iraq killed

عراقی دانشوروں کاقتل

EjazNews

عراق کا قدیم نام میسو پوٹیمیا ہے اور ماہرین آثار قدیمہ میسوپوٹیمیا کی سرزمین کو ’’تہذیب انسانی کا گہوارہ‘‘ کہتے ہیں، کیوں کہ علم و دانش کی نشوونما میں اس نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ متعدد علوم کی ابتدا یہیں سے ہوئی ، اور ان کی ساخت و پرداخت میں یہاں کے اہل علم نے نمایاں حصہ ادا کیا۔ ماہر ین کی رائے میں پہیا، جسے دُنیا کی سب سے بڑی ایجاد قرار دیا جاتا ہے، میسو پوٹیمیا ہی میں اُر کے علاقے میں ایجاد ہوا۔ شاید اسی لیے ار کی تہذیب دنیا کی پہلی سول سوسائٹی کہلاتی ہے۔ اس کے علاوہ میسوپوٹیمیا میں تاریخ کی پہلی تحریری دستاویزات اور گھریلو قوانین بعلم نجوم، معلم ریاضی اور ادویہ سازی کے اولین نقوش نظر آتے ہیں۔ جدید دور تک آتے آتے بیرونی حملہ آوروں نے اس سرزمین کو بار بار تاراج کیا لیکن بار بار اجڑنے کے باوجود یہاں کی مٹی علم و دانش کی جستجو سے مہکتی رہی۔ اس تہذیبی پس منظر کے باعث آج بھی عراق میں انفرادی اور اجتماعی علمی اثاثے کو سب سے بڑی دولت قرار دیا جاتا ہے۔ ’’جدید دور کی عراقی عورت‘‘ نامی کتاب کی مصنفہ ثناء الخیا ط لکھتی ہیں جب بیٹی کے لئے کوئی رشتہ آتا ہے تو بیٹی کے والدین سب سے پہلے یہ سوال کرتے ہیں کہ لڑکے نے کہاں تک اور کسی شعبے میں تعلیم حاصل کی ہے۔
آج عراق کی سرزمین دنیا کی سب سے بڑی طاقت، امریکا کی مجنونانہ یلغار کی زد پر ہے۔ لاکھوں عراقی مرد اور عورتیں، بوڑھے، بچے، جوان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایک طرف امریکی اور برطانوی فوجوں نے کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے، تو دوسری طرف ان کے تربیت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ، موت کا پروانہ لیے چاروں طرف گھوم رہے ہیں ۔ اس خوف ناک مہم کا ایک سنگین پہلو یہ ہے کہ عراق کے اہل علم ، ماہرین تعلیم اور دانش وروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا جارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانچ سوتا ایک ہزار سرکردہ دانشور ٹارگٹ کلنگ کا شکار بن چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عراق کی درس گاہوں میں تعلیمی ماہرین اور ادبی علمی حلقوں کے درمیان شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ زیادہ تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ہلاک شدگان کی اکثریت ایسے دانشوروں پرمشتمل ہے، جو عراق پر امریکا کی جارحیت کے خلاف کسی نہ کسی صورت میں آواز بلند کر رہے تھے۔
اگرچہ پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے عراقی ماہرین کے درمیان ترک وطن کا رجحان نمایاں ہو چلا تھا، لیکن اب اس کا سلسلہ تیز تر ہوگیا ہے، کیوں کہ جان ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔ وہ گھر سے نکلتے ہیں تو انہیں یقین نہیں ہوتا کہ زندہ سلامت واپس آ سکیں گے۔ آئے دن ان کا کوئی نہ کوئی ہم کار دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، جسمانی از تیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اغوا کر لیا جاتا ہے یا انہیں گولی مار کر ختم کر دیا جاتا ہے۔ پھر ان کی لاشیں کسی مردہ خانے یا کسی ہسپتال میں کی سڑک کی فٹ پاتھ پر ان کی کاروں کے اندر پائی جاتی ہیں۔ اب تک صرف بغداد یونیورسٹی کے 80 نامور ماہرین تعلیم کو قتل کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ بے شمار ماہرین کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

