Tayeeb urdgan

ترکی کا شام کیخلاف ’’چشمہ امن‘‘مشن

EjazNews

چشمہ امن مشن ترکی نے اپنی جنوبی سرحد پر شروع کیا ہوا ہے۔صدر رجب طیب ایردوان کا ایک بیان ٹی آر ٹی ویب سائٹ پر نشر کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ دریائے فرات کے مشرقی کنارے میں چشمہ امن نامی آپریشن کا مقصد ہماری جنوبی سرحدوں کو دہشت گردوں سے پاک بنانا ہے۔’’چشمہ امن‘‘ کا واحد مقصد جنوبی سرحد کو دہشتگردی سے پاک کرنا ہے۔جبکہ ایک اور بیان ترک صدر کا سامنے آیا ہے جس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ آپریشن شام کی جغرافیائی وحدت کا تحفظ کرے گا اور مقامی لوگ دہشت گردوں سے آزاد ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمال مشرقی شام میں ترکی نے فوجی فضائی حملے شروع کر دئیے۔ترک طیاروں کی بمباری سے 15 افراد ہلاک اور بہت سے زخمی ہوگئے ہیں۔اس حوالے سے برطانوی وزیر خارجہ ڈومنک راب نے ترک حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی یکطرفہ کارروائی ناقابل قبول ہے۔ شام میں ترکی کی یکطرفہ فوجی کارروائی پر شدید تشویش ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی ترکی کردوں کے خلاف فوجی کارروائی کرتا رہا ہے۔
یاد رہے ماضی میں کردوں کو امریکی حمایت حاصل رہی ہے اور بعض ذرائع ابلاغ نے تو یہ دعویٰ تک کر دیا تھا کہ امریکہ ایک نیا ملک بنانا چاہتا ہے جو کردوں کا ملک ہے اور اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہوں گے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے جیسے امریکہ نے بھی اپنے حلیف سے منہ پھیر لیا ہے ۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بدھ کو بمباری کا اعلان کیا تھا۔ترک صدر نے کرد جنگجوؤں کو علیحدگی پسند، شدت پسند اور دہشت گرد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی افواج کی موجودگی سے انہیں تحفظ ملا ہوا تھا۔
اس کارروائی کے اعلان کے بعد امریکہ نے ترکی اور شام کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا ۔جس پر امریکی سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کو واپس بلانے سے داعش کے دہشت گردوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع مل جائے گا۔
ڈان نیوز کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ شام کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہوئے اس کو برقرار رہنے دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کے فوجی آپریشن کے نتائج کے حوالے سے تمام فریقین پریشانی کا شکار ہیں اور ترکی سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
جبکہ نیٹو کے سربراہ جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا کہ ترکی کے سیکیورٹی خدشات بالکل جائز ہیں لیکن انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کے اس اقدام کو ‘برا آئیڈیا قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سپیس فلائٹ میں 328دن گزارنے والی دنیا کی پہلی خاتون کرسٹینا