معاشرتی و معاشی اور ثقافتی ترقی کا بہت اہم سرچشمہ ہے اور آج دنیا میں اب یہ احساس عام ہے کہ معیاری اعلی تعلیم کی مدد سے ایک غیر ترقی یافتہ قوم ایک ہی نسل کی زندگی میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوسکتی ہے۔
حالات کو سدھارنے کی ریاستی جد و جہد کے باوجود نظام تعلیم کی تیز رفتار توسیعی محدود وسائل کی فراہمی نے تعلیم کے عمل کو سخت نقصان پہنچایا ہے،جامعات اورصنعتی اداروں میں رابطے مفقود ہیں۔ اعلیٰ تعلیم ماضی میں رسدپر مبنی تھی، اب تھوڑی بہت روز گار کے مواقع سے استفادہ کے لیے طلب پر توجہ دے رہی ہے۔ کمپیوٹر، انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے اداروں کا فروغ اس پیش رفت کا ثبوت ہے۔ جامعات پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ موجودہ صورت میں انھیں علم کی گہرائیوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ وہ علم کی تخلیق سے قاصر ہیں جو ایک جدید یونیورسٹی کا طرہ امتیاز ہے۔ لیکن یہ الزام زیادہ مناسب اور برمحل نظرنہیں آتا کیونکہ ان پرسرمایہ بہت کم لگایا گیا ہے۔ ان کے وسائل سخت محدود ہیں۔ انہیں ہمیشہ وسائل کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ ان ہی گردابوں میں پھنسی رہتی ہیں تاہم یہ امر بھی واقعہ ہے کہ ان کے ہاں سرکاری رقم کا ضیاع بھی بہت ہوتا ہے۔ جامعات میں تحقیق کی بنیاد بھی کمزور ہے، ناکافی کتابوں والے کتب خانے ،فرسودہ تجر بہ گا ہیں اور باصلاحیت اساتذہ کی کمی جیسے عوامل بین الاقوامی معیار کے حصول میں رکاوٹ بنے چلے آرہے ہیں۔ الحاق شدہ کالجوں کا نظام بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس سے نچلی سطح پرثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کا حال بھی اتناہی خستہ ہے۔
اعلی تعلیم کے عظیم مسائل:
بین الاقوامیت کے فروغ، جد ید معیشت کی عالمگیر انہ نوعیت، علم، ثقافت اور تاعمرسیکھنے سکھانے اورتعلیم جاری رکھنے کے تصور نے بین الاقوامی اور قومی حوالے سے اعلیٰ تعلیم کو ایک نیا انداز اور نمایاں حیثیت عطا کی ہے۔ بنابریں پاکستان کی جامعات اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو عالمی معیار پر پورا اترنا ہوگا اور ایسے سند یافتہ افراد تیار کریں جو اعلیٰ اداروں کے ہم پلہ ہوں۔ اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو اپنے کام کا نئے سرے سے آغاز کرنا ہوگا اور جو مسائل راہ میں حائل ہیں انھیں دورکرنا ہوگا۔
بڑے بڑے مسائل جو اعلیٰ تعلیم کو در پیش ہیں ان کا تعلق زیادہ تعلیمی ڈھانچے ، لائحہ عمل، تدریس و فنی تعلیم کی مشکلات، محدود رسائی، تعلیم کا ناقص معیار، معاشرتی علوم کی طرف جھکاو، نااہلی، وسائل کا ضیاع، یونیورسٹی اور صنعت میں باہمی ربط نیٹ کا فقدان، تحقیق کی کمزور بنیاد، طلبہ کے لیے امدادی سرگرمیوں کا حسب ضرورت نہ ہونا، فرسودہ نصاب تعلیمی مصارف کی کم وصولی اور ضرورت سے کم رقوم کی فراہمی وغیرہ سے ہے۔
تعلیمی ڈھانچے سے متعلقہ مسائل :
اعلیٰ تعلیمی ڈھانچے کے اعتبار سے اعلیٰ تعلیم متعد دسنگین خامیوں، الجھنوں اور ابتری کا شکار ہے۔ اعلیٰ تعلیم دراصل اعلیٰ ثانوی اور تیسرے مدارج کی تعلیم کا مجموعہ ہے۔ تمام دنیا میں اعلیٰ ثانوی تعلیم کو سکول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ کالج کا جزو ہے۔ تعلیم کے ان دونوں مدارج کے مقاصد اور انتظامی امور مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ جن ڈگری کالجوں میں انٹر میڈیٹ کی کلاسیں بھی شامل ہوتی ہیں وہ انتظامات و امتحانات کے لیے ڈائریکٹریٹ آف کالجز اینڈ سکولز، بورڈ یا یونیورسٹی کے تحت دوہری ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