امریکی حملے کے بعد سے لے کر آج تک عرعاق میں امن قائم نہیں ہوسکا

اس صورت حال پر نامور صحافی برابرٹ فسک کا فکر انگیز تجز یہ قابل توجہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں… ’’بغداد یو نیورسٹی کے اساتذہ کا خیال ہے کہ عراق کے ثقافتی ورثے کومکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے اسے اس کے اہل علم سے محروم کیا جارہا ہے۔ گویا، ان کا قتل عام ایک سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے؟‘‘ قتل کی ان وارداتوں کا طریقہ کاریہی ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پیچھے بیرونی ایجنسیوں اور عراق پر قابض فوجیوں کا ہاتھ کارفرما ہے۔ مثال کے طور پر، ڈاکٹر محمدتقی حسین التعلقانی عراق کے نامور نیوکلیائی طبعیات داں تھے جب انہیں قتل کیا گیا تو کسی کو یقین نہیں آیا، کیوں کہ وہ زیادہ تر اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے۔ اسی لیے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ ان کی نیوکلیائی صلاحیتوں کے باعث انہیں موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ شاید وہ کسی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے تھے، لیکن کالج آف آرٹس کے پروفیسر ایمان یونس، بصرہ کا لج آف آرٹ کے پروفیسر جمور الخماش اور ٹورازم کے پروفیسر محمد واشد سے کیا خطرہ تھا کہ انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح آٹھ کتابوں کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر وجیہ محجوب ، جغرافیہ کے پروفیسر ڈاکٹر صابری البایانی سے کیا خطرہ لاحق تھا؟ اسی طرح موصل یو نیورسٹی کالج کی ڈین لیلیٰ السعد نے کیا جرم کیا تھا کہ انہیں اور ان کے شوہر پروفیسر آف لاء منير الخیرو کو ایک ساتھ قتل کر دیا گیا۔ پھر ان درجنوں ڈاکٹروں اور سرجنوں کا کیا قصور تھا، جو مریضوں کونئی زندگی دینے کامشن انجام دیتے تھے؟ برٹش رائل کا لج آف سرجنز کے دو فیلوز اور عراقی بورڈ آف میڈیسن کے ارکان، پروفیسر ڈاکٹر عمادسرسان اور پروفیسر ڈاکٹر محمد الراوی (چیرمین عراقی یونین آف فزیشنز) کے علاوہ متعدد بیماریوں کے ماہرین پل بھر میں لقمہ اجل بن گئے ۔ انہیں پہلے دھمکیاں ملتی رہیں، پھر انہیں اغوا کر کے قتل کر دیا گیا ۔ عراقی صحافی صبا علی نے حدیثہ کے دو مشہور ڈاکٹروں کا واقعہ بیان کیا ہے، جو امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔ ایک ہسپتال کے ڈائریکٹر اور سرجن ڈاکٹر ولید العبیدی اور ان کے ساتھی ، ڈاکٹر جمیل عبارکو امریکی فوجیوں نے پہلے اپنے اسٹور روم میں اور پھر ایک فارمیسی میں ایک ہفتے تک بند رکھا۔ انہیں اس قدر سنگ دلی سے مارا پیٹا گیا کہ ان کا جسم لہو سے تر ہوگیا۔ پروفیسر منعم الازمرلے عراق کے ممتاز کیمسٹ تھے۔ انہیں امریکی فوجیوں نے حراست میں لے کر اس قدر تشدد کیا کہ وہ جاں بر نہ ہو سکے۔ ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق ان کے سر کے پچھلے حصے پر پستول کے دستے یا لوہے کی سلاخ سے ضرب لگائی گئی تھی، جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ اس قسم کی رپورٹیں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ وہ جب چاہے ہسپتالوں میں گھس آتے ہیں، مریضوں کو بستروں سے اٹھا کر گھسیٹتے ہیں، ان کی ڈرپس ہٹا دیتے ہیں اور انہیں زدوکوب کرتے ہیں۔ ایک کیس ایسا بھی سامنے آیا کہ فوجیوں نے آپریشن تھیٹر میںعین آپریشن کے دوران سرجنوں کو مارا پیٹا۔ ایک سرجن نے بتایا کہ مریض مر رہے تھے، اور فوجی ہمیں ماررہے تھے۔
