Action-ahtjaj

بحرانی صورتحال پرردعمل

EjazNews

الرٹس فار ایکشن بحرانی صورتحال اس چیز کی متقاضی ہوتی ہے کہ حمایت حاصل کرنے کیلئے تیزی سے کاروائی کی جائے اور فوری ردعمل کا مظاہرہ ہو۔ موثر ترین کاروائی کے بارے میں فیصلہ کر لینا ضروری ہوتا ہے۔ چاہے یہ احتجاجی مظاہرہ ہو، الرٹ فارا یکشن ہو، پوسٹ کارڈ مہم ہو یا میڈیا کو سرگرم کیا جانا ہو، یا پھر ان میں سے کچھ ملا کر کی جائیں ۔ مسئلے کی نوعیت اور سیاسی حالات کے پیش نظر ہی ان میں سے کسی ایک یا کئی سرگرمیوں کو اکٹھا عمل میں لایا جاتا ہے۔ تاہم معلومات کو پھیلانا، لوگوں کو متحرک کرنے اور ذرائع ابلاغ سے رابطے کا کام ایک ہی وقت میں ہونا چاہئے۔ مہم منتظمین کو مختصر حقائق تیار کرنے چاہیں اور جہاں ممکن ہو معلومات کے ذرائع بھی ان حقائق کے ساتھ بیان کریں۔ انہیں اب بات کو واضع طور پر بیان کرنا چاہیے کہ وہ اپنے حمایتیوں اور ہمدردوں سے کس نوعیت کاحل چاہتے ہیں اور ان کی حمایت اور مدد کی ضرورت کس لئے ضروری ہے؟ الرٹ فار ایکشن جوخطوط کی مہم شروع کرنے کیلئے لکھا ہوا دعوت نامہ ہوتا ہے موثر ہونے کی وجہ سے آج کل بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے بہت زیادہ استعمال ہونے لگا ہے۔ اس لئے ہم اس کی تیاری اور خطوط کی موثر مہم کے آغاز کے بنیادی اصولوں کا جائزہ لیں گے۔
الرٹ فار ایکشن لوگوں کومتحرک کرنے کا ایک آسان طریقہ ہے جس کے ذریعے لوگوں کو سرکاری حکام کو خط لکھنے کے سیاسی عمل کے ذریعے ان کی حمایت حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل سے کئی مقاصد ایک ساتھ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو کسی خاص مسئلے کے حق میں لکھے گئے عالمی برادری کے خطوط اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ یہ لوگ اس مسئلے سے دلچسپی رکھتے ہیں اور انہیں مقامی حکام کی توجہ حاصل ہورہی ہے۔ دوسرے اس طریقے سے لوگوں میں کسی خاص مسئلے کے بارے میں شعور پیدا ہوتا ہے۔ اس سے کسی نا انصافی کے خاتمے کے سیاسی یا قانونی حل کیلئے دیگر لوگوں کی توجہ بھی اس مسئلے کی طرف مرکوز کی جاسکتی ہے۔ یہ طریقہ اس لئے بھی موثر ہے اس میں افراد اپنے طور پر شریک ہو سکتے ہیں اور انہیں دوسروں سے رابطہ نہیں کرنا پڑ تا مثلاً جیسے کہ احتجاجی مظاہروں میں رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ تیسرے اس سے معلومات کی رسائی ایسے لوگوں تک بھی ہو جاتی ہے جواس عمل میں شریک نہ ہو سکتے ہوں۔ اسی لئے الرٹ فارایکشن لوگوں کو متحرک کرنے کا موثر ترین طریقہ بن چکا ہے۔
الرٹ فار ایکشن عام طور پر ایک یا دوصفحوں کے ایسے خط کو کہتے ہیں جس میں کسی خاص کیس مسئلے یا صورتحال کے بارے میں حقائق پر مبنی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس میں کسی فرد اور ادارے سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ یکجہتی کے خط لکھیں اور اسے بتائے گئے حکام یا متعلقہ دفتر کو ارسال کریں۔ ظاہر ہے کہ عوامی حمایت کی درخواست کیلئے لکھا جانے والا خط یا الرٹ فار ایکشن مہذب طریقے اور احترام کے ساتھ لکھا جانا چاہئے ۔

سڑکوں پر ا حتجاج کے علاوہ بھی اپنی بات منوانے کے بہت سے طریقے ہیں

الرٹ فار ایکشن لکھنے اور جاری کرنے کے بنیادی اصول:
الرٹ فار ایکشن لکھنے اور جاری کرنے کیلئے خواتین زیراثر مسلم قوانین نیٹ ورک کا طریقہ کار بہت سادہ اور موثر ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی سطح پر الرٹ فار ایکشن جاری کرنے کیلئے اپنایا گیا ہے لیکن اس کو احتیاط کے ساتھ مقامی مہم کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر خطرے کا شکار کوئی فرد یا گروہ نیٹ ورک سے الرٹ فار ایکشن جاری کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ (سوائے اس صورت میں جہاں خطرے کے شکار لوگ خود مدد کی درخواست کرنے کے قابل نہیں ہوتے، مثلا کوئی اغواء شدہ عورت جسے زبردستی قید میں رکھا گیا ہو) ایک مرتبہ جب خواتین زیراثر مسلم قوانین نیٹ ورک کی سولیڈیریٹی میں یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کوئی الرٹ جاری کرنا ضروری ہوسکتا ہے تو پھر وسیع پیمانے پر معلومات رکھنے والے افراد اور گروپوں کے ساتھ رابطہ کیا جاتا ہے۔ یہ رابطہ تصدیق کیلئے کیا جاتا ہے کہ رائے معلوم کی جا سکے کہ کہیں بیرونی حمایت نقصان دہ تو نہیں ثابت ہوگی وہ اپنی حمایتی تنظیموں اور دیگر رابطوں کے ذریعے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ الرٹ فار ایکشن کے ذریعےملنے والی حمایت مذکورہ لوگوں کیلئے زیادہ سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ نیٹ ورک اس بات کا جائزہ بھی لیتا ہے کہ اس کام میں شامل لوگ اس کے ممکنہ برے نتائج سے آگاہ ہیں یا نہیں ۔ الرٹ فار ایکشن اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں کیلئے وقت اور وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ خواتین زیر اثر مسلم قوانین اور دیگر لوگ جو خطوط کی مہم کی حمایت کرتے ہیں اس عمل کے تمام ممکنہ حالات سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہوں۔
اس کے بعد یہ پڑتال کرنا ضروری ہے کہ تمام معلومات بالکل درست ہوں اور مذکورہ صورتحال کا تفصیلی پس منظر بھی حاصل کیا جائے۔ جس کیلئے اس صورتحال سے واقف افراد اور تنظیموں سے رابطہ کرنا انتہائی ضروری ہے تا کہ مسئلے کی نوعیت اور فوری عمل کی ضرورت بارے فیصلہ کیا جا سکے۔ ان تمام امور کو دیکھنے کے بعد اگر الرٹ فار ایکشن جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے تو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(الف) درست معلومات کے حصول کو یقینی بنانا:
الرٹ فار ایکشن یا احتجاج کی کسی بھی شکل کیلئے معلومات کی درستگی انتہائی ضروری ہے۔ عام طور پر لوگ کسی خاص صورتحال کے پس منظر اور تفصیل سے آگاہ نہیں ہوتے ۔خصوصاً جب آپ بین الاقوامی حمایت کیلئے اپیل کر رہے ہوتے ہیں ۔ اپیل کیلئے سادہ اور آسان زبان میں لکھے گئے حقائق کی مختصر تفصیل اور کیس سے متعلق تفصیل کا خلاصہ اور دیگر ضروری معلومات شامل کریں۔ خواتین زیراثر مسلم قوانین بین الاقوامی سطح پر کام کرتا ہے اس لئے وہ اپیل کئی زبانوں میں جاری کرتا ہے لیکن طریقہ کار ایک ہی ہوتا ہے۔ اپیل میں شامل تمام الزامات، بیانات اور حالات کو ٹھوس اور نا قابل تردید حقائق کی مدد سے پیش کریں۔ اگرممکن ہو یا آپ کے ذرائع کیلئے نقصان دہ نہ ہو تو اپنی معلومات کاذریعہ بھی فراہم کریں۔
(ب) مطالبات کا تعین:
اگلے قدم پر اس بات کی نشاندہی کرنا ہوتی ہے کہ وہ مخصوص صورتحال کس عمل کا مطالبہ کرتی ہے اور عوام کی کس نوعیت کی حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ سب بہت واضح زبان میں بیان کیا جانا چاہئے تا کہ پڑھنے والے کوعلم ہو کہ ان سے کیا درخواست کی جارہی ہے۔ یہ بتائیے کہ آپ مدد کرنے والوں سے کسی شکل میں جواب چاہتے ہیں۔ (یعنی فیکس ،ای میل، خط یا فون کے ذریعے)۔
(ج) مہم کی سمت کی نشاندہی:
اپنے حامیوں کی رہنمائی کریں کہ انہیں کون سے اداروں، افراد یا حکام پر دباؤ ڈالنا ہے تا کہ ان کی کوشش زیادہ سے زیادہ موثر ثابت ہو سکے۔ ہماری تجویز ہے کہ حکومت بشمول ارکان پارلیمنٹ، وزراء اور مقامی عدلیہ تمام کو خط لکھیں۔ خاص طور پر جب کسی قید یا زیر حراست شخص کی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف درخواست کرنی ہو یا انسانی حقوق کے عالمی منشور کے منافی قوانین یا طریقہ کار میں تبدیلی کا مسئلہ ہو۔ (د) عوامی حمایت کی رہنمائی :
جن لوگوں یا اداروں کو خط لکھنے کی درخواست کی جائے ان کے درست پتے، ای میل ایڈریس،فیکس اور فون نمبر فراہم کریں ۔ ان کے عہدے اور انہیں مخاطب کرنے کے طریقے کی نشاندہی بھی ضرور کریں۔ اگر چہ آج سے دس،بیس سال پہلے اس نوعیت کی اپیلیں انہیں عام ڈاک کے ذریعے بھی کی جاتی تھیں لیکن اب فیکس اور ای میل کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ یہ طریقے کم خرچ ہیں اور ان کے ذریعے پیغام تیز رفتاری سے اپنی منزل تک جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس کیا کرنا چاہئے؟
اگر ہم کسی مسئلے پر ایک ہو جائیں تو وہ مسئلہ حل کروا سکتے ہیں اور مہذب قومیں سڑکوں پر توڑ پھوڑ سے نہیں بلکہ اپنی بات منوا کر مہذب بنتی ہیں اور اس کے سڑکوں پر احتجاج کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہوتے ہیں اور زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں

(ر) حمایت کی درخواست کیلئے موثردلائل:
کسی الرٹ فار ایکشن میں قومی یا بین الاقوامی قانون میں احتجاج کیلئے موجود وجوہات کی نشاندہی کرنا بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب کوئی قانون یاعالمی معاہدہ توڑا جارہا ہو یا کسی کی زندگی خطرے میں ہو تو ہم حکومت سے کہہ سکتے ہیں کہ متعلقہ صورتحال میں ملکی قانون کی پاسداری کی جائے۔ تاہم جب مقامی اور قومی قانون پر عملدرآمد ہورہا ہو لیکن بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہوتو ایسی صورتحال میں انسانی حقوق کے عالمی منشور یا اقوام متحدہ کے جاری کردہ معاہدوں کا حوالہ دینا چاہئے۔ یہ طریقہ اس وقت مزید موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر متعلقہ حکومت نے اس معاہدے پر دستخط بھی کر رکھے ہوں ۔ اس طرح کا الرٹ عام طور پر متعلقہ حکومت اور بین الاقوامی برادری دونوں کیلئے جاری کیا جاتا ہے۔ مثلاً مئی 1989ء میں جب چین کی حکومت نے تیانیمن سکوائر میں طالب علموں کے مظاہروں کو کچلنے کیلئے کارروائی کی تو دنیا بھر میں متعدد تنظیموں نے اپنی حکومتوں پر کامیابی سے دباو ڈالا کہ وہ اس وقت تک چین کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات ختم کر دیں جب تک کہ اس کا انسانی حقوق کاریکارڈ بہتر نہ ہوجائے۔
(س) مسئلے کی تشہیر :
جن لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کیلئے ان سے رابطہ کیا جارہا ہے انہیں واضح طور پر بتایئے کہ کیا انہیں اپنی ساتھی تنظیموں یا افراد میں اس اپیل کو جاری کرنا چاہئے یا نہیں۔
(ص) حمایت خطوط کی نقل کاحصول:
اگر آپ اپنے حامیوں سے ان کے خطوط کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کررہے ہیں تو انہیں اس کی وجوہات ضرور بتائیں۔ ان پر واضح کریں کہ آپ کا گروپ بعد میں بھی اس کیس کی معلومات حاصل کرتا رہے گا اور آپ کے خطوط کی نقل کی فائل انصاف کے حصول کی اس جدوجہد میں اضافہ کا کام دے گی۔ تاہم یہ بات ذہن میں رہے کہ سیاسی دباؤ کے حالات میں لوگ شاید اپنی شناخت کرانے کے خواہش مند نہ ہوں ۔ اگر چہ وہ حکام کو احتجاری خط لکھنے کیلئے تیار ہوں لیکن ممکن ہے کہ وہ سرعام اپنا تعلق کسی خاص تنظیم کے ساتھ ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں۔
