3D Machines venze

تھری ڈی پرنٹنگ مشینیں خون کی نالیاں بنائیں گی

EjazNews

انسانی جسم میں بہت باریکیاں ہیں انہیں سمجھنا اور تخلیق کرنا قدرت کا کام ہے۔ سائنسدان ایک حصہ بناتے ہیں تو دوسرا خراب ہو جاتا ہے یعنی مختلف حصو ں کو جوڑ کر ایک مربوط نظام قائم کرنے میں انہیں آج تک کامیابی نہیں ملی۔ اب ایک تھری ڈی مشین ان کے ہاتھ میں آئی ہے۔ طرح طرح کے پرزے ، آلات ، جسمانی اعضاءانہی مشینوں پر بنانے کا کام جاری ہے۔ کہتے ہیں انہی مشینوں پر دل جگر اور پھیپھڑے بھی تیار ہوں گے ابھی تو سائنسدانوں نے خون کی نالیاں بنانے میں دن رات ایک کر دیا ہے انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ معاملے کو آگے کیسے بڑھایا جائے۔ انہوں نے بائیو پرنٹنگ ٹشو تیار کرلیے ہیں ان بائیو پرنٹنگ ٹشوز میں خون کو دوڑانے ابھی ممکن نہیں ہوا انہی نالیوں سے فاضل معاہدے کا اخراج کیسے ہوگا ان پر ابھی کام جاری ہے۔ ان دونوں نظاموں کے بغیر یہ تمام ٹشو اور خلیے اپنی موت آپ مر جائیں گے تاہم فی الحال یہ پیش نظر رہے کہ خون کی بڑی نالیوں میں تو خون دوڑانے میں کچھ کامیابی حاصل کر لی ہے اور باریک اور چھوٹی نالیوں میں دوران خون خون جاری کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ بائیو میٹریل سائنس نامی جریدے میں رائس یونیورسٹی اور بے لور کالج کے محققین نے ایک ریسرچ میں خون کی نالیاں بنانے کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے تھری ڈی پرنٹنگ مشینوں پر باریک باریک سوراخ دینے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے اور ان میں انتہائی باریک ٹیوبوں کے ذریعے خون کی نقل و حرکت پیدا کریں گے ابھی انہوں نے سبرین Fibrinنامی پروٹین بنانے میں بھی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہ پروٹین دوران خون کے جماﺅ کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ اس طرح انہوں نے سیمی سنتھیٹک ، جیلی ٹین میٹھا کرائلیٹ بنا لیا ہے۔ بلکہ یہ بہت آسانی سے بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بون میرو میں پائے جانے والے سٹیمسیل کی مدد سے خون کی باریک نالیاں بنانے میں بھی کچھ کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان خلیوں میں خون کی باریک نالیاں بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ قدرتی طور پر سبرین کے ذریعے سے بھی ممکن ہے اور اس کے لیے جیلیٹین میٹھا کرائلیٹ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ اس طرح مستقبل میں تھری ڈی پرنٹنگ مشینیں ٹشو انجینئرنگ میں بھی استعمال ہوں گی۔ سائنسدانوں کے خیال میں یہ تھری ڈی پرنٹنگ مشینوں کے ذریعے بنائے گئے اعضا جسم کے مدافعتی نظام کی موجودگی کے باعث پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی مدافعتی نظام ان اعضاءپر حملہ آور ہو گا اور اس سے بچانا فی الحال انسان کے لیے ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خشک سالی سے نجات مینڈکوں کی شادی کرانے سے ہوگی