ڈاکٹرعلی الناس کا شمار عراق کے نامور سیاسی تبصرہ نگاروں میں ہوتا تھا۔ وہ عربی زبان کے ٹی وی چینلوں پر اکثر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے تھے، اور عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی کی شدید مخالفت کرتے تھے۔ 27 جنوری 2006 کوا نہیں صبح سویر گولیاں مارکرقتل کردیا گیا ۔ جس طرح دوسرے قاتلوں کا سراغ نہیں مل سکا، اسی طرح ان کے قاتل بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ مستنصر یہ یو نیورسٹی عرب ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر لطیف المایہ عربی نیوز چینل ’’ الجزیر‘‘ پر ایک گفتگو میں شریک ہوئے۔ انہوں نے عراقی حکومت پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اگلے دن جب وہ دفتر جارہے تھے تو بندوق کی 32 گولیاں ان کے سینے میں پیوست کر دی گئیں۔ قاتل لا پتا ہیں، ان کی بیٹی حبا نے اپنے بیان میں کہا کہ قاتل تربیت یافتہ پیشہ ور تھے۔ ایک پولیس افسرنے بتایا ہے کہ یہ کسی انٹیلی جینس ایجنسی کی کارروائی ہے۔
یورپین پیس گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2003ء میں عراق پر امریکی حملے کے بعدسے اب تک سیکڑوں عراقی اہل علم اور دانش وروں کوقتل کیا جاچکا ہے۔ اس رپورٹ پر مبنی ایک پٹیشن اقوام متحدہ کو پیش کی جا چکی ہے، اور اس پرنوبل انعام یافتہ ادیبوں، ہیر الڈ پنٹر ، جے ایم کوئٹزی، جوزے ساراماگو اور ڈار یوفو کے علاوہ نام در دانشوروں ، نوم چومسکی، ہاورڈ زن ، کورینل ویسٹ اور ٹونی بین نے دستخط کیے ہیں۔
حتمی اعداد و شمار دستیاب نہیں ، تاہم مقتولین کی تعداد تین سو سے لے کر ایک ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ گذشتہ دنوں عراقی ناول نگار حیفہ زنفنہ نے مشہور امریکی جریدے گارجین میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ صرف بغداد کی یو نیورسٹیوں میں ملازم 80 ماہرین تعلیم قتل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں پر قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں، جوخوش قسمتی سے اپنی جانیں بچانے میں کامیاب رہے۔
يہ صرف بغداد کی کہانی نہیں ہے، عراق کے مختلف خطوں میں دانشوروں کو ہدف بنا کرقتل کیا جارہا ہے، جن کا تعلق علوم وفنون کی مختلف شاخوں سے ہے۔ مقتولین میں شیعہ ،سنی، عیسائی،کر داور ترکمان سبھی شامل ہیں ، اور وہ مختلف سیاسی نظریات رکھتے تھے۔ انہیں ان کے دفتر میں ، گھر میں یاان کی کار میں قتل کیا گیا، یاوہ اچانک لاپتا ہو گئے۔
زرنفنہ نے لکھا ہے،28 جنوری کو بغداد یو نیورسٹی کے ایک پروفیسر عبدالرزاق کو راستے میں اس طر ح قتل کیا گیا کہ دو کاروں نے اچانک ان کا راستہ روک دیا، ان پر گولیوں کی بارش ہوئی اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے ۔ وہ الجزیرہ اور العربیہ ٹیلی ویژن پر قبضے کی مخالفت زور و شور سے کیا کرتے تھے ۔
