Husban not relex his wife

میرے شوہر کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں

EjazNews

بیوی کہتی ہے: میرے اور میرے شوہر کے درمیان بہت دوری پیدا ہوچکی ہے۔ اس کے پاس بڑی اچھی ڈگری ہے۔ مختلف سماجی اداروں میں اس کی مختلف سرگرمیاں ہیں۔ معاشرہ میں وہ بہتر ین سماجی کارکن ہے لیکن گھر میں سخت چٹان ہے۔ وہ خشک طبیعت ہے اس کے ساتھ گفتگوا کثر جھگڑے پر جا کر ختم ہوتی ہے۔
اس مشکل کی عام علامتیں :
ا۔ بیوی کی گفتگو سے شوہر کی عموماً بیزاری۔
۲۔ بیوی جو بات کہے یا تجویز پیش کرے، اس کی مخالفت کرنا۔
۳۔ بیوی کے ہر انداز فکر کورد کرنا چاہے وہ مثبت کیوں نہ ہو۔
۴۔ بیوی کا یہ احساس کہ شوہر اس سے محبت نہیں کرتا ہے نہ اس کی قدر کرتا ہے بلکہ جان بوجھ کر اس کو نظر انداز کرتا ہے۔
۵۔ بیوی کی کوئی بات نہ سننے کار جحان۔
۶۔ بیوی کی کسی بات کوگرانا اور بیوقوفی بتلانا۔
۷۔ بیوی کا دل جیتنے کے طریقوں سے ناواقفیت یا خشک مزاجی۔
۸۔ اپنی بات کہنے میں آمرانہ انداز اختیار کرنا اور بیوی کی کوئی تجویز قبول نہ کرنا۔
۹۔ بیوی کے اکثر کاموں پرتنقید کرنا۔
۰۱۔ گھر میں نہ رہنے کی خواہش کے سبب گھر سے ہمیشہ غائب رہنا۔
۱۱۔گھر میں موجود ہونے پر ہمیشہ رسائل اور میگزین پڑھتے رہنایا خبر میں سنتے رہنا۔
ان علامتوں کے اسباب:
ا۔ شوہر سے بعض ایسے کاموں کے کرنے کے لیے کہنا جن سے وہ شخصی طور پر اختلاف رکھتا ہو۔
۲۔ شوہر کی علمی ڈگریوں سے مرعوبیت اگر بیوی صرف بارہویں پاس ہو۔
۳۔ ہمیشہ یہ سوچ کہ شوہر حق پر ہے کیونکہ تمام معاملات پر اس کی نظر ہے۔
۴۔ شوہر کی محنت اور اس کے کاموں کی قدر نہ کرنا، اس کے برعکس معاشرہ میں اس کے کاموں کی قدر اور ہمت افزائی ہو۔
۵۔ شوہر کے ساتھ روکھا اور سخت سلوک جو ہوسکتا ہے جان بوجھ کر نہ ہو۔
۶۔روز انہ شوہر کے گھر میں آنے پر بیوی کا شوہر کے ساتھ خشک مزاجی سے پیش آنا۔
۷۔ شوہر سے اس کے حالات، معاملات اور اس کی اجتماعی خدمات کے بارہ میں کچھ نہ پوچھا۔
۸۔ بیوی کا گھریلو معاملات میں شوہر سے مشورہ نہ لینا۔
۹۔ بعض اوقات کسی معاملہ کو پورا کرنے میں بیوی کا شوہر کو نظر انداز کر دینا۔
۰۱۔ شوہر کا یہ احساس کہ بیوی کا سلوک اس کے ساتھ ، اور اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مختلف ہے۔
۱ا۔ بیوی کا شوہر کی مثبت باتوں کو نہ دیکھنا اور اس کی منفی باتوں پرتوجہ لگائے رکھنا۔
ان پریشانیوں کاحل:
ا۔ شوہر کی اہمیت کا احساس کرنا خصوصاً جب کہ معاشرہ میں اس کا ایک مقام ہو۔
۲۔ بیوی اس کی بات کوقبول کرے اس لحاظ سے کہ وہ بھی ایک نقطہ نظر ہے خواہ وہ اس کی اپنی رائے کے خلاف ہو۔
۳۔شوہر محسوس کرے کہ بیوی اس کی گفتگو کو اہمیت دیتی ہے اور اس کی باتوں کو پسند کرتی ہے۔ ہر نقطہ نظر پرگفتگو ہو اور ہر لحاظ سے اسے دیکھا جائے۔
۵۔ جذباتی انداز زیادہ اختیار کیا جائے اور شوہر سے متعلق تمام معاملات میں محبت ظاہر کی جائے۔
۶۔شوہر کے ساتھ تنہا گفتگوزیادہ کی جائے تا کہ گفتگو پر اس کی خوداعتمادی بحال ہو۔
۷۔ اس کی خوشیوں کے موقع پر اسے کوئی تحفہ دیا جائے مثلاً، عطر، قلم، سوز وغیرہ۔
۸۔شوہر کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آیا جائے، اس کی بات ماننے میں جان بوجھ کرسوکھا پن اختیار نہ کیا جائے۔
۹۔ اگر کسی مسئلہ میں گفتگو پر چپقلش بڑھ جائے تو براہ راست معذرت کی جائے۔
۰۱۔ شوہر کے ساتھ کھلی طبیعت سے رہا جائے اور کسی بھی موضوع کو پرسکون ہوکر سامنے رکھا جائے۔
۱ا۔ شوہر جو کچھ کہے اس پرتواضع اور انکساری کا مظاہرہ ہو،تا کہ وہ کسی معاملہ میں سخت اور فیصلہ کن انداز کو اختیار نہ کرلے۔
۲۱۔ شوہر جو خدمت بھی گھر کے کاموں میں کرتا ہے یا معاشرہ کے لیے کرتا ہے اس پر ہمیشہ اس کی تعریف کی جائے۔
۳۱۔ شوہر معاشرہ کی جوخدمتیں بھی انجام دے رہا ہو، ان سب کی معلومات بیوی کو ہو۔
۴۱۔ اگر شوہر معاشرہ کی اصلاح و بھلائی کے لیے اخبار و رسائل میں لکھتا ہو تو اس کے تراشے کسی فائل میں محفوظ رکھنے کی عادت ہو۔
اہم بات: کسی شخص کے ساتھ فوری اور ہیجان خیز رد عمل جذبات کواس کا موقع نہیں دیتا ہے کہ وہ سنجیدہ سلوک کا مظاہرہ کرے جبکہ وہ ازدواجی زندگی کو سختی سے کچل دیتا ہے۔ (خلیفہ المحرزی)

یہ بھی پڑھیں:  روپ سروپ اور آپ کی خوراک (۲)