daughter

اسلام کے مطابق جائیداد میں بیٹیوں کا حق

EjazNews

اسلام کی منجملہ دیگر خوبی کے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ لڑکیوں کو ماں باپ وغیرہ کے ترکہ میں حقدار قرار دیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: ”جو چیز ماں باپ اور رشتے ناطے والے چھوڑ مریں یعنی مال اسباب مردوں کا حصہ ہے، اسی طرح عورتوں کابھی اس میں جو ماں باپ اور رشتہ والے چھوڑ دیں۔ حصہ ہے تھوڑا ہویا بہت ہر ایک کا مقرر ہے۔ “ (النساء)
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ تم کو تمہاری اولاد کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو پھر اگر لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں تو ترکے میں ان کا دو تہائی حصہ ہے اور اگر ایک اکیلی ہی لڑکی ہے کل ترکے کا آدھااس کو ملے گا۔ “( النساء)
اس آیت میں بیٹیوں کا ذکر احتاً اور پوتیوں کا ذکر ضمناً آیا ہے ذیل میں بیٹیوں اور پوتیوں کے حقوق میراث کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔ بیٹی کبھی محروم نہیں ہوتی۔ اگر بھائی یعنی میت کا بیٹاساتھ ہوتا ہے تو عصبہ بن جاتی ہے۔ ورنہ ذوی الفروض رہتی ہے۔ اس لیے اس کے تین حال ہیں ۔
(۱) اگر صرف ایک بیٹی ہو اور کوئی بیٹا نہ ہو تو میت کے ترکہ میں سے اس کو نصف حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی وارث بالکل نہ ہو تو باقی نصف بھی اس کو مل جاتا ہے۔
(۲) اور اگر دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زیادہ ہوں اور کوئی بیٹا نہ ہو تو ان بیٹیوں کو ترکہ میں سے دو ثلث پہنچے گا۔ اس دوثلث کو باہم تقسیم کر لیں خواہ کتنی ہی بیٹیاں ہوں دو ثلث میں شریک رہیں گی اور برابر تقسیم کر لیں گی۔ مثال کے طور پر یہ سن لیجئے کہ زید کا انتقال ہوا۔ اس نے زوجہ، باپ ، دو بیٹیاں چھوڑیں ۔ آٹھواں حصہ زوجہ کو، دو تہائی بیٹیوں کو باقی باپ کو ملے گا۔ دو ثلث کو دونوں بیٹیاں باہم نصفا نصف کر لیں اور اگر بجائے دو بیٹیوں کے چار یا پانچ یا آٹھ دس بیٹیاں ہوں تو بھی دوثلث یعنی 24میں سے 16ان کو ملیں گے۔
(۳) اگر بیٹیوں کے ساتھ میت کا بیٹا بھی موجود ہو تو اس صورت میں بیٹی کا کوئی حصہ مقرر نہیں بلکہ جس قدر بیٹے کو ملے گا۔ اس سے نصف ہر ایک بیٹی کو ملے گا، خواہ ایک بیٹی ہو یا دو چار ہوں۔ اس حالت میں بیٹیاں ذوی الفروض نہیں رہیں گی۔ بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ مل کر عصبہ بالغیر ہو گئی ہیں اس کی تشریح یوں سمجھ لو کہ اگر کسی عورت نے انتقال کیا اور اس کے دو شوہروں سے اولاد موجود ہے تب بھی یہی حال ہے جو مذکور ہوا۔ یعنی اگر دویا دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو دوثلث ترکہ ان کو ملے گا۔ اگر بیٹا بھی ساتھ ہو تو ہر ایک بیٹی کو بیٹے سے نصف ملے گا۔ خواہ یہ بیٹیا پہلے شوہر سے ہویا دوسرے شوہر سے اور یہ بیٹیاں بھی خواہ اول شوہر سے ہوں یا دوسرے شوہر سے ہوں۔ اس سے کچھ بحث نہ ہوگی بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ بوقت وفات میت کی کیا کیا اولاد موجود تھی۔ علی ہذا القیاس۔ اگر مرد کا انتقال ہو تو اس کی بیٹیوں میں یہ تفصیل و تمیز نہیں کریں گے کہ ایک ماں سے ہیں یا دو سے اور اگر ان کے ساتھ بیٹا ہو تو یہ نہ پوچھیں گے کہ وہ پہلی زوجہ سے ہے یا دوسری سے یہ نہ ہوگا کہ ایک زوجہ کی اولاد نصف مال پر قبضہ کرے اور دوسرے کی اولاد بھی نصف لے لیں بلکہ جتنی اولاد کی تعداد ہوگی اسی قدر حصے ملیں گے لیکن مرد کو دو ہرا اور عورت کو اکہرا دیا جائے گا۔ پس اگر کسی کی ایک زوجہ سے صرف ایک لڑکی ہو اور دوسری سے پانچ بیٹے ہوں تو گیارہ حصے ہو کر ایک حصہ بیٹی کو پہنچے گا اور دو ۔ دو حصے پانچوں بیٹوں کو۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوی میراث میں حقدار ہے