ڈاکٹر عبد اللطيف المانی کا شمار عراق کے ممتاز اہل علم میں ہوتا ہے۔ انہیں 2004ء میں قتل کیا گیا ،قتل سے 12 گھنٹے قبل انہوں نے الجزیرہ ٹی وی چینل پر عراقی گورننگ کونسل پر سخت تنقید کی تھی۔
نامور صحافی ، رابرٹ فسک اس رجحان کے بارے میں ایک سال قبل ایک چشم کشار پورٹ برطانوی جریدے ’’انڈی پینڈنٹ ‘‘میں پیش کر چکے ہیں ۔ انہوں نے لکھا ہے، اس ضمن میں ، موصل میں ڈین آف دی کالج آف لا ء کو بڑے سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں کہ وہ اچانک آ دھمکے۔ انہوں نے بڑے اطمینان سے ان پر گولیاں برسائیں،خنجر سے ان کے سر دھڑ سے جدا کیے، اور واپس چلے گئے ۔
بی رسل ٹریول ویب سائٹ پر عراق سے ملنے والے متعدد خطوط موجود ہیں، جن میں اس قسم کے واقعات کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس قسم کے ایک خط میں بغداد کے انسٹی ٹیوٹ آف فائن آرٹس کے پروفیسر نوفل احمد کے قتل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ 26 دسمبر 2005 ،کوصبح آٹھ بجے جوں ہی دفتر جانے کے لیے گھر سے باہر نکلے، ان پر گولیوں کی بوچھار کر دی گئی۔
ڈاکٹر وصام الہاشمی ممتاز ترین ماہر ارضیات تھے۔ کاربونیٹس پر خصوصی ریسرچ کے حوالے سے انہیں دنیا بھر میں بلند مقام حاصل تھا۔ ان کی بیٹی ، تارا البانی نے اپنے خط میں لکھا ہے۔ میرے بابا چلے گئے۔ 24 اگست 2005 ، کوصبح کے وقت وہ دفتر جانے کے لیے باہر نکلے تو انہیں اغوا کرلیا گیا۔ اور ان کے کاغذات چوری کر لیے گئے ۔ اغوا کنندگان کو تاوان تک ادا کر دیا گیا تھا، اس کے باوجودان کے سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں رکھے۔ چوں کہ ان کا شناختی کارڈ چھین لیا گیا تھا، اس لیے ہمیں ان کی لاش دریافت کرنے میں دو ہفتے لگ گئے ، جو بغداد کے ایک ہسپتال میں رکھی ہوئی تھی۔
ان خوف ناک وارداتوں سے خوف زدہ ہو کر عراقی ماہرین اور اہل علم بڑی تعداد میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ موت کی دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ عام طور پر دھمکی آمیز خط کے ساتھ پستول کی ایک گولی بھی روانہ کی جاتی ہے۔
جنوری میں مشہور امریکی روز نامے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے نامور عراقی کارڈیولوجسٹ، ڈاکٹرعمر قباسی کی روداد پیش کی ہے، جو اس وقت عمان ( اردن) میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ قباسی اورنو دوسرے ڈاکٹر اس وقت بغداد چھوڑنے پر مجبور ہوئے جب انہیں ایسے خطوط موصول ہونے لگے، جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے عراق میں کام کرنا نہیں چھوڑا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
قتل کی ایسی تمام وارداتوں کے سلسلے میں ابھی تک کسی قاتل کو گرفتار تک نہیں کیا گیا۔ کسی بھی گروپ نے اس کی ذمے داری بھی نہیں لی ہے۔ تاہم ، عراق کے لوگ موساد (جس نے آٹھویں اور نویں عشرے میں ملک کے نیوکلیائی پروگرام پر کام کرنے والے سائنس دانوں کو ہلاک کیا تھا) امریکی فوج (جوعراقی اہل علم کو ہراساں اور زدوکوب کرتی رہی ہے) اور شمال میں پیش مرگ پر شبہے کا اظہار کرتے ہیں۔