ثانونی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم طلبہ کواعلیٰ تعلیم کی مشکلات اور تقاضوں کے لیے مناسب طور پر تیارنہیں کرتی۔ ہماری تعلیمی درجہ بندی میں تخصیص تقسیم کاعمل بہت چھوٹی سطح سے شروع ہو جاتا ہے اس وجہ سے طلبہ کو وسیع بنیاد پر عام تعلیم مل نہیں پاتی۔ انجام یہ ہوتا ہے کہ اعلی تعلیم کے اداروں سے اچھے معیار کے طلبہ دستیاب نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس کیا کرنا چاہئے؟
اس تصویر میں فوٹو گرافر نے کمال شاندار طریقےسے اس حقیقت کو بیان کیا ہے جو ہم لفظوں میں بتانا چاہ رہے ہیں

الحاق کے مسائل
تعلیمی ڈھانچے سے متعلق دوسرا اہم مسئلہ جامعات کا کالجوں کو الحاق کرنے اور امتحانات کی روایت سے ہے۔ ہمارے ہاں جامعات کا اہم فریضہ تاریخی اور روایت کی بنا پر پڑھانے ،کا لجوں کا الحاق کرنے اور ان کا امتحان لینے سے رہا ہے۔ جامعات الحاق کے نظام کی بدولت مشتر کہ امتحانات اور نصاب پر قابو رکھ کر اعلیٰ تعلیم کی ذمہ دار ہیں اور تدریس کا کام کالجوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ امتحانات اور ڈگری عطا کرنے کے علاوہ جامعات کا ڈگری کالجوں کے انتظام وانصرام سے دور کا بھی واسط نہیں ہوتا۔ وہ کالجوں کے داخلی انتظامی امور میں بھی مداخلت نہیں کرسکتیں کیونکہ یہ صوبائی حکومتوں کے کم تعلیم کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ جامعات کے فرائض میں تدریس اور امتحانات ہی شامل ہیں۔ جامعات میں تحقیق کا کام پست درجے پر ہوتا ہے۔ ملک میں تعلیم کے معیار کی خرابی میں الحاق کے نظام کو بہت عمل دخل ہے۔
جامعات میں بڑے پیمانے پر کالجوں کے الحاق کرنے کا نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ضرورت سے زیادہ وسعت پذیر ہو چکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ نجی شعبہ بھی اسی نظام کو تقویت دے رہا ہے۔ ایسی بھی جامعات ہیں جن کانہ تو کوئی تد ر یسی عملہ ہے نہ اپنی کوئی عمارت لیکن ان کے الحاق شدلج پورے پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔ عام طور پر اس سطح کی تدریس مسلسل تغافل کا شکار رہی ہے جس سے تعلیم کے شعبے میں بحرانی کیفیت نے جنم لیا ہے۔ ان کی نگرانی اور معانی کا نظام بھی غیرتسلی بخش ہے اور اس امرکی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی کام کو معیار پر پورا نہ اترنے کے سبب الحاق سے محروم کر دیا گیا ہو۔ ان کا لجوں میں تعلیم کا معیارگرنے کا سبب یہ بھی ہے کہ جامعات کوان کالجوں میں داخلوں اساتذہ کی تقرری، انتظام اور امتحانی عمل پر کوئی اختیارنہیں ہے اور اعلیٰ تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی ایک اہم وجہ الحاقی نظام ہی ہے۔ کچھ ماہرین اسے الحاقی لعنت قرار دیتے ہیں۔ (صفد رایم :’’الحاق کی لعنت ‘‘، روزنامہ نیوز۱۹۹۶ )۔
