hasan rohani with imran khan

دونوں ممالک کو تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا: وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے ۔ یہ پریس کانفرنس خطے میں موجودگی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اسلامی اور قلبی رشتے وابستہ ہیں اس صورتحال میں پاکستان کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس خطے میں کوئی بھی ایسی نئی جنگ شروع ہو جس سے پاکستان ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو جائے کہ وہ نہ تو جنگ میں شامل ہو سکتا ہے اور نہ ہی دور رہ سکتا ہے۔ اس آگ کو بھڑکنے سے پہلے ڈھنڈا کرنے کیلئے ایک کوشش وزیراعظم عمران خان بھی کر رہے ہیں تاکہ خطے میں امن و استحکام رہے اور اسلامی ممالک آپس کی لڑائیوں سے بچ کر امن کے راستے تلاش کریں۔
تہران میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آرہی ہے اور دونوں برادر اسلامی ملک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان خطے کے استحکام کیلئے کاوشیں اور بہتری کیلئے کام کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجود کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے ایران تیار ہے جبکہ ایران چاہتا ہے کہ یمن میں جنگ بندی ہو جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جبکہ جوہری ڈیل سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکہ جوہری ڈیل سے متعلق مذاکرات کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، نئے سال کی پہلی صبح سے
پی ٹی آئی آفیشل سے جاری ہونے والی دونوں رہنماؤکی تصویر

جبکہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد حسن روحانی سے یہ ان کی تیسری ملاقات ہوئی ہے جس میں دو طرفہ تجارتی امور اور باہمی دلچسپی کے امور کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔ جبکہ میرا ایران کے دورے کا مقصد خطے میں ہر قسم کے تنازعات کا خاتمہ ہے، سعودی عرب اور ایران کے تنازع کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں ، دونوں ممالک کو تنازع کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پڑوسی اور دوست ملک ہے جبکہ سعودی عرب ہمارے بہت قریب ہے۔ دووں ممالک کے درمیان تنازعات سے خطے اور دنیا کو بہت نقصان ہوگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی قسم کی جارحیت کی حمایت نہیں کریں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسلام آباد میں سعودی عرب اور ایران میں بات چیت کرائی گئی تھی ۔ یہ سنجیدہ اور تشویشناک صورتحال ہے مگر اس کا حل ممکن ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی دونوں ممالک کو ملانے کیلئے میزبانی کا کر دار ادا کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے بھی ایران سے معاملات کے حل کیلئے بات کی جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جوہری معاہدے کی راہ ہموار ہو۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان 70ہزار جانیں قربان کر چکا ہے۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے پر انہوں نے حسن روحانی کا شکریہ اداکیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے 80لاکھ کشمیریوں کو مقبوضہ وادی میں قید کر رکھا ہے ۔
ایرانی صدر نے وزیراعظم عمران خان کا جذبہ خیر سگالی کے تحت آنے پر شکریہ ادا کیا ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کو سراہتے ہیں اور ہم ان کے جذبہ خیر سگالی کا جواب مثبت ہی دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستانی ٹیم 105کے سکور پر ڈھیر