Brother + sister

بھائی کی جائیداد میں بہنوں کا حصہ

EjazNews

باپ کی عدم موجودگی میں بھائی پر بہنوں کا حق لازم ہو جاتا ہے بھائی کیلئے ضروری ہے کہ بہن کی پرورش کیلئے نان نفقہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے۔ بہن کیساتھ نیکی کرنے سے جنت ملتی ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس نے تین لڑکیوں یا تین بہنوں کی تربیت وپرورش کی اور ان کو ادب کی زینت سے مزین کیا اوران کی بے نیازی تک رحم اور شفقت سے پیش آتا رہا تو اللہ نے اس کے لیے جنت کو لازم اور واجب کر دیا ہے۔ “ (مشکوٰة و شرع السنہ)
اور اگر دو لڑکیوں یا بہنوں کے ساتھ کرے گا تب ہی یہی اجر ملے گا۔
بڑی بہن کی عزت و احترام ماں کی طرح ہے اور چھوٹی بہن کی شفقت چھوٹی لڑکی کی طرح ہے۔
بھائی کے مال میں بہن کا بھی حق ہے:
اس کے بارے میں دوسرے مذاہب ایک دم خاموش ہیں لیکن اسلام نے نہایت دریا دلی سے کام لیا ہے اور بھائی کے مال میں بہن کا حق رکھا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور اگر کسی مرد یا عورت کی میراث ہو اور اس کے باپ یعنی )اصل) فرع نہ ہو اور دوسے باپ سے اس کے ایک بھائی، یاایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں (برابر میں)سب شریک، یہ حصے بھی میت کی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد دئیے جاتے ہیں بشرطیکہ میت نے کسی کو نقصان پہنچانا نہ چاہا ہو۔ یہ فرمان الٰہی ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور لوگوں کی نافرمانیوں پر برداشت کرتا ہے۔“ (النسائ)
اس آیت کریمہ کی تشریح یہ ہے کہ :
میت کے اخیافی بھائی بہن کی تین حالتیں ہیں ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا اور اگر ایک بھائی یا ایک بہن سے زیادہ ہوں تو تہائی کے بالمساواة وارث یعنی تہائی میں سب مرد عورتیں برابر کے شریک ہوں گے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ میت کے بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہوں تو اس صورت میں اخیافی بھائی بہن خواہ ایک ہوں یا کئی سب محروم رہیں گے۔ اسی طرح باپ نہ ہو تو دادا کے ہوتے بھی ساقط ہو جائیں گے۔ کلالہ کے معنی نگوڑا کے ہیں یعنی مرد، عورت کا نہ بیٹا پوتا ہو اور نہ باپ یا دادا ہو تو ایسے کی تین صورتیں ہیں
(۱) یہ کہ کلالہ عینی بھائی بہن چھوڑے یعنی ایک ماں باپ کے سگے بھائی بہن ہوں۔
(۲) علاتی، یعنی سوتیلے ایک باپ کی اولاد جن کی مائیں مختلف ہوں۔
(۳) اخیافی یعنی سوتیلے جن کی ماں ایک ہو اور باپ مختلف۔
قرآن مجید میں اس جگہ پر اس تیسری صورت کا حکم ہے کہ ان میں بھائی بہن ہر ایک برابر کے چھٹے حصہ کا حقدار ہے اس حالت میں فللذکر مثل حظ الانثیین کا حکم نہیں چلے گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو تہائی کے لامساواة مالک ہیں۔ رہی کلالہ کی پہلی اور دوسری حالت تو ان کے احکام اسی سورة النساءکی آخری ذیل کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اے پیغمبر لوگ آپ سے کلال کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں تو ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ کلالہ کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے اگر کوئی ایسا مرد مر جائے جس کے اولاد نہ ہو اور نہ باپ دادا، اسی کو کلالہ کہتے ہیں اور اس کے صرف ایک بہن ہو تو بہن کو ان کے ترکہ کا آدھا ملے گا اور بہن مرجائے اور اس کے اولاد نہ ہو تو اس کے سارے مال کا وارث یہ بھائی ہے۔ پھر اگر بہن دو ہوں یا زیادہ تو ان کو اس ترکہ میں سے دو تہائی اور اگر بھائی بہن ملے جلے ہوں کچھ مرد اور کچھ عورتیں ہوں تو دو عورتوں کی قدر ایک مرد کا حصہ تم لوگوں کو بھٹکنے کے خیال سے اللہ تعالیٰ اپنے حکم کو تم سے بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں سگی اور سوتیلی بہنوں کاذکر ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ میت کی سگی بہنوں کی پانچ حالتیں ہیں اگر تنہا اور اکیلی ہے تو آدھے مال کی مستحق ہوگی۔ یعنی میت کے اولاد بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی نہ ہو اور صرف ایک ہی بہن ہو تو بہن کو میت کے کل ترکہ میں آدھا مال ملے گا۔
(۲) اگر میت کے کوئی بیٹی پوتی نہ ہو اور دو بہن ہوں یا دو سے زیادہ ہوں تو ان سب کو ترکہ میں دو ثلث یعنی دو تہائی مال ملے گااس کو آپس میں برابر تقسیم کر لیں۔
(۳) جب بہنیں سگے بھائی کےساتھ جمع ہوں گی تو ”للذکر مثل حظ الانثین“ کی رو سے مال مترکہ میت تقسیم ہوگا اور بہنیں بھائی کے ساتھ عصبہ ہو جائیں گی۔
جیسے فرض کرو زینب کا انتقال ہوا اور اس نے ایک شوہر اور ایک ماں اور ایک بیٹی ایک بہن ایک بھائی چھوڑا کل مال میں سے پہلے ذوی الفرض کا حق دیا ۔ شوہر کو چوتھا، ماں کو چھٹا، لڑکی کو آدھا، اب جو کچھ باقی رہا وہ بھائی ، بہن اس طرح تقسیم کرلیں کہ بھائی کو دوہرا اور بہن کو اکہرا ملے گا۔ مثلاً
زوج (۹)۔ ام(۶) ۔ بنت (۸۱)۔ اخت(۱) ۔ اخ (۲)
(۴) میت کی بیٹیاں اور پوتیاں بہنوں کے ساتھ جمع ہونگی تو بیٹیوں اور پوتیو ں کے لیتے کے بعد جو باقی رہے گا وہ سب بہنوں کا حق ہو گا ۔ فرض کرو زید کا انتقال ہوا اور اس نے ایک بیٹی، ایک بیوی اور ایک بہن چھوڑی تو کل مال میں سے آدھا بیٹی کو ملے گا اور آٹھواں حصہ بیوی کو اور باقی بہن کو ، اس طرح سے۔
بنت (۴) ۔ زوجہ (۱)۔ اخت (۳)
اور اگر بجائے بیٹی کے پوتی چھوڑی ہے تو پوتی بیٹی کی جگہ پر آگئی اس کو آدھا ملے گا اور بیوی کو آٹھواں اور باقی بہن کو اس طرح سے :
بنت الابن (۴)۔ زوجہ (۱)۔ اخت (۳)
اور اگر ایک لڑکی ایک پوتی ایک بہن چھوڑی ہے تو لڑکی کو آدھا، پوتی کو چھٹا اور باقی بہن کو اس طرح سے:
بنت (۳)۔ بنت الابن (۱) ۔ اخت(۲)
اس کی تائید میں حدیث کا ایک واقعہ سن لیجئے۔ حضرت ہزیل بن شرجیلؓ فرماتے ہیں کہ:
ترجمہ: ”حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی مر جائے اور ایک بیٹی اور ایک پوتی اور ایک بہن چھوڑ جائے (تو اس کا ترکہ کس طرح تقسیم کیا جائے) حضرت ابو موسیٰؓ نے یہ جواب دیا کہ بیٹی کو آدھا اور بہن کو آدھا (پوتی کو کچھ نہیں ملے گا) تم مزید تحقیق کے لیے حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس جاﺅ ان سے بھی دریافت کرو وہ بھی میری موافقت میں جواب دیں گے ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے یہی مسئلہ دریافت کیا گیا اور ابو موسیٰؓ نے جو کہا تھا وہ بھی کہاگیا تو ابن مسعودؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ اگر اس مسئلہ کا یہی جواب دوں جو ابو موسیٰ ؓ نے دی ہے تو میں گمراہ ہو جاﺅں گا ۔ ہدایت یافتہ لوگوں میں نہیں ہونگا میں تو اس کا وہی جواب دونگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ آدھا لڑکی کو، چھٹا حصہ پوتی کو، تاکہ دو تہائی پوری ہو جائے اور باقی بہن کو ملے گا۔ سائل کہتا ہے کہ ہم لوگ حضرت ابو موسیٰؓ کے پاس پھر واپس آئے اور ان سے بیان کیا جو کچھ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا تھا تو حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا جب تک یہ بڑے عالم ابن مسعودؓ موجود رہیں مجھ سے مسئلہ نہ پوچھو۔“