یو نیورسٹی انتظامیہ کے لیے الحاق ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ الحاق کرنے والی یو نیورسٹی کی حیثیت سے اسے اتنا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ الحاق شدہ کالجوں کی علمی سرگرمیوں کا جائزہ لے سکے۔ نصاب کے تعین اور خارجی امتحانات کے اہتمام کے علاوہ جامعات ان کالجوں سے کوئی رابطہ نہیں رکھتیں۔ چونکہ ان کا لجوں کے اخراجات متعلقہ حکومتیں برداشت کرتی ہیں۔ اس لیے الحاق ایک رسمی کارروائی بن کے رہ جاتا ہے جو عموماً مستقل سمجھا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے پاس کوئی ایسا اختیارنہیں ہے کہ وہ ان کا لجوں کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کر سکے۔ انتظامی، مالی اور تعلیمی دوعملی کے باعث کالج کے اساتذہ کو ان کی اصلاح کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔
آرٹس کی تعلیم کی طرف رجحان اور ضیاع:
اس وقت آرٹس اور سائنس کے طلبہ کا تناسب تقریباً 70 اور30کا ہے یہ دور سائنس اورٹیکنالوجی کا ہے۔ طلبہ کا آرٹس کی اتنی بڑی تعدادمیں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں سائنس کے مضامین سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ رجحان ملک وقوم کے لیے نیک شگون نہیں، پاکستان پہلے ہی ایک غریب ملک ہے۔ یہ اتنے سارے ضیاع کا متحمل نہیں ہوسکتا جس سے ملک و قوم کوئی فائدہ نہ پہنچے یا جس کے فارغ التحصیل ڈگری یافتہ طلبہ ملازمتوں کے اہل نہ ہوں۔ جب تک قوم اپنے وسائل اور قوت کو سائنس اور ٹیکنالودجی کے لیے استعمال نہیں کرتی اسے ترقی کا خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آرٹس کے شعبے میں داخلے اور زیادہ فیل ہونے والے طلبہ مل کر وسائل کے بڑے پیما نے پر ضیاع کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
جامعات میں جو مجموئی وقت تدریس پر خرچ ہوتا ہے وہ نہایت قلیل ہے۔ جامعات اور کالجوں میں روزانہ کے اوقات کار بہت مختصر ہیں۔ تجر بہ گاہیں اور کتب خانے ضرورت سے کم ہی استعمال کیے جاتے ہیں اورتحقیق میں مصروف طلبہ کو اس کے لیے وقت ہی نہیں ملتا۔ جس سے حاصل شدہ وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔ اساتذہ جو وقت یو نیورسٹی میں صرف کرتے ہیں وہ بہت کم ہوتا ہے اور یونیورسٹی میں اتنے وقت کے لیے حاضری دیتے ہیں جتنی دیر میں طلبہ کو پڑھانا ہوتا ہے۔ طلبہ کی رہنمائی اور انھیں مشورے دینے کا یونیورسٹی میں تصور ہی نہیں ہے۔
معیار کا مسئلہ:
معیار کا براہ راست تعلق طلبہ، اساتذہ اور امدادی سہولتوں کے معیار پر ہوتا ہے جو ادارے مہیا کرتے ہیں۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم میں اضافہ آبادی کی بدولت طلبہ کی تعداد بڑھتی رہے گی لیکن اس کے ساتھ ساتھ معیار کے بحران کے حل کو سب سے زیادہ تر جیح دینا ضروری ہے۔ تا کہ مستقبل میں توسیع تعلیم ، معاشی اور معاشرتی دونوں طرح سے نتیجہ خیز اور مناسب ہو۔ اعلی تعلیم کے معیار کی ابتری کی ذمہ داری اساتذہ کی استعداد، نصاب اور داخل ہونے والے طلبہ کے معیار پر عائد ہوتی ہے۔ تنخواہیں اور دیگر الا ئونس یونیورسٹی میزانیہ چٹ کر جاتا ہے۔ اس طرح معیار کو بہتر بنانے کے لیے کچھ پس انداز نہیں ہوتا۔ تحقیق کے وسائل برائے نام ہوتے ہیں۔اسی سے پوسٹ گریجویٹ اور اساتذہ کی تحقیق با مقصد نہیں ہوتی۔
اسا تذہ کے مسائل:
تعلیم کے معیار کے پستی کی ایک بڑی وجہ عام طور پر اساتذہ کی ناقص استعدادبھی ہے۔ تحقیق کے معیار اور تعلیمی پروگراموں کی قدرو قیمت کا انحصار اس کے اساتذہ کی صلاحیت کار پر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بین الاقوامی معیار کے حصول میں ضروری لیاقت کے مالک اسا تذہ کی قلت اور اساتذہ کا ناقص معیار مانع آتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اساتذہ کی مدت ملازمت ۶۰ سال تک ہوتی ہے۔ کالج کے اساتذہ کی ترقی کی بنیاد مدت ملازمت اور اسامی کے موجود ہونے پر ہوتی ہے نہ کہ لیاقت اور کارکردگی پر۔ ہمارے نظام تعلیم میں محنت سے کام کرنے کے محرکات بالکل مفقود ہیں۔
