Meantel Health

ذہنی تناؤ کو خود سے دور رکھیں

EjazNews

ہمارے معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ معذوری کا مطلب کسی بھی فرد کا اپنے ہاتھوں، پیروں یا چند ذہنی صلاحیتوں کا مکمل طور پر استعمال نہ کرناہے،لیکن طبّی سائنس معذوری کی تشریح کچھ اور ہی کرتی ہے۔جس کے مطابق معذوری کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں جبکہ معذوری کا سبب بننے والے عوامل بھی مختلف ہوتے ہیں۔ اب قدرتی آفات اور حادثات ہی کو دیکھ لیں، جن میںبہت سے افرادعُمر بھر کی معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔پھر بعض بیماریاں اور موروثی عوامل بھی تاعُمر معذوری کا سبب بن جاتے ہیں۔چند دہائیاںقبل تک بچّوں میں وٹامن ڈی کی کمی سے ہڈیوں اور خاص طور پر ریڑھ کی ہڈی کے ٹیڑھے ہونے کا نقص عام تھا۔ایسا بچّہ نہ صرف ناقابلِ علاج تھا،بلکہ عُمر بھر کے لیے معذور بھی ہوجاتا تھا۔اسی طرح ہڈیوں کا بھربھرا پن یعنی آسٹیوپوروسس بھی ایک ایسا عارضہ ہے،جو معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔اس عارضے میں ہڈیوں کا حجم کم ہوکر ساخت میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔
بعض کیسز میں بچپن کی کوئی بیماری بھی زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن جاتی ہے۔جیسا کہ پولیو،جسےبچّوں کا فالج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک شدید سرایت کرنے والا مرض ہے،جو اپنی خطرناک حالت میں عصبی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس کا وائرس مُنہ کے ذریعے اور بعض حالتوں میں ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوکر دماغ، اعصاب اور حرام مغز کو متاثر کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں پٹّھے یا عضلات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس بیماری سے بچاؤ ویکسی نیشن کے ذریعے ممکن ہے۔ تاہم،وہ بچّے، جنھیں پولیو کے قطرے نہ پلائے جائیں، اُن میں مرض سے متاثرہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاحیات معذوری کا سبب بننے والا ایک عارضہ فالج بھی ہے۔فالج کا مرض عموماً 50سال کے بعد ہی حملہ آور ہوتا ہے۔
زیادہ دیر بیٹھنا انسان کی ذہنی صحت پر اثر اندازہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ڈپریشن یا انزائٹی بھی ہوسکتی ہےکیونکہ زیادہ دیر بیٹھ کر وقت گزارنےوالے افراد صحتمند اور مزاج کو تبدیل کرنے والی ایکسرسائز سے دور ہوجاتے ہیں۔ یہی نہیں، ایسے افراد سورج کی روشنی سے دور اور سماجی تعلقات میں کشیدگی کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ یہ سب مسائل انسان کے لیے تنہائی اور ڈپریشن جیسے مرض کا سبب بن سکتے ہیں۔
اگر آپ خود کو کسی اچھی تحریر یا کہانی میں مشغول کرلیں تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کو دفتری معاملات، تعلیمی سرگرمیوں یا روزمرہ زندگی میںدرپیش دیگر مشکلات کے باعث کتنا ذہنی تناؤ ہے۔ کتب بینی جیسی مثبت سرگرمی سے تمام تر ذہنی تناؤ آپ کو بہت جلد دور بھاگتا محسوس ہوگا۔ اچھے الفاظ میں تحریر کیا گیا ناول آپ کو ایک الگ دنیا میں لے جائے گا جبکہ ایک اچھا مضمون آپ کی ذہنی کشیدگی کو دور کرنے میں مدد دے گا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اچھی کتاب کے مطالعے میں بہہ جانا، تناؤ کا باعث بننے والے ہارمونز جیسے کورٹیسول کی مقدار کو کم کردیتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ڈائیلائسز کی نسبت ٹرانسپلائٹ دیرپا اور مؤثرعلاج ہے
کیٹاگری میں : صحت