(ط) حفاظتی اقدامات:
بعض حالات میں سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے جب کسی مسئلے کیلئے خط لکھنے کی درخواست کی جائے تو اس بات کی نشاندہی بہت ضروری ہے کہ کیا خط لکھنے والوں کو الرٹ شروع کرنے والے فرد ،تنظیم کا نام کا ذکر کرنا چاہیے یا نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات یہ حوالہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہو تو اپنی اپیل میں واضح طور پر براہ مہربانی ہمارے نام کا حوالہ نہ دیا جائے ،کے الفاظ درج کر دیجئے۔ خط لکھنے والے اکثر ایک غلطی کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے خط میں اپیل کرنے والے فرد یا تنظیم کا حوالہ نہیں دیتے لیکن اگر خط کی کاپی اپیل کرنے والے کو بھی جارہی ہے تو غلطی سے وہ کاپی بھیجنے کے ضمن میں متعلقہ ٹیم کا نام پتہ درج کر دیتے ہیں۔ ( cc: xxx ) جس سے ان کی شناخت ظاہر ہو جاتی ہے۔ اگر آپ اپنا خط ای میل کے ذریعے بھیج رہے ہیں اور اپیل کرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کرتی تو ہر ایک کو خط کی الگ الگ کاپی سمجھی جائے۔ ایک ہی ای میل میں کا پی’’C‘‘ بھیجنے کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ کئی ای میل پروگراموں میں کاپی بھیجنے والوں کی شناخت چھپانے’’BCC’ ‘‘کا طریقہ ہوتا ہے جو ایسی صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(ع) نمونے کے خط :
آپ جس طرح کا خط لکھوائے جانے کے خواہش مند ہیں اگرممکن ہوتو اس نوعیت کے خط کانمونہ بھی ساتھ منسلک کر دیں۔ بین الاقوامی طور پر جاری کی جانے والی اپیل کیلئے یہ طریقہ خاص طور پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
(ف) الرٹ پر تاریخ:
اپنی اپیل جاری کئے جانے کی تاریخ اور اس کے ساتھ حمایت یا احتجاج کیلئے خطوط کی مقررکردہ آخری تاریخ( Deadline) ضرورلکھیں۔
(ق) رابطہ سازی:
اگر آپ کسی دوسری تنظیم کی اپیل کو آگے جاری کر رہے ہیں تو اسے بھیجنے سے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کر لیجئے۔ واضح طور پر بتایئے کہ حمایت کیلئے آپ کو یہ الرٹ فار ایکشن موصول ہوا ہے اور آپ سمجھتے ہیں کہ اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ اس لئے آپ اپنے ارکان اور ساتھیوں سے اس اپیل میں شرکت کی درخواست کر رہے ہیں۔
(م) پتے (ایڈریس)جمع کرنا:
سماجی یکجہتی کے کارکنوں کیلئے ضروری ہے کہ ان کے پاس اپنے مقاصد کی حمایت کرنے والے افراد اور تنظیموں کے نام اور پتوں کی فہرست موجود ہو۔ اس کے علاوہ انہیں کسی خاص مسئلے میں مددگار ثابت ہونے والے افراد کی معلومات پر مبنی فائل بھی تیار کرنی چاہئے۔ اس سے آپ کی اپیل متعلقہ حلقے تک پہنچنے کی یقین دہانی ہوتی ہے اور ا پیل کے مثبت اثرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کے نام پتوں کی فہرست کی مناسب حفاظت کی جائے تا کہ ان کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
(ن) تازہ صورتحال سے آگاہ کرنا:
جولوگ آپ کی درخواست پر حمایت کے خط لکھتے ہیں انہیں کیس کے آگے بڑھنے کے عمل سے ضرور آگاہ کریں۔ جب بھی ممکن ہوتو ان کو تحریک میں کامیابی کی صورت میں مبارکباد کا پیغام ضرور دیں۔ اس سے سیاسی عمل میں شرکت کے بارے میں لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کیونکہ ان کی شرکت کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہوتا ہے۔
(و) لکھنے کا انداز :
