Violence

اپنے اوپر ہونے والے تشدد کیخلاف آواز اٹھائیں

EjazNews

تشدد کو صحت کے ایک مسئلے کے طور پر اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے لیکن تشدد، بری طرح زخمی کرسکتا ہے اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ یہ جسمانی معذوری حتیٰ کہ موت کا سبب بن سکتا ہے۔ بہت سی لڑکیوں کی آبروریزی ان کے اپنے خاندان کے افراد یا دوست کرتے ہیں۔ بہت سی عورتوں کو ان کے ازدواجی رفیق جنسی ملاپ پر مجبور کرتے ہیں یا جسمانی بدسلوکی (تشدد) کرتے ہیں۔ زنا بالجبر اور جنسی طور پر پریشان کرتا، تمام عورتوں کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ اس قسم کا تشدد دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں اور تمام سماجی حالات میں کیا جاتا ہے۔ ابھی تک عورتوں پر کیے جانے والے تشدد کے زیادہ واقعات با اختیار افراد کے علم میں نہیں لائے جاتے کیونکہ پولیس اکثر ،مردوں کی بجائے عورتوں کے سرالزام ڈال دیتی ہے۔ مرد جو تشدد کا باعث بن رہےہیں انہیں شاید ہی کبھی سزا دی جاتی ہو۔
تشدد بند کرو:
دنیا میں روزانہ بہت سے مرد اپنی عورتوں پر تشدد کرتے ہیں۔ وہ انہیں تھپٹر اور لاتیں مارتے ہیں، مار پیٹ کرتے ہیں، ان کو ذلیل کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں دے کر خوفزدہ کرتے ہیں، ان سے جنسی بدسلوکی کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں قتل کردیتے ہیں، لیکن ہمیں اس تشدد کے بارے میں کوئی بات سنائی نہیں دیتی کیونکہ جن عورتوں کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے وہ ممکن ہے اس کے بارے میں کچھ بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہوں، وہ خود کو تنہا محسوس کرتی ہوں اور اس سلسلے میں کچھ کہتے ہوئے ڈرتی ہوں ۔ تشدد جتنا زیادہ سنگین مسئلہ ہے، بہت سے ڈاکٹر ،نرسیں اور صحت کا رکن اس کی سنگینی کو اس حد تک محسوس نہیں کر پاتے۔
یہ کہانی دنیا کے کسی بھی گھر کی کہانی ہو سکتی ہے۔ آپ ذرا غور کریں تو اس سے ملتی جلتی کہانی آپ کو اپنے شہر یا محلے میں بھی سننے کو مل جائے گی۔
لورا اور لوئس | کی کہانی
لوئس کی جب لورا سے ملاقات ہوئی تو وہ عمر میں لورا سے 12 سال بڑا اور ایک کامیاب سوداگر تھا۔ لورا ایک دکان پر کلرک کا کام کرتی تھی اور لوئس اپنا مال بیچنے اس دکان پر آیا کرتا تھا۔ لورا، دکان پر اس لیے کام کرتی تھی کہ اس کے والدین اپنے مکان کا کرایہ ادا کرسکیں۔ لوئس ایک دلکش آدمی تھا، وہ لورا سے کہتا کہ ہم دونوں بہت پرمسرت زندگی گزارسکیں گے۔ اس نے لورا سے کہا کہ وہ اس کے لیے ہر وہ چیز خریدے گا جس کی وہ فرمائش کرے گی اور یہ کہ وہ اس کی زندگی کی بہترین عورت ہے۔ لوئس، لورا کو نئے لباس خرید کر دیتا اور کہتا کہ وہ انہیں پہن کر کتنی خوبصورت لگے گی۔ دونوں کے درمیان تعلق بڑھتا گیا اور ایک وقت وہ آیا کہ جب دونوں ہر روز ملنے لگے ،بالا ٓخر لوئس نے لورا سے کہا کہ وہ ملازمت چھوڑ دے اور اس سے شادی کرلے۔
شادی کے بعد لورا کو توقع تھی کہ لوئس اپنے وہ وعدے پورے کرے گا جو شادی سے پہلے کیے تھے۔ لیکن اس کے بجائے حالات کچھ اور رخ اختیار کرنے لگے۔ لوئس نے اسے باہر جانے سے منع کردیا اس کا کہنا تھا کہ وہ بدشکل اور بد وضع نظر آتی ہے۔ شادی سے پہلے لوئس نے لورا کے لیے جو اچھے اچھے ملبوسات خریدے تھے اس نے وہ سب بھی یہ کہہ کر جلا دئیے کہ اس جیسی بے وقوف اور بدشکل عورت یہ لباس پہننے کی مستحق نہیں۔