یعنی حضرت ابوموسیٰؓ نے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر اپنے فتوے سے رجوع کر لیا۔ ہار اور پٹے والوں کو اس سے عبرت پکڑنی چاہئے کہ حدیث کے مقابلے میں دوسروی کی بات چھوڑ دیں۔ (اللہ الھادی)
سگی بہنوں کی پانچویں حالت یہ ہے کہ اگر میت کے باپ، دادا یا بیٹا یا پوتا ، پڑپوتا وغیرہ موجود ہوں توبہن محروم ہوگی ۔ کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ یہ پانچ حالتیں عینی سگی بہنوں کی ہیں۔ علاتی سوتیلی بہنیں جب کہ ایک باپ اور مائیں مختلف ہوں اور ان کی یہ سات حالتیں ہیں (جنہیں ذیل میں لکھا جاتا ہے)۔
علاتی بہنیں
حقیقی بہن موجود نہ ہوتو علاتی بہن اس کے قائم مقام ہو جائے اور وہی حالات ہوں گے جن کا بیان آچکا ہے لیکن حقیقی بھائی کے ساتھ عصبہ نہیں ہوگی بلکہ اس کے سامنے محروم ہو جائے گی اور حقیقی بہن کے ساتھ ان کے حالات بدل جاتے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔
(۱) اگر میت کی کوئی بیٹی، پوتی، پڑپوتی اور حقیقی بہن نہ ہو اورصرف علاتی بہن ایک ہو تو اس کو میت کے ترکہ میں سے آدھا ملے گا (حقیقی بہن کی طرح)
(۲) اگر میت کی کوئی بیٹی ، پوتی اور حقیقی بہن نہ ہو اور علاتی بہن دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا۔ اس کوآپس میں تقسیم کر لیں ۔ گویا یہ سگی بہنوں کی قائم مقام ہوگئیں۔
(۳) اگر میت کی بیٹی، پوتی ، پڑپوتی موجود ہے خواہ ایک ہو یا زیادہ مگر سگی نہیں ہے تو ذوی الفروض کے پورے حصے دینے کے بعد جو کچھ باقی رہ جائے و ہ علاتی بہن کو مل جائے گا چونکہ اس صورت میں یہ بہن کو ملے جائے گا تو اس صورت میں یہ بہن عصبہ بالغیر ہو گی۔
(۴) اگر میت کی بیٹی، پوتی، پڑپوتی کوئی موجود نہیں لیکن سگی بہن موجود ہے تو علاتی بہن کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے اگر ایک ہوگی تو صرف تنہا چھٹے حصے کی ملک ہوگی اور اگر دو چار ہوں تو اس چھٹے حصے کو برابر آپس میں تقسیم کرلیں۔
یہ چارحالتیں اس وقت تھیں جب کہ علاتی بہن کے ساتھ بھائی موجود نہ ہو ۔ پانچویں حالت یہ ہے کہ اگر میت کے علاتی بہنوں کی طرح ایسے ہی کوئی علاتی، بھائی موجود ہو تویہ اپنے علاتی بھائی سے مل کر عصبہ ہو جائیں گی جو کچھ ذوی الفروض سے باقی رہے گا اس کو یہ بھائی بہن تقسیم کر لیں ۔ مرد کو دوہرا حصہ دیں اور عورت کو اکہرا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے ساتھ والا بھائی بھی ان ہی کی طرح ہو یعنی جیسے یہ صرف باپ میں میت کے ساتھ شریک تھے اسی طرح بھائی بھی صرف باپ میں شریک ہو اگر وہ میت کا حقیقی بھائی ہے تو علاتی بہنیں محروم رہ جائیں گی اور اگر اخیافی ہو گا تو نہ عصبہ ہوگا نہ کسی کو اپنے ساتھ بنائے گا بلکہ میت کی اولاد کے سامنے تو بالکل محروم رہ جائے گا۔ باقی دو صورتوں میں یعنی میت کے حقیقی بھائی ، بہن اور بیٹا پوتا وغیرہ کی موجودگی میں کچھ نہیں ملے گا۔
اخیافی بہن یعنی ماں ایک باپ علیحدہ علیحدہ:
اخیافی بہن اس وقت وارث ہوتی ہے کہ میت کے کوئی بیٹا، بیٹی اور باپ دادا وغیرہ موجود نہ ہو۔ اب یہ بہن دو صورتوں میں میراث کی مستحق ہو سکتی ہے۔
(۱) صرف ایک بہن ہو بھائی کوئی نہ ہو تو اس صورت میں میت کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ پائے گا۔
(۲) اگر دو بہنیں ہوں یا ایک بہن اور ایک بھائی یا اس سے زیادہ ہوں تو ان سب کو ایک ثلث ملے گا۔ اس ایک ثلث میں سب اخیافی بہن شریک رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  بیوی میراث میں حقدار ہے