خطوط کی مہم کی طرح الرٹ فار ایکشن لکھنے کیلئے بھی صاف اور واضح زبان اور طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں نعرہ بازی سے پرہیز کیا جائے اور صورتحال کو اچھے طریقے سے بیان کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ کی حمایت میں لکھے جانے والے خطوط میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جائے۔ الرٹ فارا یکشن اور خطوط دونوں کو مختصراور واضح ہونا چاہئے اور مسئلے کو بیان کرنے کیلئے واضح الفاظ اور جملوں کا استعمال کریں۔ خود کو بنیادی حقائق بیان کرنے تک محدودریں ۔ بہت زیادہ تفصیلی خط پڑھنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم تمام ضروری معلومات کو جامع انداز میں بیان کریں اور آپ یہ فرض نہیں کر سکتے کہ پڑھنے والے اس خاص کیس سے متعلق جانتے ہیں ۔ اگر آپ خط میں بعض چیزوں کے مخفف لکھ رہے ہیں تو کوشش کریں کہ ایک بار ان کے نام لکھنے کے بعد مخفف استعمال کریں ۔ لیکن اگر آپ بین الاقوامی حمایت کیلئے اپیل یا خط لکھ رہے ہیں تو لفظوں کے مخفف استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ آپ جن لوگوں کی حمایت کے خواہاں ہیں یا جن حکام کو اپنے مطالبات پیش کررہے ہیں تو ضروری ہے کہ انہیں واضح طور پر بتائیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔
الرٹ فا را یکشن: چند مثالیں
اکتوبر 1995ء میں چاڈ کی ایک صحافی زار الیعقوب کیلئے ملک کی مذہبی انتظامیہ کی طرف سے موت کا فتویٰ (مذہبی فیصلے پر موت کی دھمکی) دیا گیا۔ یہ فتویٰ زنانہ جنسی اعضاء کی قطع و برید کے بارے میں زارا کی فلم مقامی ٹی وی پر دکھائے جانے کے بعد جاری کیا گیا۔ سینیگال کی عورتوں کے ایک گروپ نے اس مسئلے پر خواتین زیراثر مسلم قوانین اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ مبذول کروائی۔ نیٹ ورک نے چاڈ میں اپنے رابطوں کے ذریعے تفصیلات کا جائزہ لیا تو انہیں علم ہوا کہ زارا کیلئے بین الاقوامی مددکی فوری ضرورت ہے۔ اس پر ایک الرٹ فار ایکشن جاری کیا گیا۔
مندرجہ ذیل الرٹ فار ایکشن بین الاقوامی دفتر کی مدد سے خواتین زیراثرمسلم قوانین نیٹ ورک کے سینیگال کے دفتر سے جاری کیا گیا۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر اتحاد و یکجہتی کے قیام اورمل جل کر کام کرنے کی ضرورت کا اظہار ہوتا ہے۔
دنیا بھر خصوصاً مسلمان ملکوں سے سینکڑوں لوگوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے چاڈ کے صدر اور حکومت کو خط لکھے، جن میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور قدامت پسند قوتوں کی اس غیر قانونی دہشت گردی کو ختم کرائیں ۔ صد ردیبی پر دباؤ کے نتیجے میں زار ایعقوب کے خلاف مقدمہ کا خاتمہ ہو گیا اور اس کی جان بچ گئی ۔ ایک سال کے بعد خواتین زیراثر مسلم قوانین کو زارا کا خط ملا۔ وہ خط میں لکھتی ہیں:
اگر آپ لوگ اس معاملے میں مداخلت نہ کرتے تو کوئی ردعمل نہیں ہوتا اور خدا ہی جانتا ہے کہ میرے ساتھ کیا گزرتی، آپ کی کارروائی بہت موثر ثابت ہوئی ۔ سرکاری سطح پر کوئی ردعمل نہیں تھا۔ لیکن آپ کی درخواست پر چاڈ حکام کو لکھے گئے خطوط اورٹیکس کے ذریعے پیغامات کی بدولت چاڈ کے صدرنے امام کوتحمل سے کام لینے اور معاملے کوختم کرنے کو کہا۔ لوگوں کے رویے میں بہت بہتری آئی ہے لیکن ابھی بھی کچھ لوگ مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ اب صورتحال پرسکون ہے۔ مشکل ترین وقت گزرگیا ہے۔ اب میں نے احتیاطی حفاظتی اقدامات بھی چھوڑ دیئے ہیں اور میں اپنا کھویا ہوا اعتماد دوبارہ حاصل کر رہی ہوں ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں اپنی مدد کرنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کروں۔ مجھے ابھی تک لوگوں کی حمایت والے خطوط موصول ہورہے ہیں۔
