iraq

عراق سے دوران جنگ نوادرات کی چوری کا انکشاف

EjazNews

عراق دنیا کی تاریخ کا ایک قدیم ترین ملک ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے لیکن ان دنوں عراق میں بدترین خانہ جنگی کے بعد قیمتی نوادارات کی چوری ایک معمول کی بات تھی۔

امریکہ میں ہابی لابی نامی ایک ادارے کیخلاف کارروائی ہوئی تھی۔ بڑے پیکٹوں میں اس ادارے نے ستمبر 2011ءمیں 1ہزار نوادارات سمگل کروائے۔ یہ نودارات اسرائیلی ڈیلر نے بذریعہ جہاز امریکہ بھجوائے تھے یہ تمام نودارات اسرائیل سے ہی ہابی لابی کمپنی کے نام امریکہ کے لیے بک کروائے گئے تھے۔
خفیہ اطلاعات ملنے کے بعد امریکی حکام نے یہ کارروائی کی اور اس کیخلاف ایک مقدمہ امریکی عدالت میں چلایا گیا۔ ان نودارات کی مالیت کا تخمینہ 1کروڑ 18لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا اور حکام کے مطابق ہابی لابی نے 16لاکھ ڈالر ادا کیے تھے۔کمپنی نے ایک عرب امارات اور اسرائیل کی کمپنیوں کے ذریعے معاہدے کے ذریعے سے یہ نوادرات خرید اور ان پر سرامکس یا نمونہ جات کے سیمپل لگا دئیے۔ اور فی بیگ قیمت کا تخمینہ 2کروڑ ڈالر لگایا ۔امریکی حکام کے مطابق یہ نودارات عراق میں سے لوٹے گئے تھے۔ اور انتہائی قدیم تھے۔ مذکورہ کمپنی کے صدرسٹیف گری نے قانونی کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے نودارات کی چوری کو تسلیم کر لیا تھا اور اسے ایک بڑی غلطی قرار دیا۔ ہم آئندہ سے کسی بھی چیز کی خریداری میں انتہائی احتیاط سے کام لیں گے۔ گری نے کہا تھا دوران تفتیش وہ نیویارک پولیس اور اٹارنی سے مکمل تعاون کرتے رہے۔ یاد رہے کہ یہ کمپنی ایک کرسچین کمپنی ہے اور حکومت پر مختلف مذہبی استثنات اور رعایتیں حاصل کرنے کے لیے کافی شہرت رکھتی ہے۔ اس نے انشورنس پلان سے بھی استثنیٰ حاصل کر رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کو نیا شہزادہ مل گیا

یہ حوالہ ہم نے ایک پرانی رپورٹ سے لیا ہے یہ بتانے کیلئے ایک تو اس ملک پر حملہ کیا گیا اس کی اربوں ڈالر کی املاک تباہ ہوئیں۔لاکھوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اور امریکی حملے کے بعد سے لے کر آج تک یہ ملک امن کی طرف نہیں گیا بلکہ تباہی اس کا مقدر رہی ہے۔ اب پھر کچھ رپورٹس ایسی آرہی ہیں جس کے تحت عراق کے قیمتی نوادرات چوری کر کے بیرون ممالک بھیجے جا رہے ہیں اس ملک سے اس کا تاریخی ورثہ بھی چھینا جا رہا ہے۔