pakistan political

خاندانی سیاست کیا ہوتی ہے؟

EjazNews

پاکستان میں موروثی سیاست دانوں کی اجارہ داری صرف قومی یا صوبائی اسمبلیوں ہی تک محدود نہیں، بلکہ مقامی حکومتوں میں بھی انہی کا غلبہ ہے۔ گرچہ ذرائع ابلاغ میں موروثی یا خاندانی سیاست کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے، مگر عملاً اس کے خاتمے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتا۔ اگرچہ جنرل مشرف نے اپنے دَورِ اقتدار میں انتخابی امید واروں کے گریجوایٹ ہونے کی شرط عائد کی تھی، مگر جب انہوں نے جوڑ توڑ کی سیاست شروع کی، تو نتیجتاً سیاسی خاندانوں کے گریجویٹ چشم و چراغ پھر اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔ کسی زمانے میں ’’نیپ‘‘ (نیشنل عوامی پارٹی) ایک مُلک گیر جماعت ہوا کرتی تھی۔ ہر چند کہ یہ جماعت انتخابی سیاست میں کمزور تھی، لیکن عوام میں اسے بڑی حد تک پزیرائی حاصل تھی ۔ مُلک کے چاروں صوبوں ہی میں نیپ کے رہنما موجود تھے۔ یعنی اگر خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے ولی خان پارٹی کے صدر تھے، تو جنرل سیکریٹری، محمود الحق عثمانی کراچی کے رہائشی تھے۔ اسی طرح پنجاب کے قسور گردیزی پارٹی کے مرکزی رہنما تھے۔ سندھ کی صدارت، سیّد باقر شاہ کے پاس تھی، جب کہ حیدر آباد میں وسیم عثمانی پارٹی کے صدر تھے اور جام ساقی جیسے مخلص افراد بھی نیپ کا کارکن ہونے پر فخر محسوس کیا کرتے تھے۔
اگر پنجاب میں موروثی سیاست پر نظر ڈالی جائے، تو یہاں کے بڑے سیاسی خانوادے، شریف فیملی، گجرات کے چوہدری، ٹوانے، قریشی، گیلانی اور مخدوم نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہیں، بلکہ صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں بھی ان خاندانوں کے ارکان یا ان سے وابستہ افراد ہی کے حصے میں آتی ہیں۔ خاندانی سیاست کے اعتبار سے خیبر پختون خوا کی صورتِ حال بھی مختلف نہیں، جہاں اس وقت بڑا سیاسی خانوادہ سابق وزیراعلی خیبرپختون خوا، پرویز خٹک کا ہے، جبکہ روایتی طور پر یہاں عبدالولی خان کے خاندان کو سبقت حاصل رہی ۔ نیز، ہوتی فیملی، سیف اللہ خاندان، یوسف خٹک اور ایوب خان کا خاندان اور مولانا مفتی محمود کا گھرانا بھی موروثی سیاست سے فیض یاب ہونے والوں میں شامل ہے۔ چُوں کہ سندھ کی سیاست زیادہ تر جاگیر داروں کے ہاتھ میں رہی ہے، تو یہاں دیہی علاقوں میں موروثی سیاست بہت مضبوط ہے، البتہ متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے شہری علاقوں میں موروثی یا خاندانی سیاست کو ہِلا کر رکھ دیا۔ا گرچہ سندھ میں موروثی سیاست کے حوالے سے عموماً بھٹو خاندان ہی کا نام لیا جاتا ہے، لیکن یہاں زیادہ تر سیاست دان موروثی سیاست ہی کر رہے ہیں ۔ بلوچستان میں بھی سیاست قبائل یا خاندان کے گرد گھومتی ہے اور یہاں سیاسی جماعتیں برائے نام وجود رکھتی ہیں۔ یہاں کی سیاست پر اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مَری، مینگل، بُگٹی اور زہری سمیت دیگر قبائل حاوی ہیں۔
خیال رہے کہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں اُس وقت کے سیاسی رہنماؤں نے اپنے عزیز و اقارب کی سیاست میں شمولیت کی حوصلہ افزائی نہیں کی، کیوں کہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کے رشتے داروں کے حکومتی عہدوں پر متعین ہونے سے سرکاری اُمور میں ان کی مداخلت بڑھے گی، جو ملکی نظام کو چلانے میں دِقّت کا سبب بنے گی۔ تاہم، جب ایوب خان نے اپنے دور میں ’’ایبڈو‘‘ (ایلیکٹیڈ باڈیز ڈس کوالیفکیشن آرڈر) کے تحت سیاست دانوں کو نا اہل کیا، تو متاثرہ سیاست دانوں کے ایوب خان کے ہاتھ پہ بیعت کرنے پر اُن کے بھائیوں، بیٹوں اور دیگر رشتے داروں کو سیاست میں آنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس واقع کے بعد پاکستان کی قومی، صوبائی اور بلدیاتی سطح کی سیاست پر موروثی سیاست دانوں کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا اور تب سے اب تک سیاسی خانوادے مسلسل ایسی قانون سازی کرتےاور پالیسیز بناتے چلے آرہے ہیں کہ جن کی وجہ سے سرکاری و نجی شعبوں میں ان کی طاقت اور اثر ونفوذ بڑھتاچلا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ایٹمی پاکستان بننے کا دن28مئی 1998