ایک دن لوئس دوپہر کے وقت گھر آیا اور اس نے صحن میں الگنی پر لٹکے ہوئے تمام دھلے ہوئے کپڑے اتار کر پھاڑ دئیے۔ اس نے لورا پر الزام لگایا کہ لوئس کے دوست کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات ہیں۔ لورا نے اس الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ماں سے ملنے گئی تھی۔ لوئس مزیدمشتعل ہوگیا اس نے لورا کو یہ کہہ کر مارنا شروع کر دیا کہ وہ جھوٹی رنڈی ہے۔ اس نے حکم دیا کہ لورا اپنے میکے نہیں جائے گی ۔ اس نے کہا کہ اس کے میکے والے بھی اسے پسند نہیں کرتے۔ لوئس مزید کچھ کہے بغیر چلا گیا، لیکن جب وہ رات کو گھر لوٹا تو اس کے پاس لورا کے لیے اچھے اچھے تحفے تھے۔ اس نے کہا کہ وہ لوراسے بہت محبت کرتا ہے اور ہر طرح اس کا خیال رکھنا چاہتا ہے۔
ایک دن لورا کو پتا چلا کہ وہ حاملہ ہوگئی ہے۔ اس نے سوچا کہ اب اس کا رویہ بدل جائے گا اور وہ اس سے بہتر سلوک کرے گا۔ لیکن لوئس کا رویہ لورا کی توقع کے خلاف تھا۔ اس نے لورا کو مارنے پیٹنے کے لیے اسی بات کو بہانہ بنایا کہ وہ حاملہ ہے۔ اسے جب بھی غصہ آتا وہ لورا کے پیٹ پر مکے اور لاتیں مارتا، لورا خوفزدہ رہتی کہ اس کا بچہ ضائع ہوجائے گا لیکن وہ گھر چھوڑ کر کہیں جا بھی نہیں سکتی تھی ۔ وہ لوئس کی اس بات پر یقین کر چکی تھی کہ اس کے میکے کے لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔ اس دوران ایسے وقت بھی آتے جب کئی ہفتوں تک لوئس کو غصہ نہ آتا اور لورا یہ سمجھنے لگی کہ شاید اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے اور لوئی اس سے اتنی محبت کرتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ایسی کوئی بات نہ کرے جس سے وہ مشتعل ہو۔ وہ اس کا اور زیادہ خیال رکھنے کی کوشش کرتی لیکن سب کچھ بیکار جاتا اور ایک دن پھرظلم وتشدد کا دور لوٹ آتا۔
ان تمام گزرے برسوں میں لوئس بہت زیادہ شراب پینے لگا تھا۔ وہ نشے میں لورا کو مارتا، اسے دیوار پر دھکے دیتا اور مار پیٹ کے نتیجے میں جب لورا کے جسم کا ہر حصہ بری طرح دکھ رہا ہوتا تو وہ اسے مجبور کرتا کہ وہ اس کے ساتھ ہم بستری کرے اور جنسی عمل میں شریک ہو۔ ایک رات سوتے میں لورا کی آنکھ کھلی تو وہ یہ دیکھ کر دہشت زدہ ہوگئی کہ لوئس اس کے سرہانے کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں کھلا ہوا چاقو ہے جو اس نے لورا کی گردن کے قریب رکھا ہوا ہے۔ اگلے دن صبح لوئس نے الزام لگایا کہ وہ پاگل ہوگئی ہے اور اسے غیر حقیقی چیزیں نظر آتی ہیں۔ وہ لورا کو دھمکی دیتا کہ اگر اس نے لوئس کے بارے میں کسی کو بھی مار پیٹ کی جھوٹی باتیں بتائیں تو وہ اسے قتل کر دے گا ۔ اور اس کے تمام ظلم وستم خاموشی کے ساتھ، بغیر کسی کو بتائے سہتی رہی۔ اس نے باہر آنا جانا بہت کم کردیا وہ کسی سے نہیں ملتی۔ اسے اس بات سے نفرت تھی کہ کوئی دوسرا شخص اس کے جسم پر زدوکوب کے نشان دیکھے اور ان کے بارے میں پوچھے یا یہ اندازہ کہ لوئس اسے مارتا ہے۔ اور اکثر یہ سوچتی کہ وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے لیکن اس کی سمجھ میں نہ آ تا کہ وہ کہاں جاسکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:  خوش گوار اور پرامن ماحول
تشدد کرنے والے کو اس وقت زیادہ شہ ملتی ہے جب سامنے والا تشدد سہنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اس کیخلاف آواز نہیں اٹھاتا