عراق میں مختلف قسم کے گروپ کام کر رہے ہیں ، لیکن بعض شواہد واضح طور پر امریکا نواز حکومت کے منظم کردہ ڈیتھ اسکواڈ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ اور یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ زیادہ تر مقتولین اپنے ملک پر امریکی تسلط کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ جون 2004ء میں جان نیگرو پونٹے نے عراق میں امریکی سفیر کا عہدہ سنبھالا تو اس کے بعد عراق میں ڈیتھ اسکواڈ کی کارروائیوں کا دائرہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ نیگرو پونے نویں عشرے (80’s) میں ہونڈورس میں امریکی سفیر تھا، جب وہاں امریکا کی سر پرستی میں وسطی امریکا میں بغاوت کی تحریک چلائی گئی تھی، جس کے دوران ہزاروں لوگوں کوقتل کیا گیا تھا۔ ماورائے عدالت قتل جیسے کاموں میں اس شخص کو مہارت حاصل ہے، اس لیے بھی امریکا کے لوگ اس سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ظاہرہے، جارج بش نے عراق کے لیے اس کا انتخاب اس کی اسی’’صلاحیت کی بنیاد پر کیا تھا۔ اسی طرح لاطینی امریکا میں خون بہانے کا تجربہ رکھنے والے جیمس سٹیل اور اسٹیو کاسٹیلس کو بھی عراقی وزارت داخلہ کی کارروائیوں کی نگرانی اور رہنمائی کرنے کے لیے اسی باعث منتخب کیا گیا تھا۔ اس تخت گیری کا مطلب واضح ہے۔ مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ کرپٹ حکومت کے ناقدوں کو خاموشی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے ، بلکہ با اثر مخالفین کو قتل کر کے مخالفت کے تمام آثار و نابود کرنا مقصود ہے۔ عراقی ڈاکٹروں کوقتل کرنے یا انہیں ترک وطن پر مجبور کرنے کا سب سے بڑا مقصد اس ملک کو کمزور کرنا ہے، تا کہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے خلاف محاذ میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ طبی نگہداشت کے شعبے میں عراق کو اس خطے کے تمام ممالک میں برتری حاصل تھی لیکن اب وہاں مختلف بیاریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ قابل ڈاکٹروں کوقتل کیا جارہا ہے، یاوہ وطن چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ اسی طرح عراقی تاریخ نگاروں ، ماہرین سائنس اور ادیبوں اور شاعروں کےقتل کا مقصد عراق میں علم و دانش کے سرچشمے کو خشک کرتا ہے۔ ممتاز ماہرین تعلیم کی تعداد میں کمی کے باعث اعلی تعلیم کا معیار تیزی سے گزر رہا ہے۔ گویا، عراق کی نئی نسل کے لیے جو اس ملک کے مستقبل کی معمار ہوگی، تعلیم و تربیت کے ذرائع مسدود ہورہے ہیں۔ 1990ء اور 2003ء کے دوران، خاص طور پر پہلی خلیجی جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث ایک سروے کے مطابق 30 فی صد اہل علم پہلے ہی ملک چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں جا بسے تھے۔ اب اس عمل کی رفتار اور تیز ہوگئی ہے۔
اقوام متحدہ کے انٹرنیشنل لیڈرشپ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے 84 فیصد اعلیٰ تعلیمی ادارے آتش زدگی اور لوٹ مار اور اندھادھند بم باری کے باعث تباہ ہو چکے ہیں۔ اپر یل 2003ء میں عراق کے سب سے بڑے عجائب گھر کو بے دردی سے لوٹا گیا، اور ہزاروں نوادر ات چوری کر لیے گئے۔ اور اب عراقی دانشوروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا جارہا ہے، یا ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جارہا ہے، تا کہ امریکی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے والوں سے نجات مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے، چین اور امریکہ میں ؟

احفاظ الرحمن