مارچ 1996ء میں سینیگال کے ایک اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں زار ایعقوب نے اس صورتحال کی تصویرکشی کی جب خواتین زیراثر مسلم قوانین اور خواتین کی دیگر تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں اس کیلئے دنیا بھر کے لوگوں کی حمایت کا آغاز ہوا۔
سوال: اچھا تو ایک ماہ کے بعد سینیگال سے آپ کے بچاؤ کا انتظام ہوا؟
جواب: ہاں واقعی ، ایک دن مجھے ایک فون آیا فون کرنے والے نے مجھے کہا کہ تم غلط نہیں ہو اور نہ اکیلی ہو۔ ہم تمہاری مدد کیلئے پوری کوشش کریں گے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ مجھے فیکس کے ذریعے بتائیں گے کہ میرے تحفظ کیلئے کیا کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
سوال: کیا آپ ان لوگوں کو جانتی تھیں؟
جواب: نہیں میں انہیں بالکل نہیں جانتی۔ میرے پاس صرف انکے نام ہیں جنہیں میں بھی فراموش نہیں کرسکتی۔ میں ان ناموں کو مختلف چہروں سے ملانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ جب لوگ میرے خاندان والوں سے پوچھتے ہیں کہ زارا کو قید خانے سے کس نے رہائی دلائی تووہ سینیگال کی ان عورتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔ میں ان سب لوگوں کی بہت احسان مندہوں۔ میں خود سینیگال جا کر ذاتی طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
سوال: انہوں نے یہ سب کام کیسے کیا؟
| جواب: انہوں نے عورتوں اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی سطح پر رابطے کے گروپوں (جن کے ساتھ وہ منسلک تھیں یا جن کا انہیں معلوم تھا) سے رابطہ کیا کہ وہ چاڈ حکومت پر دباو ڈالیں۔ مجھے بھی میری حمایت کے خطوط ملے اور اسی طرح چاٹ حکام کو بھی خطوط ملے جن میں ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ میرے خلاف کاروائی کو ختم کریں۔ یہ خطوط افریقہ، یورپ، امریکہ غرض ہر جگہ سے آئے اور ملک کے صدر اور وزارت انصاف کو بھیجے گئے جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ میری حفاظت کے ذمہ دار ہیں ۔ صدر کے دفتر میں کام کرنے والے لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ ان خطوط کے بعد صدر نے امام کو بلایا اور اسے یہ معاملہ ختم کرنے کیلئے کہا۔ کیونکہ اب یہ معاملہ ان کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا تھا۔
سوال: آپ اس مدد کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہیں؟
جواب: آپ میرے احساسات کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ لوگ میری مد دکو اس وقت آئے جب میرے لئے حالات کو مزید سنبھالنا نا ممکن ہو چکا تھا۔ میں ختم ہوجانے کے قریب تھی۔ اگر آج میں یہاں موجود ہوں اور اس مسئلے پر بات کر رہی ہوں تو میں جانتی ہوں کہ مجھ پرکن لوگوں کا احسان ہے۔ ایک مرتبہ بنکاک میں ایک کانفرس کے موقع پر مجھے خواتین زیراثرمسلم قوانین نیٹ ورک جنہوں نے یہ سب کچھ کیا ہے بارے میں کچھ پمفلٹ وغیرہ ملے۔ اس وقت میں نے اس پر توجہ نہیں دی لیکن آج میں یہ بات تسلیم کرتی ہوں کہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی حدود سے بلندتر معاملہ ہے۔
