bilwal

بچوں کے تحفظ کے بل کی قائمہ کمیٹی نےمنظوری دے دی،اب قومی اسمبلی میں زیر بحث آئے گا، پھر قانون بنے گا

EjazNews

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ’’زینب الرٹ بل ‘‘کی منظوری دے دی ہے۔اس کمیٹی کا اجلاس بلاول بھٹو زرداری کی سربراہ میں ہوا۔اس کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ اس بل کے پاس ہونے کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل صرف اسلام آباد میں لاگو ہوگا۔وفاقی سطح کے بعد صوبائی اسمبلیوں کو بھی زینب الرٹ بل پاس کرنا چاہیے تاکہ بچوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اجلاس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور حکومت پاکستان کے عالمی سطح پر مسئلے کو اجاگر کرنے کے اقدامات، ایف آئی اے کی جانب سے الیکٹرونک کرائمز بل کے تحت کاروائیوں اور زینب الرٹ بل زیر غور آئے۔کمیٹی نے زینب الرٹ بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انسانی حقوق کمیٹی تو بل منظور کر رہی ہے لیکن حکومت یہ بل قومی اسمبلی میں پیش نہیں کر رہی۔بلاول بھٹو نے امید ظاہر کی کہ زینب الرٹ بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
بلاول بھٹوزرداری کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے آزادی صحافت کے حوالے سے ایف آئی اے کی وضاحتوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا جب بات سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سماجی رضاکاروں کو ہراساں کرنے کی ہو تو ایف آئی اے فوراً حرکت میں آجاتی ہے۔ لیکن جب بات خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز کی ہو تو ایف آئی اے اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کرتی۔
گزشتہ دور حکومت میں ریپ کے بعد قتل کی جانے والی قصور کی سات سالہ بچی زینب کے نام سے بل وفافی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے پیش کیا تھا۔ بل کا مقصد 18 سال سے کم عمر لاپتہ اور اغوا شدہ بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین واضع کرنا ہے۔بل کے متن کے مطابق اسلام آباد میں تحفظ طفل ایکٹ 2018کے تحت ادارہ قائم کیا جائے گا۔ زارا یعنی زینب الرٹ رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی کا قیام بھی بل کا حصہ ہے۔بچوں سے متعلق معلومات کے لیے پی ٹی اے، سوشل میڈیا اور دیگر اداروں کے تعاون سے ہیلپ لائن اور ایس ایم ایس سروس بھی شروع کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ڈائریکٹر جنرل قومی کمیشن برائے حقوق طفل متعلقہ ڈویژن کی مشاورت سے سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں بھی تشکیل دے گا۔گمشدہ بچوں کے حوالے سے ڈیٹا فراہم کرنے میں تاخیر پر سرکاری افسروں کو ایک سال تک قید کی سزا بھی ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  2018ءمیں کس رکن اسمبلی نے کتنا ٹیکس ادا کیا تھا