Education

تعلیم کیا ہوتی ہے؟

EjazNews

ماہرین کے مطابق دنیا تیزی سے بدل رہی ہے مستقبل مصنوعی ذہانت یعنی آرٹی فیشل ذہانت کا ہے ۔کیا نئی نسل ایسے روزگار کے لیے تیار ہے جو وہ مصنوعی ذہانت کے بعد ان سے کام لینے کی صلاحیت ر کھتی ہے۔ ہاورڈ کے ماہرین کے مطابق نئی نسل مصنوعی ذہانت سے کام لینے کی اہل نہیں اس میں کئی پیچیدگیاں ہیں مثلاً اگر مصنوعی ذہانت کو کوئی کمانڈ دے کہ آپ مجھے اورنج کلر میں پہنے ہوئے تمام سلیبرٹیز کی تصاویر دکھائیں تو مصنوعی ذہانت ایک ملی سیکنڈ کے ایک حصہ میں لاکھوں تصاویر تلاش کر لیں گی۔ اس میں ان کی کیٹاگری بنائی جائیں گی کہ کون سے بالکل اورنج ہے اور کون سی تھوڑی اورنج ہے کون سی 100فیصد فٹ بیٹھتی ہے اور کون سی 50فیصد ۔ اس نئے نظام سے کام لینے کے لیے کیا ہماری نئی نسل میں صلاحیت ہے ۔
ہاورڈ یونیورسٹی کے مطابق ان میں کئی کمیاں ہیں۔ ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک اور سوال اٹھایا کہ آج کل خود کار کاروں کا ذکر ہو رہا ہے یعنی یہ کاریں ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کاریں ہیں۔اگر ان کاروں کو کوئی ایسی صورتحال پیش آئے کہ اسے اپنے مسافر یا سامنے سے پیش آنے والے میں سے کسی ایک کی جان بچانا پڑے تو وہ کس کو ترجیح دے گی اس کے پروگرام میں کس آدمی کی جان کی قیمت زیادہ اہم ہے اس سوال کا جواب بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ تو ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق کمپیوٹر کے سافٹ وئیر کا پروگرام ہمارے ہاں اپ ڈیٹ نہیں ہوا ،کمپیوٹر کی تعلیم چھٹی جماعت کی سطح تک بہت محدود ہے۔40فیصد امریکی سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جاتی ہے60فیصد سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کا کوئی وجود نہیں۔پروگرامنگ سے نابلد یہ طالب علم اے ون ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت سے بھلا کیسے کام لے سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی ہمیں ہمارے کورسز کو اپ ڈیڈ کرنے کی کوشش ہے۔ کمپیوٹر پروگرامنگ کا نصاب ہمارے ہاں بوسیدہ ہے۔ اس نظام کو زیادہ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ فی الحال نہیں کیا جارہا۔
ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ہماری نئی جنریشن میں اپنے مقابلے پر آنے والی مصنوعی ذہانت کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ،یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت صرف آلات نہیں ہے یہ وہ پرزے نہیں ہیں جن سے ٹھوک بجا کر کام لیا جاسکے۔ یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والی مشینیں ہیں آپ کی پارٹنر ہیں آپ کی ساتھی ہیںان سے کیسے کام لینا ہے اس کے لیے ایڈوانس تعلیم کی ضرورت ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دنیا میں کمپیوٹر کی تعلیم کے خواہش مندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کمپیوٹر کے اے بی کمپیوٹر سائنسز یعنی اے (اے پی سی ایس ۔اے)ٹیسٹ میں 58ہزار طالب علم شریک ہوئے۔ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن کمپیوٹر کے دوسرے طالب علموں کے مقابلے میں 20-22فیصد ہے۔ کمپیوٹر کے اے بی ٹیسٹ میں 3لاکھ 8ہزار لوگ شریک ہوئے۔ ایک تہائی امریکی ریاستو ں میں گریجوایشن کی سطح پر کمپیوٹر کے کریڈٹ ہی کنٹرول نہیں کیے جاتے ۔
ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق امریکہ میں کمپیوٹر کی تعلیم کا یہ معیار کئی پسماندہ ممالک سے بھی بدتر ہے۔ جرمنی اور روس امریکہ سے آگے ہیں۔ سابق صدر اوبامہ نے کمپیوٹر کی تعلیم سب کے لیے پروگرام شروع کیا یہ صحیح سمت میں بہتر قدم تھا۔ لیکن صدر ٹرمپ نے اس پروگراموں پر کئی طرح کی کٹوتیاں کر دیں۔ سکول کی سطح پر کمپیوٹر کی تعلیم کے طالب علم کو آگے چل کر انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ پھر ہمیں زیادہ سے ز یادہ طلبہ کو کمپیوٹر کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ کمپیوٹر سائنس کو کیرئیر کے طور پر اپنانا چاہیے۔ میرے لیے یہ بات انتہائی پر جوش ہے کہ گزشتہ فعال سیزن میں کلاس میں داخلہ لینی والی 50فیصد طالبات تھیں۔کمپیوٹر کے شعبے میں خواتین اور اقلیتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ انجینئرنگ ٹیکنالوجی بھی ایک اہم موضوع ہے۔جوکچھ ہم پڑھائیں گے اسی سے مستقبل میں کامیابی کا اندازہ ہوگا۔ ہمارے ہاں اکثر کورسز 1990ءکی دہائی کے ہیں۔ جو اب بہت بنیادی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ کمپیوٹر سائنس کی بنیادی تعلیم ہے۔ مگر اب ہمیں اس سے بہت آگے بڑھنا چاہیے۔ کسی پروگرامنگ کورس کو ڈویلپ کرنا ایک بڑا مشکل اور دلچسپ کام ہے۔ مثال کے طور پر نیویارک شہر میں کارڈ سکواڈ نے ایک پروگرام بنایا۔ انہوں نے جاوا سکرپٹ کی مدد سے ویڈیو کو بہتر بنایا۔ اس سے طالب علموں میں ایک نئی سرگرمی پیدا ہوئی۔ اگر بس گائیڈ اپنے لیے ایسی سرگرمی پیدا کرسکتی ہیں تو ہمارے سکول کیوں نہیں کر سکتے۔ ہماری رائے میں 9ویں گریڈ کے بعد تمام سکولوں کو ربوٹیکس کمپیوٹیشنل میپ اور کمپیوٹیشنل آرٹ کے نئے مضامین پڑھانے چاہیے۔ طلبہ کو ان نئے مضامین میں داخلہ لینے کے لیے شعور بیدار کرنا چاہیے۔ ان شعبوں میں کمپیوٹر سائنٹسٹکس کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں چند ایک ہائی سکول ہی بنیادی ٹریننگ سے آگے بڑھ سکے ہیں،خود نیویارک میں تھامسن ڈریفن ہائی سکول برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ایسے کچھ سکول آگے بڑھے ہیں۔ ہم ہائی سکولوں پر میتھ کے شعبو ں کو اہمیت دینے پر زور دے رہے ہیں۔ لیکن یہ وہ والا میپ نہیں ہے جو بہت سے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے ہم نے سکولوں سے کہا ہے کہ وہ لگاتارمیتھ بشمول ایڈوانس میتھ ، ایڈوانس کیلکولیشن پر زیادہ زور نہ دیں بلکہ اس میتھ پر زور دیں جس کا تعلق برائے راست کمپیوٹر سائنس سے ہے جیسا کہ سٹرٹیسٹ اور گراف ٹیری یا لاجک ۔ یہ تعلیم کل کی بنیاد پر لگنے والی کورس کی بنیاد پر مدد گار ثابت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن کی جانب سے صدر مملکت کے خطاب میں ہنگامہ آرائی کا آغاز کب ہوا؟
مائیکروسافٹ نے کئی پروگرام شروع کیے ہیں اور کمپیوٹر کے پروفیشنلز کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن ہمیں چند اساتذہ کی نہیں بلکہ درجنوں لاکھ طالب علموں کے لیے ہزاروں ماہر ایجوکیٹرز کی ضرورت ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے لاکھوں طالب علم اور ہزاروں اساتذہ درکار ہیں۔ امریکی ماہرین