قومی ترقی کے لیے مناسب لیاقت کی حامل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ ایسے افراد کو تیار کرنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں ایسے سند یافتہ لائق اسا تذہ ہونے چاہئیں جوطلبہ کی قیادت اور رہنمائی کے اہل ہوں۔
شومئی قسمت سے یو نیورسٹی اساتذہ کی تربیت کے مناسب بندوبست نہ ہونے کے باعث یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی صورت حال خوف ناک حد تک قلت کا شکار ہے۔ صرف ۲۹ فیصد اسا تذہ یونیورسٹی میں اور صرف دو فیصد کالج کے اسا تذہ پی ای ڈی ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے ادارے دنیا سے الگ تھلگ علیحدگی میں ترقی نہیں کر سکتے۔ یونیورسٹی اورصنعتی اداروں میں گہرا رابطہ ضروری ہے۔ فی الحال جامعات تحقیق و ترقی کے اداروں اور صنعتی اداروں کے مابین باہمی ربط و ضبط کا دور دور تک پتہ نہیں ہے۔ ہماری صنعت نہ تواتنی ترقی یافتہ ہے نہ ذہنی طور پر اتنی متحرک ہے کہ وہ یونیورسٹی اور تحقیق و ترقی کے اداروں کی حقیقی کاوشوں میں شرکت کرے ۔ اس لیے اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ جامعات تحقیق و ترقی کے اداروں اور صنعتوں کے درمیان پائیدار روابط استوار ہوں تا کہ پاکستان میں سائنس کی تد ریس اور تحقیق کوفروغ حاصل ہو۔
اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلے کے ناقص معیار، عام بیچلر ڈگری کے مختصر کورس، تعلیم کا لگن سے عاری طلبہ ،نقائص سے پر امتحانی نظام، یو نیورسٹی کے احاطوں میں سیاست بازی بھی یونیورسٹی کی تعلیمی معیار کی پستی کے اسباب ہیں۔
فرسودہ نصاب تعلیم:
اعلیٰ تعلیم کے پست معیار کی ایک اور وجہ نصاب کے مندرجات اور مضامین کو بھی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کا بیشتر نصاب فرسودہ ہو چکا ہے۔ وہ زندگی کی اصل صورت حال اور کاروباری دنیا سے بالکل ہی الگ تھلگ اور غیر موزوں ہے۔ نصاب کا معیار برقرار رکھنے اوریقینی بنانے ، اس کی ترسیل اورگرانی کا کوئی طریق کارمتعین نہیں ہے۔ الحاق کے نظام کے سبب جامعات ڈگری کالجوں کے نصاب کی بھی ذمہ دار ہیں۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور اب ہائر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹی کے نصاب پر نظرثانی کرتے رہتے ہیں۔ نصاب، درسی کتب اور معیار کو قائم رکھنے کے قانون مجریہ ۱۹۷۶ء کے تحت جامعات پابند ہیں کہ وہ اصلاح شدہ نصاب پر عمل درآمد کریں لیکن جامعات ان کی سختی سے پابندی سے گریزاں نظر آتی ہیں۔ یہ سن کر حیرت ہوگی کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی طرف سے ۳۵ سال بعد میڈیکل کے نصاب پر نظرثانی کی گئی تھی۔
قلیل تحقیق