1984ء میں اپنے آغاز سے لیکر اب تک خواتین زیراثر مسلم قوانین کی جانب سے سینکڑوں الرٹ فارا یکیشن جاری کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ بہت زیادہ کامیاب رہے ہیں جبکہ بعض کوتھوڑی کامیابی ملی ۔ لیکن نا کامیاب والوں کا بھی ایک مثبت اثر ضرور تھا وہ اس طرح کہ جہاں الرٹ مطلوبہ حمایت نہ حاصل کر سکے ان کے ذریعے لوگوں میں مختلف حالات اور مسائل بارے آگاہی میں ضرور اضافہ کیا اور وہ شعور کی بیداری میں ایک ذریعہ ثابت ہوئے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر ان کی مدد سے حکومتوں اور تنظیموں کو بتایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی برادری ایسے واقعات سے باخبر ہے جس سے خود بخود ایسے واقعات کی روک تھام ہوتی ہے۔ مثلاً سنگاپور کی مہا جر کارکن فلور کامپلین کو بچانے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی جسے سزائے موت کا حکم سنایا گیا تھا لیکن اس کی جان بچانے کی کوشش سے بہر حال ایک تحریک پیدا ہوئی ۔ اس احتجاری مہم کی ذرائع ابلاغ میں بہت تشہیر ہوئی جس سے مقامی قومی اور عالی سیٹ پر لوگوں کو اس صورتحال کا علم ہوا اور سنگاپور کی حکومت کو اپنی کارروائی کی وضاحت کرنا پڑی۔ اس مہم سے قومی و بین الاقوامی سطح پر ان تنظیموں کی طاقت میں اضافہ ہوا جومہا جر کارکنوں کے حقوق کیلئے کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس مہم نے اقوام متحدہ پربھی دباؤ ڈالا کہ وہ ان مہاجر کارکنوں کے حقوق کیلئے اپنی ذمہ داری بہتر طریقے سے پوری کرے۔ بعض سماجی تنقید نگاروں نے ان مہا جر کارکنوں بارے کہا ہے کہ ان کی حیثیت تو ایک طرح سے بیسویں صدی کے غلاموں کی طرح ہے۔ فلور کانٹلمیپلن کے کیس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
1995 ء میں سنگاپور میں کام کرنے والی فلپائن کی ایک گھریلو ملازمہ فلورکوقتل کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ 42 سال فلور جو چار بچوں کی ماں تھی کو یہ سزا دوہرےقتل کے ایک مقدمے میں سنائی گئی۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے مئی 1991ء میں ایک اور فلپائنی گھریلو ملاز مہ میگا اور اس کے مالک کے 3 سالہ بچے کو قتل کیا ہے لیکن مقدمے کا قطعی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ایک نئے گواہ نے گواہی دی کہ فلور بے گناہ ہے۔ نئی گواہ بھی ایک فلپائنی گھریلو ملازمہ فرنیلاتھی، اس نے بتایا کہ اس نے کسی کو یہ بات کرتے ہوئے سنا کہ میگا کو اس کے مالک نے گلا گھونٹ کر مارا تھا کیونکہ میگا نے اس کے بچے نکولس کا اچھی طرح خیال نہیں رکھا۔ تین سالہ نکولس نے اپنا سرٹب میں دے مارا۔ جس کے بعد اسے مرگی کا دورہ پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا۔ اس وقت فلور میگا سے ملنے کیلئے وہاں گئی ہوئی تھی ۔ میگا کے مالک کو احساس ہوا کہ فلورا نے اس کوقتل کرتے دیکھ لیا ہے۔ اس نے اس کوقتل کی دھمکی دی ۔ فلور اپنی جان بچانے کیلئے فلپائن واپس چلی گئی لیکن وہاں سے اس کو مقدمے کیلئے سنگا پور واپس لے جایا گیا۔ اس دوران فرنیلا جوفلپائن میں تھی نے واپس سنگار پور جا کر مقدمے کی دوبارہ سماعت میں گواہی دینے کی حامی بھر لی ۔ خواتین زیراثر مسلم قوانین سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس مقدمے کے طریقہ کار پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔ دنیا بھر سے سنگاپور کی حکومت کو سینکڑوں خطوط لکھے گئے لیکن انہوں نے نئی گواہی لینے سے انکار کر دیا اور مزیدتفتیش اور مقدمے کے بغیر فلور کی سزاپر عملدرآمد کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کامیابی آپ کے دروازے پر

(نائلہ رضا)