لیکن اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سائنس ٹیچروں کا خوفناک فقدان ہے۔ یہی وہ شعبہ ہے جس میں امریکہ کی ٹیک کمپنیاں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں ہم یہاں مائیکروسافٹ کی مثال دیں گے۔ انہوں نے کئی پروگرام شروع کیے ہیں اور کمپیوٹر کے پروفیشنلز کو تعلیم دے رہے ہیں لیکن ہمیں چند اساتذہ کی نہیں بلکہ درجنوں لاکھ طالب علموں کے لیے ہزاروں ماہر ایجوکیٹرز کی ضرورت ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے لاکھوں طالب علم اور ہزاروں اساتذہ درکار ہیں۔ جہاں تک اکیڈمیوں کا تعلق ہے ہم یہاں آکسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کی مثال دیں گے۔آسٹن یونیورسٹی نے یو ٹیچ پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کا دائرہ کار اب 21ریاستوں میں 44یونیورسٹیوں تک پھیل دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں کمپیوٹر کی تعلیم کا پروگرام یو ٹیچ شروع کیا گیا ہے۔لیکن یہ بھی کافی نہیں۔ ہمیں سائنس اور میتھ میں معیاری انڈر گارڈن ایجوکیشن کی ضرورت ہے لیکن درسی کتب، کورسز اور اعلیٰ تربیت یافتہ کیڈر موجود نہیں۔ یہ تین عناصر مل کر ایک معیار کا تعین کر سکتے ہیں۔ اس کام میں کمپیوٹر سائنس ٹیچر زایسوسی ایشن سے ہمیں بہت امیدیں وابستہ ہیں ان کا کردار کسی رہنما سے کم نہیں اب اس ایسوسی ایشن کو پیش رفت کر تے ہوئے ایک عبوری فریم ورک کا تعین کرنا چاہیے۔ ایک معیار بنانا چاہیے ۔ یاد رکھیے یہ سب کچھ آنے والی نسل کے لیے کرنا ضروری ہے۔
آپ دیکھئے تعلیم کیا ہوتی ہے یہ آپ کو ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے ماہرین امریکی معیار سے مطمئن نہیں سوچئے پھر دیگر ممالک کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ اور توقع آپ لگا سکتے ہیں۔
ملک عزیز میں تعلیم کس سطح کی ہے ۔ہمارا فرسودہ نظام اور نصاب کس قدر پرانا ہے۔ پاکستان میں تعلیم متعدد مسائل کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ جن میں اداروں کی ناقص پن، نا اہلی، درس وتدریس کے مسائل، غیر مناسبت ، ضیاع وسائل کی قلت اور تحقیق کا نہ ہونا شامل ہے۔ تعلیم ملک کی معاشرتی و معاشی اور ثقافتی ترقی کا بہت اہم سرچشمہ ہے اوردنیا میں اب بھی احساس عام ہے کہ معیاری تعلیم کی مدد سے ایک غیر ترقی یافتہ قوم ایک ہی نسل کی زندگی میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں بیوی کا رشتہ ایک مضبوط بندھن