یونیورسٹی کی اصل غایت تعلیم دینا اور تخلیق علم ہے۔ علم کی تخلیق اور اس کے اطلاق کے لیے تحقیق ضروری ہے، تحقیق کا خاص مقصد ملک کی معاشرتی و معاشی ترقی میں ہاتھ بٹانا ،اداروں کی بنیادی سہولتوں کو تقویت دینا، علمی استعدادوالی افرادی قوت کوتربیت دینا اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ پاکستانی جامعات میں تحقیق کی کوئی روایت نہیں ہے۔ روایتی طور پر وہ محض بیچلر اور ماسٹر کی سطح پر تدریس اور امتحان لیتی ہیں۔ چند جامعات میں دو چار مضامین میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام کی صورت حال زراعت ، اساسی اور معاشرتی علوم میں انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبوں سے کہیں بہتر ہے ،جہاں ترقی سے دامن بچایا جاتا رہا ہے لیکن اب جامعات اس کام میں مصروف نظر آ رہی ہیں۔ انھیں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن کی مد دبھی حاصل ہے۔ تاہم معاشرتی علوم اور ہیومینٹیز کے شعبوں کی حالت بہت سقیم اور غیراطمینان بخش ہے۔
ضرورت ہے تحقیق کے شعبے کی کمزوریوں کو رفع کیا جائے اور باصلاحیت اساتذہ، تحقیق کے لیے فنڈ ،کتب خانے اور تحقیق کے لیے مطبوعات کی قلت کو دور کیا جائے تا کہ یہ شعبہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے قابل ہو جائے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی اصلاح اشد ضروری ہے۔ اس وقت وہ ملک کی ترقی میں موثر کردار ادا نہیں کر پارہی۔ جامعات اپنی مجوز ہ صورت میں نہ تو اس لائق ہیں کہ علم میں نئے افق دریافت کریں اور نہ ہی ان کے گریجوایٹ پروگرام ایسے ہیں جو بین الاقوامی معیار پر پورے اترتے ہوں۔ نظام تعلیم کی تیز رفتار ترقی، محدو د مالی امداد کی فراہمی اورطلبہ کی وقتاًفوقتاً ہنگامہ آرائی تدریس اور تعلیم کے کام میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ تدریس اور تعلیم کا نظام ناقص ہے اور نصاب کا بھی یہی حال ہے۔ جامعات کو فنڈ کی فراہمی محدود ہے اور جامعات میں اپنی رقم آپ پیدا کرنے کی صلاحیت اگر ہے بھی تو وہ بہت ہی محدود ہے۔ کالجوں کو الحاق کرنے یا اپنا جزو بنانے کی پالیسی کا اثر منفی پذیر ہے۔ جامعات روز گار کے مواقع سے مناسبت نہیں رکھتیں اور اصل زندگی کے مسائل سے بے نیاز نظر آتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے طریقہ کار کی نظر صرف رسد پر ہے۔ جامعات میں تحقیق کی بنیاد بڑی حد تک کمزور ہے حالانکہ فضیلت کے مراکز، ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے مرکزوں، علاقائی مطالعہ کے مرکز اور ایک ہی مضمون کے اداروں نے تحقیق کے کئی میدانوں میں یقینا پیش رفت کی ہے۔ کتب خانوں اور تجربہ گاہوں کی غیراطمینان بخش صورت حال اور لائق اساتذہ کی قلت اعلیٰ تعلیم کی فضیلت میں رکاوٹ ہیں۔
مندرجہ بالاتبصروں کے باوجود پاکستان میں جامعات نے قوم کے لیے عمدہ کام بھی کیا ہے۔ رقم کی بے انتہا کمی کے باوجود انھوں نے ایسی افرادی قوت تیار کی ہے جو ملک کو چلارہی ہے۔ اٹامک انرجی کمیشن کے چیئر مین نے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جدید ترین آلات بنانے اور استعمال کرنے والی تمام افرادی قوت پاکستانی جامعات کی پیدا کردہ ہے۔ ہوسکتا ہے انھوں نے باہر کے ملکوں میں تھوڑی بہت تربیت حاصل کی ہوئی لیکن ان کی تعلیم اسی دیس میں ہوئی ہے۔
جامعات نے سیاسی جماعتوں کی مداخلت کے باوجود اپنا کام جاری رکھا ہے۔ حالانکہ انھوں نے طلبہ، اساتذہ اور عملے کی انجمنوں کو اس میں ملوث کر رکھا ہے۔ بارہا اسا تذہ کے انتخاب میں بھی مداخلت ہوئی ہے جس سے معیار پر براہ راست زد پڑی ہے۔
یو نیورسٹی کے معلم کی تنخواہ نہایت قلیل ہے۔ انھیں سلام کرنا چاہیے وہ اس کے مستحق ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری تعلیم پر مغربی فکروتہذیب کے اثرات