اس وقت پنجاب میں سابق وزیرِ اعظم، میاں محمد نواز شریف، اُن کے برادرِ خرد اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میاں محمد شہباز شریف سمیت اس سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر افراد، مثلاً مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف، سلمان شہباز، کیپٹن (ر) صفدر، جنید صفدر، بلال یٰسین، عابد شیر علی، اسحٰق ڈار، شیر علی ، بلال یٰسین اورمحسن لطیف وغیرہ سب ہی سیاست میں اِن ہیں، جب کہ بعض اسی سیاست کی بہ دولت قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیل رہے ہیں۔اسی طرح ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویز الٰہی، چوہدری شفاعت حسین، چوہدری وجاہت حسین، ریاض اصغر، زین الٰہی اور مونس الٰہی بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔پھر انور چیمہ کے صاحب زادے، عامر سلطان چیمہ اور انور چیمہ کی بہو، تنزیلا چیمہ بھی سیاست دان ہیں۔ جنوبی پنجاب میں سابق وزیرِ اعظم، سیّد یوسف رضا گیلانی کے چاروں بیٹوں، عبدالقادر گیلانی، علی موسیٰ گیلانی، قاسم گیلانی اور حیدر گیلانی کے علاوہ ان کے بھائی، مجتبیٰ گیلانی اور خالہ زاد بھائی، سیّد صبغت اللہ راشدی بھی سیاست میں ہیں، جب کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ، شاہ محمود قریشی کے علاوہ اُن کے بہنوئی، پیر شجاعت حسین قریشی، بھانجے، ظہور حسین قریشی، بھائی، مرید حسین قریشی اور سمدھی، مخدوم احمد محمود بھی جنوبی پنجاب کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ باایں ہمہ سابق صدر، سردار فاروق احمد خان لغاری مرحوم کے صاحب زادے، سردار جمال لغاری اور اویس لغاری کا شمار بھی اپنے علاقے کے کام یاب سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ وٹو خاندان سے تعلق رکھنے والے منظور وٹو، ان کے صاحب زادے، خرّم جہانگیر وٹو اور صاحب زادی، روبینہ شاہین وٹو بھی سیاسی میدان میں مصروفِ کار ہیں۔ علاوہ ازیں، راجہ صفدر اور اُن کے بھائی، راجہ اسد بھی میدانِ سیاست میں ہیں۔ سابق وزیرِ ریلوے، خواجہ سعد رفیق کے علاوہ اُن کے بھائی، خواجہ سلمان رفیق بھی سیاست دان ہیں، جب کہ اس سے قبل ان کی والدہ بھی سیاست میں مصروفِ عمل رہی ہیں۔ مسلم لیگ (نون) کی رہنما، یاسمین رحمٰن، پرویز ملک کی ہم شِیرہ ہیں اور پرویز ملک کی اہلیہ اور صاحب زادی بھی سیاست دان ہیں۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، ذکاء اشرف اور ان کی ہم شِیرہ، عشرت اشرف، سیّدہ عابدہ حسین اور ان کے بھتیجے، سیّد فیصل صالح حیات، جعفر اقبال اور ان کی اہلیہ، عشرت جعفر اور بیٹی، زیب جعفر بھی سیاسی میدان میں مصروفِ عمل ہیں۔
اگر خیبر پختون خوا کی سیاست پر نظر ڈالی جائے، تو سابق وزیرِ اعلیٰ، امیر حیدر خان ہوتی، اعظم خان ہوتی کے صاحب زادے اور بیگم نسیم ولی خان کے بھانجے ہیں، جب کہ غلام احمد بلور کے بھائی، الیاس بلور بھی سیاست میں سرگرم ہیں۔ سابق وزیرِ اعلی خیبر پختون خوا، پرویز خٹک کے بھائی، لیاقت خٹک، داماد، عمران خٹک، بھابھی، نفیسہ خٹک اور بیٹی ساجدہ بیگم اور بھتیجے، احد خٹک بھی سیاست دان ہیں۔ اسی طرح مفتی محمود مرحوم کے صاحب زادے اور جمعیت علمائے اسلام (فے) کے امیر، مولانا فضل الرحمٰن، اُن کے بھائی، مولانا عطاء الرحمٰن، مولانا لطف الرحمٰن، مولانا عبیدالرحمٰن، صاحب زادے، اسعد محمود اور سمدھی، سینیٹر مولانا غلام علی بھی سیاست کے بڑے کھلاڑی ہیں۔ لکی مروت سے تعلق رکھنے والے سلیم سیف اللہ اور اُن کے بھائی، ہمایوں سیف اللہ، انور سیف اللہ اور عثمان سیف اللہ اور ان کی ہم شِیرہ بھی، جو سابق صدر، ایّوب خان کے پوتے، عُمر ایّوب خان کی اہلیہ ہیں، سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
صوبۂ سندھ میں سابق صدر، آصف زرداری اور اُن کی دو بہنیں، فریال تالپور اور عذرا پیچوہو ، صاحب زادے، بلاول بُھٹّو زرداری اور بہنوئی ، میر منوّر تالپور میدانِ سیاست میں قدم جما چُکے ہیں۔ اسی طرح قومی اسمبلی کی سابق اسپیکر، فہمیدہ مرزا، اُن کے شوہر، ذوالفقار مرزا اور صاحب زادے، حسنین مرزا بھی سندھ کی سیاست کے اہم نام ہیں، جب کہ سابق وفاقی وزیر، مخدوم امین فہیم مرحوم کے صاحب زادے، مخدوم جمیل الزّمان بھی سیاست میں فعال ہیں۔ علاوہ ازیں، شازیہ مری بھی اپنے دادا، علی محمد مَری اور والد، عطا محمّد مَری کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں مصروفِ عمل ہیں، جب کہ پیر پگاڑا، سیّد صبغت اللہ راشدی، ان کے صاحب زادے، عُمر مصطفی راشدی اور بھتیجے، سیّد محمد راشد شاہ بھی سندھ کی سیاست میں فعال ہیں۔ اسی طرح ذوالفقار مگسی، ان کی اہلیہ، شمع پروین مگسی، صاحب زادے، سیف اللہ مگسی، بھائی، اکبر مگسی، عامر مگسی، نادر مگسی، طارق مگسی اور خالد مگسی بلوچستان کے سیاسی نمایندے ہیں۔ اگر سابق آمروں کے گھرانوں پر نگاہ ڈالیں، تو ایّوب خان کے بعد اُن کے صاحب زادے، گوہر ایّوب خان اور پوتے، عُمر ایّوب خان، ضیاء الحق کے صاحب زادے، اعجاز الحق اور انوار الحق، جب کہ جنرل اختر عبدالرحمٰن کے دونوں صاحب زادے، ہمایوں اختر اور ہارون اختر خان سیاست میں موجود ہیں۔ یہاں ایک قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ عموماً خواتین کی مخصوص نشستیں بھی مذکورہ بالا خاندانوں ہی کے حصّے میں آتی ہیں۔ تاہم، دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس فی الوقت جماعتِ اسلامی، متّحدہ قومی موومنٹ، پاکستان اور پاکستان تحریکِ انصاف موروثی سیاست سے کسی حد تک پاک نظر آتی ہے۔ موروثی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو یہ پہنچا کہ ہمارا مُلک تیسری دُنیا کے ممالک کی فہرست میں بھی کہیں پیچھے رہ گیا ۔ پھر موروثی سیاست میں عوام کا استحصال بھی زیادہ ہوتا ہے، کیوں کہ یہ سیاست دان ہمیشہ اپنے مفادات ہی کو مقدّم رکھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ طاقت اور دولت کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ سو، ضرورت اس اَمر کی ہے کہ تعلیم یافتہ اور سماجی شعور رکھنے والے نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شمولیت کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ نئے خیالات و رُجحانات کے ذریعے مُلک کو مسائل کے گرداب سے نکالیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم عروج وزوال میں تعلیم کا کردار

الف سلیم