ان کی شادی کو بارہ سال ہو چکے تھے اور ان تمام گزرے برسوں کے بعد نہ صرف وہ لوئس سے خوفزدہ تھی بلکہ دنیا نے اس قدر الگ تھلگ ہو چکی تھی کہ اسے کچھ اندازہ ہی نہ تھا کہ اس کے بغیر وہ کیسے رہے گی۔ لورا جس دکان پر کام کرتی تھی لوئس وہاں لورا کے بارے میں لوگوں سے گندی گندی باتیں کہتا تھا۔ لوراکو یہ بات معلوم ہوچکی تھی۔ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی وجہ سے وہ کسی کے گھر میں نوکرانی کا کام بھی نہیں کرسکتی تھی۔ وہ دنیا میں اکیلی اور بالکل تنہارہ گئی تھی۔
لورا کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کی ماں اپنے بھائی کے گھر والوں کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ وہاں اس کے اور اس کے بچوں کے لیے جگہ نہ تھی۔ اس کی بہن نہایت مذہبی عورت تھی، اس نے لورا کو کہہ رکھا تھا کہ شوہر کے ساتھ ہر حال میں رہنا اس کی ذمہ داری ہے چاہے اسے قتل کر دیا جائے۔ لورا کے پاس اتنا زیادہ کام تھا کہ وہ ہر وقت مصروف رہتی تھی۔ جب سے لورا کے باہر جانے یا کسی کے اس کے گھر آنے کے موقع پر لوئس پاگل ہو جاتا تھا، لورا نے دوستوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ اس کی سہیلیاں بہت عرصے پہلے اسے بھلا چکی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کے خیال میں یہ بات بالکل درست تھی کہ مرد اپنی بیویوں کو سزا دیا کریں۔
پھر وہ رات آئی جب لورا کی سب سے بڑی بیٹی 11 برس کی ہوگئی۔ وہ لورا کے پاس چیختی بلکتی آئی کہ لوئس نے اس کے جسم کے نچلے حصوں کو چھیڑا ہے۔ لورا ہکا بکا رہ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ بچے لوئس کے رویے سے متاثر نہ ہوں گے۔ وہ جانتی تھی کہ اس سے جھگڑا مول لینا مفید نہ ہوگا لیکن اب وہ دوبارہ اس قسم کا واقعہ پیش آنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی۔
جب آخری بار لورا کا حمل ضائع ہو گیا تو صحت کارکن نے اس کا معائنہ کیا اس نے اس کے زخموں کے بارے میں پوچھا۔ لورا نے کوئی بہانہ کر دیا۔ صحت کارکن نے اپنا سر ہلایا اورلورا کو ایک کارڈ دیا جس پر دوسرے قصبے کا پتہ درج تھا۔ اس نے بتایا کہ اگر کبھی لورا یہاں سے جانا چاہے تو وہ اور اس کے بچے اس پتے پر جاسکتے ہیں، لیکن یہ بات یقینی بنانے کے بعد کہ وہ جانے کے لیے تیار ہے۔ اور اب بالکل تیارتھی۔
الکحل تشدد کا باعث نہیں بنتا، لیکن یہ اکثر تشدد کو مزید بدتربنادیتا ہے۔ تشدد ان مقامات پر بھی عام ہے جہاں لوگ شراب نوشی نہیں کرتے۔
کسی مرد کو اپنی بیوی کوپیٹنے کا حق نہیں۔ کوئی عورت کسی مرد کویہ حق نہیں دیتی کہ وہ اسے تکلیف دے، چاہے اس مرد کے خیال میں عورت اسی سزا کی مستحق ہو اور چاہے خود اس عورت کے خیال میں وہ اس سزا کی مستحق ہو۔
تشددصرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں۔ بہت سی عورتوں کو تکلیف دی جاتی ہے یا ہلاک کر دی جاتی ہیں۔ تشد دایک سماجی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔
کنبے میںیہ بہترنہیں ہوتا کہ عورت کسی تشدد پسند مرد کے ساتھ رہے۔ وہ بچوں کو یہ سبق دے رہا ہے کہ اپنے احساس کی تسکین کے لیے خوفناک اور غلط طریقے اختیار کریں اور یہ کہ عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہیے۔ اگر وہ بچوں کو یا ان کی ماں کو مارتا پیٹتا ہے تو وہ بچوں کے لیے اچھا باپ نہیں ہے۔
تشدد صرف غربت یا جہالت کا مسئلہ نہیں ہے۔ تشدد کسی بھی گھر میں ہوسکتا ہے، چاہے وہ دولت مند گھرانا ہو یا غریب، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو یا کم تعلیم يافتہ ، شہر میں ہو یا دہی علاقے میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  روپ سروپ اور آپ کی خوراک